گستاخانہ مواد کیس کی سماعت کرنیوالے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے کمرہ عدالت میں وکلاءاورپولیس کے درمیان جھگڑا

گستاخانہ مواد کیس کی سماعت کرنیوالے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے کمرہ ...
گستاخانہ مواد کیس کی سماعت کرنیوالے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے کمرہ عدالت میں وکلاءاورپولیس کے درمیان جھگڑا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیس کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے کمرہ عدالت میں وکلاءنے ہنگامہ برپا کردیا اور وکلاءاور پولیس کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق جسٹس شوکت عزیزصدیقی کا کمرہ عدالت اس وقت جھگڑے کا گڑھ بن گیا جب اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی ہڑتال کے باعث وکلاءنے سائلین کو عدالت کے دروازے پر روکدیا جبکہ جسٹس شوکت صدیقی نے سماعت جاری رکھی ۔بار کے عہدیداران طیش میں آگئے اور سماعت روکنے کی کوشش کی جس پر وکلاءاور پولیس کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔

فیس بک پر دوستی، نوجوان لڑکی لڑکے سے ملنے گاﺅں سے شہر آگئی، لیکن پھر اسے دیکھتے ہی لڑکے نے کیا کام کیا؟ کبھی خوابوں میں بھی نہ تصور کیا تھا کہ۔۔۔

چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ بے مقصد ہڑتال سائلین سے ظلم کے متراد ف ہے،عدالتوں کو زبردستی کارروائی سے روکنا غیر قانونی ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلاءخود قانون کو ہاتھ میں لیں گے تو انصاف کیسے ہوگا۔جسٹس شوکت نے مدعی کو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے واسطے عدالت کو کام کرنے دیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...