سینیٹ اجلاس ، ارکان کا سمگلنگ روکنے اور کھیلوں کے فروغ کیلئے اتھارٹی بنانے کا مطالبہ

سینیٹ اجلاس ، ارکان کا سمگلنگ روکنے اور کھیلوں کے فروغ کیلئے اتھارٹی بنانے ...

  



اسلام آباد (این این آئی)اراکین سینیٹ نے کہا ہے کہ سمگلنگ سے ملکی معیشت اور عوام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ،فوری روکنے کی ضرورت ہے ،ایف بی آر کو سمگلنگ اور کرپشن سے بے تحاشا نقصان ہوتا ہے، ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی بجائے سمگلنگ کو روکا جائے جبکہ وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا ہے کہ حکومت سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کئی اقدامات کر رہی ہے مگرسب نے مل کر نمٹنا ہے ۔ سینیٹ اجلاس میں گزشتہ روز محسن عزیز نے تحریک پیش کی کہ یہ ایوان الیکٹرانکس ٹیکسٹائل مصنوعات اور دیگر سامان کی سمگلنگ اور باڑہ مارکیٹوں میں ان کی فروخت ،جس کے مقامی صنعت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘ ان کی فروخت سے پیدا ہونے والی صورتحال کو زیر بحث لائے۔ تحریک پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سمگلنگ نے ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے،ہر جگہ مارکیٹیں سمگل شدہ سامان سے بھری ہیں اور اب جو سمگلنگ ہو رہی ہے یہ سڑکوں کے ذریعے ہو رہی ہے اور تمام سرحدی و دیگر چیک پوسٹوں سے گزر کر آتا ہے جبکہ پاکستان کو صرف سمگلنگ کی وجہ سے تین ارب ڈالر کا نقصان ٹیکسوں میں ہوتا ہے لہٰذاسمگلنگ کے خلاف بھی آپریشن ہونا چاہیے۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ایف بی آر کو سمگلنگ اور کرپشن سے بے تحاشا نقصان ہوتا ہے۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی بجائے سمگلنگ کو روکا جائے۔ سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ ملک میں جتنی سمگلنگ ہو رہی ہے وہ ملی بھگت سے ہو رہی ہے۔ نعمان وزیر نے کہا کہ جاپان والے حیران ہیں کہ ان کی اشیاء افغانستان آتیں اور آگے کہاں چلی جاتی ہیں۔ سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ سمگلر معاشرے کا باعزت شخص بن چکا ہے۔ نہال ہاشمی نے کہا کہ سمگلنگ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کا فرض کہ وہ غیر قانونی مارکیٹیں ختم کریں تاکہ بیروزگاری کا خاتمہ ہو۔رحمان ملک نے کہا کہ سمگلنگ کی اصل وجہ ایس آر اوز ہیں جو ہر حکومت نے جاری کئے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سمگلنگ کا تدارک اس لئے نہیں ہو رہا کہ تمام حکومتیں کسی نہ کسی حد تک اس لعنت میں شامل رہی ہیں۔ سینیٹر ثمینہ عابد نے کہا کہ ہمیں محض تنقید برائے تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ہم صرف بحث کرتے ہیں کوئی اس حوالے سے تجاویز تو سامنے نہیں آئی۔ تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ سمگلنگ کے خلاف کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ہم سب کو مل کر اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔ اس معاملے کے حل کے لئے تمام جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے ٗحکومت نے ایک اینٹی سمگلنگ حکمت عملی بنائی ہے تاکہ تمام ادارے مل کر اس کام کو کرسکیں۔ متعلقہ اداروں کو اختیارات دیئے گئے ہیں۔ صوبائی پولیس،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپروچ کیا گیا ہے اور اگرکوئی ٹریلر کہیں رک جائے یا روٹ سے ہٹ جائے تو اس کو سختی سے چیک کیا جاتا ہے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے پی سی بی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرکٹ کی افسوس ناک صورتحال ذمہ دارپی سی بی ہے ۔ کلثوم پروین نے کہا کہ ملک میں کرکٹ کی افسوس ناک صورتحال کا ذمہ دار پی سی بی ہے۔کلثوم پروین نے کہا کہ شاید متعلقہ وزیر مافیا کے سامنے بے بس ہیں ٗپی سی بی کو اربوں روپے ملتے ہیں، کھیلوں پر 10 فیصد بھی خرچ نہیں ہوتے۔ اس موقع پر سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ملک میں آج کرکٹ اور ہاکی تباہی کے کنارے پر ہیں، پی سی بی کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے۔سینیٹر میاں عتیق نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پی سی بی میں سیاست چل رہی ہے، بچے میدانوں میں جانے کی بجائے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔سینیٹر سستی پلیجو نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، ہمارے یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، پسند و نا پسند کی وجہ سے صوبوں کی نمائندگی نہیں ہوتی۔اس موقع پر سینیٹر کلثوم پروین نے مطالبہ کیا کہ کھیلوں کے فروغ کیلئے ایک اتھارٹی بنائی جائے۔

مزید : صفحہ آخر