کروڑوں کی میگا کرپشن، ملوث افسروں، ٹھیکیداروں کیخلاف کارروائی روکنے، اشتہاریوں کی فائلیں غائب کرنے کا انکشاف

کروڑوں کی میگا کرپشن، ملوث افسروں، ٹھیکیداروں کیخلاف کارروائی روکنے، ...

  



لاہور( ارشد محمود گھمن//سپیشل رپورٹر) اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر سمیت صوبائی دارالحکومت اورپنجاب بھر کے صوبائی اداروں کے گریڈ20 سے زائد کے کروڑوں روپے کی میگا کرپشن میں ملوث اعلیٰ افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی روکنے اور اشتہاریوں کی فائلیں غائب کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ایسے کئی افسران کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب اور صوبائی حکومت کو فرضی اجازت طلب کئے جانے کے نام پر فائلیں بھی داخل دفتر کردی گئی ہیں۔وفاق اور پنجاب حکومت کے کئی ایم این ایز، ایم پی ایز ، وزراء سمیت اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران کے ملوث پائے جانے کا امکان ہے۔ ڈی جی بریگیڈیرریٹائرمظفر حسین رانجھاکو بھی ماتحت عملے نے سب اچھا کی رپوٹیں پیش کرنا اپنا وتیرہ بنا لیا ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ،اسی وجہ سے سائلین نے وزیر اعلیٰ شکایات سیل اور عدالتوں کا رخ کرنا معمول بنا لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 2010ئسے لے کر2016ء تک اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر،صوبائی دارالحکومت اورپنجاب بھر کے اضلاع سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، نارووال ، فیصل آباد، شیخوپورہ سمیت لاہور اور دیگر اضلاع میں صوبائی اداروں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ،لوکل گورنمنٹ، سی اینڈ ڈبلیوڈیپارٹمنٹ ، محکمہ ایری گیشن، پنجاب پولیس، ایجوکیشن ، ہیلتھ اور ضلعی حکومتوں کے خلاف مبینہ طور پراربوں روپے کے سرکاری فنڈز میں کروڑوں روپے کی خورد برد اور بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں کئی ٹھیکیدار سابق ایم این ایز، ایم پی ایز ، سابق تحصیل و ضلعی ناظمین کے خلاف اینٹی کرپشن کو تحریری درخواستیں بھجوائی گئیں جن کے خلاف کئی مقدمات بھی درج کئے گئے اور کئی مقدمات کی اجازت طلب کئے جانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب اورچیف سیکرٹری پنجاب کو تحریری اجازت نامے بھجوائے گئے مگر اس وقت کے موجودہ حکمرانوں کے بااثر ایم این ایز، ایم پی ایز ،وزراء نے اپنے اثرو رسوخ سے کارروائی رکوا دی اور اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران نے سیاسی اثرو رسوخ کے خلاف اختیارات کو استعمال نہ کرتے ہوئے فائلیں داخل دفتر کر دیں اور نہ ہی کوئی کارروائی کی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن بر یگیڈ یر (ر) مظفر حسین رانجھا بھی اپنی بے بسی میں ایسی فائلیں اوپن نہ کروا سکے کیوں کہ ان کا ماتحت عملہ انہیں اصل حقائق سے آگاہ نہیں کرتا ،ذرائع کے مطابق اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریجن لاہور ڈاکٹر فرہان زاہد اور ڈپٹی ڈائریکٹر فرانزک لیبارٹری ہیڈکوارٹرمیاں نعیم الرحمن سمیت دیگر افسران کی پشت پناہی حاصل ہونے کے باعث میگا کرپشن جیسے کیسوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ،اس وجہ سے سائلین نے انصاف حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ عدالتوں کا رخ کر نے لگے ہیں۔ اسی طرح کی ایک سائلہ زرینہ عباسی نے بھی پرنسپل گورنمنٹ گرلز کالج راولپنڈی (مری) کے خلاف کارروائی کے لئے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی تھی مگر اس کے باوجود بھی صوبائی حکومت کے اہم رکن کی سفارش پر اس وقت کے ڈی جی اینٹی کرپشن کارروائی کرنے کے لئے بے بس تھے، اس حوالے سے ترجمان اینٹی کر پشن کا کہنا ہے کہ ہر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی اینٹی نے وزیراعلیٰ کے ویژن کے مطابق پنجاب بھر میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے بڑے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈال کر ان کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے اور اب بھی ایسے کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی ۔

مزید : صفحہ آخر