صارفین کی خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں‘جسٹس (ر)ماجدہ رضوی

صارفین کی خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں‘جسٹس (ر)ماجدہ رضوی

  



کراچی(اکنامک رپورتر) صوبہ سندھ کے تمام اضلاع کی ما تحت عدالتوں میں صارفین کی خصوصی عدالتیں قائم کی جانی چاہیے جس کے لیے تمام اسٹیک ھولڈرز بشمول صارفین کی تیظیموں کو ساتھ ملا کر باہمی ربط کے ساتھ حکومت کی مشینری کو بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے جس سے صوبے اور ملک کی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا اور ہم خوشحالی کی طرف گامزن ہونگے ان خیالات کا اظہارجسٹس (ر)ماجدہ رضوی ، چیئر پرسن ہیومن رائٹس کمیشن ، سندھ نے پاکستان میں صارفین کی اہمیت کے حوالے سے ہونے والے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ سیمینار کا اہتمام کنزیو مرس آئی پاکستان اور ہ یلپ لائن ٹرسٹ نے IPO پاکستان کے ساتھ مل کر کنزیومر وائس پاکستان ، ڈیئری اینڈ کیٹل فارمرز ایسو سی ایشن، کنزیومر وائس میگ اور نیشنل سٹیزن فورم کے تعاون سے کیا تھا۔ جسٹس ماجدہ رضوی نے ہیلپ ٹرسٹ کے بانی حمید میکر اور چیئر مین کنزیو مرس آئی پاکستان عمر غوری کی پاکستانی صارفین کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی میاں زاہد حسین صدر پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچول فورم PBIF نے اپنے خطاب میں کہا آج ملک بھر کے تاجر جعلی اشیاء کی کھلے عام تیاری او ر فروخت کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں جس سے ہماری معاشی ترقی پر بہت منفی اثر پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے تاجروں کونہ صرف اپنے کاروبار بلکہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے صارفین کی اہمیت کا ادراک ہوچکا ہے۔انہوں کہا شہرتو شہردیہی آبادیوں میں بھی آج ملاوٹ شدہ اشیاء کی بھر مار ہے جس سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں حکومت کو اس جانب فوری توجہ مبذول کر نی ہوگی ۔ انہوں نے کہا پاکستان میں صارفین بدترین حالت میں ہیں کیو نکہ وہ اپنے حقوق سے ناآشنا ہیں۔نہوں نے TCEP کی عوامی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ سیمینار سے اپنے کلیدی خطاب میں چیئر مین کنزیو مرس آئی پاکستان، عمر غوری نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ محمد زبیر سے مطالبہ کیا کہ سندھ میں فی ا لفور صارف عدالتیں قائم کی جائیں ۔سندھ ملک کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں اب تک صارفین عدالتوں کا قیام عمل میں نہ آسکا۔ جس کی وجہ سے سندھ میں بڑھتی ہوئی جعلی مصنوعات و اشیاء صارفین اور مینوفیکچررزکے لیے عذاب بنتی جا رہی ہیں اور یہ نہ صرف عام صارفین کی صحت و زندگی بلکہ ملکی معیشت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے آج سارے ملک کے بازاروں میں کھلے عام مضر صحت اشیاء کے فروغ سے عوام موذی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں ۔عمر غوری نے اس حوالے سے صحافیوں کے کا م کی تعریف کی اور ان کی صارفین کیلئے خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہیلپ لائن ٹرسٹ کے بانی ٹرسٹی حمید میکر نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں سیمینار میں شرکت کرنے والے تمام مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آج عالمی یومِ صارفین2017 ساری دنیا کے ممالک میں منایا جارہا ہے جس کا مقصد صارفین کو ان کے حقوق سے آگاہی فراہم کرنا اور ان کو بااختیار بنانے کے لیے جدوجہدکرنا ہے۔ یہ دن ہرسال 15مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس دن ساری دنیا میں صارفین تنظیمیں مختلف پروگرامز منعقد کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ سیمینارمیں شامل تمام NGO's متحد ہو کر پاکستانی صارفین کے ساتھ ہونے والی ہر نا انصافی کے خلاف مشترکہ طور پر جدوجہد کر تی رہی ہیں اور ان کا مقصدپاکستانی بازاروں میں فروخت ہونے والی ملاوٹ شدہ، غیر رجسٹرڈ اور جعلی اشیاء کی تیاری اور درآمد بند کروانا ہے۔۔ کنزیومر وائس پاکستان کے صدر راسم خان نے ملک میں ملاوٹ شدہ اشیاء غیر معیاری مصنوعات کے خلاف حکومت سے فوری اقدامات لینے کا مطالبہ کیا صدر ڈیئری اینڈ کیٹل فارمرز ایسو سی ایشن شاکر عمر گجرنے اپنے خطاب میں ملک میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے کے لیے اپنی تجاویز دیں اور اس کے معیار ی ہونے کی ضرورت پر زور دیا سیمینار سے دیگر خطاب کرنے والوں میں ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلیکچول پراپرٹی رائٹس پاکستان وحید احمد شیخ، کنسلٹنٹ انٹرو کنیکٹ ہارون رشید ، CEOون ایپل طاہر رضوی اور NCFکے صدر سید اقبال شہاب شامل ہیں جنہوں نے سیمینار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سیمینار کے منتظمین کو کامیاب سیمینار انعقاد پر مبارکبا د دیتے ہوئے اپنے بھر تعاون کا یقین دلایا ۔ سیمینار میں سرکاری آفیشلز، سول سوسائٹی کے ارکان اور کارپوریٹ سیکٹر کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...