ملی بھگت جامعہ کراچی میں غیر قانونی رکشوں کی بھر مار

ملی بھگت جامعہ کراچی میں غیر قانونی رکشوں کی بھر مار

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی غیر قانونی رکشوں کی آماجگاہ بن گیا۔ جامعہ کے 70 سے زائد ملازمین نے انتظامیہ کی ملی بھگت سے شٹل سروس کے بجائے نجی رکشے متعارف کروادیے۔ طلبہ وطالبات سے من مانے کرائے وصول کئے جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے اس معاملے پر آنکھیں بند کرلیں۔ ذرائع کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں طلبہ وطا لبات کو داخلی دروازوں سے مختلف ڈپارٹمنٹ تک پہنچانے کیلئے جامعہ کی حدود میں انتظامیہ10پوائنٹ کو روٹ سے آنے کے بعد شٹل سروس کے طور پر چلاتی ہے جوکہ جامعہ آنیوالے طلبہ و طالبات کیلئے ناکافی ہیں جس کے بعد جامعہ کے ملازمین نے انتظامیہ کی ملی بھگت سے جامعہ کی حدود میں رکشے چلانے شروع کردیے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...