ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ز ہسپتالوں کے بہتر انتظاماتو انصرام کے لئے ہیلتھ مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ز ہسپتالوں کے بہتر انتظاماتو انصرام کے لئے ہیلتھ مینجمنٹ ...

  



پشاور( سٹاف رپورٹر )محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کورٹرز ہسپتالوں کے لئے سات رکنی ہیلتھ منیجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کمییٹیوں کے تشکیل کی اصولی منظوری دے دی ہے ۔ ڈویژنل کمشنرز اپنے متعلقہ اضلاع کے ہسپتالوں کے بننے والی کمیٹیوں کے سربراہ ہونگے ۔ دیگر ممبران میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹس کے علاوہ پیشہ ورانہ پس منظر اور اچھی شہرت کے حامل چار غیر جانبدار مقامی افراد شامل ہونگے ۔ یہ اقدام صحت کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہے جس کاک مقصد مقامی لوگوں کو ان ہسپتالوں کے انتظامی امور اور پالیسی سازی میں شامل کرکے اُن کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو مقامی سطح پر علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ یاد رہے کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے بڑے تدریسی ہسپتالوں کے نجی شعبے کے غیر جانبدار اور اچھی شہرت کے حامل لوگوں پر مشتمل بورڈز آف گورنر ز پہلے ہی سے تشکیل دے چکی ہے جسے ان ہسپتالوں کے طبی، انتظامی اور مالی معاملات میں واضح بہتری آئی ہے ۔ہیلتھ منیجمنٹ کمیٹیوں کے غیرسرکاری ممبران کے چناؤ کے لئے سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روزسنیئر صوبائی وزیر صحت شہرام تراکئی کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا ۔ سیکریٹری صحت کے علاوہ ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس میں شرکت کی جس میں ان کمیٹیوں کے غیر سرکاری ممبران کے لئے مجوزہ ناموں پر تفصیلی غورو حوض کیا گیا ۔اجلاس کے شراکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے ان کمیٹیوں کی تشکیل کو ضلعی سطح کے ہسپتالوں معاملات کو بہتر بنا کر لوگوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان کمیٹیوں کے لئے اچھی شہرت اور پیشہ ورانہ پس منظر کے حامل غیر جانبدار اور غیر سیاسی لوگوں کے نام تجویز کئے جائیں ۔ اجلاس میں ان کمیٹیوں کے غیر سرکاری ممبران کے چناؤ کے لئے مجوزہ مختلف ناموں پر تفصیلی غورو خوص کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اگلے ہفتے سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی کا ایک اور اجلاس بلا کر مجوزہ ناموں کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کے بعد اُن کے چناؤ کا باقاعدہ اعلامیہ جارہ کیا جائے گا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر