آوارہ کتے شہریوں کیلئے خطرہ بن گئے ہیں ،کوکب اقبال

آوارہ کتے شہریوں کیلئے خطرہ بن گئے ہیں ،کوکب اقبال

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کے گلی کوچوں سے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازوں نے بچوں ، بیماروں اور بزرگوں کی نیندیں غائب کردی ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں آوازہ کتے شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں ۔ موٹر سائیکلوں پر سوار رات گئے جب پولیس والوں سے جان چھڑا کر اپنے گھر کی طرف رُخ کرتے ہیں تو گلی کوچوں میں موجود آوازہ کتے انکے پیچھے بھاگتے ہیں جس سے روزانہ کئی حادثات رونما ہورہے ہیں۔ کراچی کی کسی ڈی ایم سی نے گزشتہ سالوں سے کتوں کو ہلاک یا شہر سے باہر چھوڑنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔ میئر کراچی اور تمام ڈی ایم سی کے چیئرمین شہریوں کو آوارہ کتوں سے مکمل نجات کا فوری بندوبست کریں تاکہ شہری آرام کی نیند سوسکیں۔ یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے انتہائی اہم موضوع پر بلائے گئے اجلاس سے اپنے دفتر میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پورے شہر کے مختلف علاقوں سے انہیں فون کالز موصول ہورہی ہیں جس میں شہری مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں شہر میں لاکھوں کی تعداد میں موجود آوارہ کتوں سے نجات دلائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ جب اس سلسلے میں متعلقہ ڈی ایم سی سے رابطہ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ جو زہر کتوں کو دیا جاتا ہے اس کے لیے فنڈ موجود نہیں ہیں یا کہا جاتا ہے کہ جو دوا کتوں کے لیے خریدی گئی ہے اس کا اثر کتوں پر نہیں ہورہا جس کی وجہ سے آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ دوا کتوں کو ختم کرنے کے بجائے ان کی افزائش نسل کا باعث بن رہی ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ میئر کراچی فوری طور پر پورے کراچی سے آوارہ کتوں کو ختم کرنے کے احکامات دیں اور اس کے لیے باقاعدہ طور پر کام شروع کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لگتا ہے کہ چیئرمین ڈی ایم سی کو کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی نہیں دے رہی یا پھر انہوں نے اپنے کان بند کر رکھے ہیں۔کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے خود ڈی ایم سی سینٹرل کے چیئرمین ریحان ہاشمی سے ایک مہینے پہلے رابطہ کیا تھا مگر ابھی تک انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے حکومت سندھ اور میئر کراچی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آوارہ کتوں سے شہریوں کو نجات دلائی جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...