عمران کا جے یو آئی پر فرقہ واریت کا الزام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے کا رروائی کا مطالبہ

عمران کا جے یو آئی پر فرقہ واریت کا الزام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے کا ...

  



اسلام آباد (آئی این پی،صباح نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جے یو آئی بنوں میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے لہٰذاوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو متعصب اقدام کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روزسماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ جے یو آئی بنوں میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی جس پر وزیراعلیٰ کے پی کے کو متعصب اقدام کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ دنیا کے کسی اور ملک میں اگر پاناما کیس جیسا سکینڈل چل رہا ہوتا تو اصولا وہاں کا وزیرِ اعظم کیس کا فیصلہ آنے تک اقتدار سے الگ ہو جاتا کیونکہ حکومت اور کیس کو ایک ساتھ نہیں چلایا جا سکتا جبکہ ٹرین حادثوں میں بھی وزیر کو الگ ہونا پڑتا ہے تا کہ شفاف محکماتی تحقیقات ہو سکیں۔عمران خان نے کہا کہ مسئلہ حکومت کا نہیں وزیرِ اعظم کا ذاتی ہے،مسلم لیگ(ن) بوکھلاہٹ میں عجیب حرکتیں کر رہی ہے اور پی ایس ایل فائنل لاہور میں کروانا اس کی ایک مثال ہے کیونکہ کرکٹ کو سمجھتا ہوں اس لئے اس ڈرامے کو بھی جانتا ہوں۔حکومت کے اس اقدام سے دنیا کوغلط پیغام گیا کہ یہاں حالات اتنے خراب ہیں کہ سکیورٹی کیلئے سب کچھ بند کرنا پڑا۔ پرویز خٹک کے پشاور زلمی کو دو کروڑ انعام دینے پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ پرویز خٹک کا اپنا معاملہ ہے تاہم میں ہوتا تو اس پیسے کو کرکٹ کے میدان بنوانے میں لگاتا۔پاناما لیکس کے ممکنہ فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن کم از کم نواز شریف اور ان کی فیملی نے مانا ہے کہ لندن پراپرٹیاں ان کی ہیں۔ لیکن انہوں نے اس کا کوئی منی ٹریل نہیں دیا۔ اگر قطری خط بھی جعلی نکلا تو اس پر جھوٹی گواہی کا چارج بھی لگتا ہے۔ قطری ان کا بزنس پارٹنر ہے اسے پورٹ قاسم پراجیکٹ دیا گیا جس کی لاگت دو سو ارب روپے ہے۔ عمران خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف نے پہلے عدلیہ کیلئے قدم اٹھایا پھر دھاندلی کے خلاف نکلے اور اب میڈیا پر پابندی کیخلاف بھی آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ تحریکِ انصاف سوشل میڈیا کے بغیر نہیں ابھر سکتی تھی جبکہ ڈکٹیٹر شپ بچانے کیلئے سب سے اہم میڈیا پر پابندیاں ہیں۔ فاٹا کے انضمام پر عمران خان نے کہا کہ اس میں بہت مشکل ہو گی لیکن اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں ہے۔ حکومت کی دو باتیں ماننے کیلئے تیار ہیں۔ ایک یہ کہ انضمام ہو اور دوسرا فاٹا میں لوکل گورنمنٹ کا قیام باقی چیزیں گورنر اور اس کے نیچے کونسلز ہونے سے ہم اتفاق نہیں کرتے اس میں وزیرِ اعلی کا کوئی نام ہی نہیں ہے۔عمران خان نے اپنے سیاست میں آنے کی وجہ یہ بتائی کہ ملکی سیاست میں بڑھتی کرپشن نے مجبور کیا کہ میں سیاست میں آؤں۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس ملک میں اربوں کی کرپشن کرنے والوں کو نہیں پکڑ سکتے تو بے چارے ہزاروں کی چوری کرنے والوں سے جیلیں کیوں بھری ہوئیں ہیں انہیں بھی رہا کر دینا چاہیے۔

مزید : صفحہ اول