بھارتی واٹرکمیشن کی مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے،ابراہیم قریشی

بھارتی واٹرکمیشن کی مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے،ابراہیم قریشی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان بزنس فورم نے پاکستان کی جانب سے بھارت کو انڈس واٹر معاہدے تصفیئے کے حوالے سے مذاکرات کی دی جانے والی دعوت کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت ان مذاکرات میں بھارتی کمشنر کو مقبوضہ کشمیر میں 15ارب ڈالرز مالیت کے فاسٹ ٹریک ہائیڈرو پراجیکٹ سے باز رکھے کیونکہ ان ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو پانی کی فراہمی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔اے پی بی ایف کے صدر ابراہیم قریشی کا کہنا ہے کہ بھارتی واٹر کمیشن کے کمشنر کی جانب سے پاکستانی حکام کی مذاکرات کی دعوت قبول کرنا خوش آئند ہے اور پاکستا ن کیلئے موقع ہے کہ وہ ان مذاکرات میں بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈیم کی تعمیر کے منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے اور انڈس واٹر معاہدے کے مطابق اپنے حصے کے جائز پانی کی فراہمی کا مطالبہ کرے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کی دعوت قبول کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو اس معاہدے کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہے اور وہ بھی اب اسی معاہدے کے میکا نزم کے تحت اس معاملے کو حل کرنے کا خواہاں لگتا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں چھ ڈیموں کی تعمیر کا منصوبہ رکھتا ہے جس سے تین ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی ،بھارتی حکام کی جانب سے یہ تمام ڈیم دریائے چناب پر تعمیر کئے جارہے ہیں جس سے پاکستان کو پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوگی،ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ 1960کے انڈس واٹر معاہدے کے تحت دونوں اطراف کے حکام کو سال میں کم از کم ایک مرتبہ اجلاس منعقد کرنا ہوتا ہے،تاہم اس معاہدے کے بعد سے دونوں حکام پانی کے مسئلے پر 112مرتبہ میز پربیٹھ چکے ہیں،ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں پاکستانی حکام کو 330میگا واٹ کے کشن گنگا ڈیم اور 850میگا واٹ کے Ratleہائیڈرو پاور پلانٹس کی تعمیر پر بھی اعتراضات اٹھانے چاہئیں،ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس پانی کے مسئلے کے حل کا یہ انتہائی نادر موقع ہے اور ہمیشہ کیلئے اس مسئلے کے خاتمے کیلئے دونوں اطراف سے سنجیدگی دکھانی چاہیئے ،پاکستان کا شمار زرعی ملک میں کیا جاتا ہے اور زراعت کیلئے پانی کی دستیابی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی گروپس کو بھارت کی جانب سے انتہائی تغیرات والے علاقوں میں شروع کئے گئے منصوبوں کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی سوالات کرنا چاہئیں کہ کیا ان منصوبوں میں قواعد و ضوابط کا خیال رکھا گیا ہے کہ نہیں ، گو کہ ان منصوبوں کی تکنیکی منظوری دی جاچکی ہے،ان منصوبوں میں ساولکوٹ،کوار،پکال ڈل،برسر اور کیرتھائی ون اور ٹو شامل ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...