پینتیسویں قسط۔ ۔ ۔ فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز

پینتیسویں قسط۔ ۔ ۔ فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز
پینتیسویں قسط۔ ۔ ۔ فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز

  



ہم نے بتایا ہے کہ پاشا صاحب بہت بڑے ’’ شو مین ‘‘ تھے۔ وہ پبلسٹی کافن جانتے تھے۔ ان کی فلم شروع ہوتے ہی ان کے بیانات اور انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھاجن میں وہ کہتے تھے کہ اگلی فلم ان کی بہترین فلم ہو گی۔ وہ شاندار سیٹ لگواتے تھے اور ہر طرف ان کی زیر تکمیل فلم کا چرچا رہتا تھا۔ فلم کی ریلیز کے موقع پر ڈھول تاشے بجاتے ہوئے تانگوں پر سوار لوگ اس فلم کے سائن بورڈ لگا کر سارے شہر میں گشت کرتے تھے۔ جس دن فلم نمائش کے لیے پیش کی جاتی تھی اس روز ان کے اسٹاف کے لوگ ہار پھول اور آتش بازی کے گولے لے کر سینما پہنچ جاتے تھے۔ ادھر فلم ختم ہوتی اور لوگ ’’ واہ واہ۔ کیا بات ہے ‘کہتے ہو ئے باہر نکلتے اور ادھر گولے چلنے شروع ہو جاتے اور دور دور تک فضادھماکوں سے گونج اٹھتی۔ سب کو پتا چل جاتا کہ پاشا صاحب کی فلم ریلیز ہوئی ہے اور ہٹ ہو گئی۔ پاشا صاحب سنیما سے باہر نکلتے تو انہیں پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا جاتا اور جلوس کی صورت میں دفتر تک لے جایا جاتا تھا۔ تمائشائیوں کا ہجوم بھی اس میں شامل ہو جاتا۔ فلم کے بہت سے اداکار بھی اس موقعے پر موجود رہا کرتے تھے۔

چونتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پاشا صاحب کے ستارے عروج پر تھے۔ اس لئے صرف لاہور ہی نہیں سارا پاکستان انور کمال پاشا کا دیوانہ تھا۔ مگر جب ستاروں نے رخ پھیرا تو کامیابی نے بھی منہ موڑ لیا اور پھر یکے بعد دیگرے ان کی فلمیں فلاپ ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ بطور ہدایت کار دوسرے فلم سازوں کے لیے فلمیں بنانے لگے مگر کوئی فلم کامیاب نہ ہو سکی۔

آغا جی اے گل کی فلم ’’محبوب‘‘ کے وہ ہدایت کار تھے۔ اس فلم میں رانی کو پہلی بار پیش کیا گیا تھا۔ شمیم آرا اس کی ہیروئن تھیں۔ فلم میں سبھی بڑے اسٹار ز اور موسیقار موجود تھے مگر پاشا صاحب کے دن بدل گئے تھے اس لئے فلاپ ہو گئی۔

ان کی آخری فلم غالباً پنجابی فلم ’’آخری بلٹ‘‘ تھی جو خالی کار توس ہی ثابت ہوئی۔ پاشا صاحب اس کے بعد منصوبے ہی بناتے رہے فلم نہ بنا سکے۔

ہم نے پاشا صاحب کے انتہائی عروج کا زمانہ بھی دیکھا تھا۔ اسٹوڈیو میں ان کی کار داخل ہونے سے پہلے ان کا عملہ اطلاع کر دیتا تھا ’’میاں صاحب یا پاشا میاں ‘‘ آ رہے ہیں۔ سب مؤدب کھڑے ہو جاتے۔ وہ اندر داخل ہوتے تو ہر طرف ہٹو بچو کا شور مچ جاتا۔ ہر ایک کی نگاہ ان کی طرف ہوتی تھی۔ سب کو خبر ہو جاتی تھی کہ پاشا صاحب آرہے ہیں۔ آخری دنوں میں ہم نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایورنیو اسٹوڈیو میں معمول کے مطابق لوگوں کا ہجوم ہے۔ پاشا صاحب چپ چاپ ان ہی لوگوں کے درمیان میں سے نکل کر جا رہے ہیں اور کوئی پلٹ کر نہیں دیکھتا۔

ان کی تین چار فلمیں فلاپ ہونے کے بعد ایک بار ان کی نئی فلم کے گانے کی صدا بندی کے موقعے پر ہم بھی موجود تھے۔ جیسے ہی گانے کی ٹیک ختم ہوئی ہر طرف ’’واہ واہ ‘‘ کا شور مچ گیا۔ جسے دیکھئے پاشا صاحب کو بڑھ بڑھ کر مبارک باد پیش کر رہا تھا۔ موسیقار سے لے کر سازندوں تک سبھی ’’بہترین‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ پاشا صاحب نے سب کو خاموش کر دیا اور کہا ’’چپ ہو جاؤ۔ بند کرو یہ فضولیات۔ ہر گانے اور ہر فلم پر تم اسی طرح تعریف کرتے ہو مگر فلم فلاپ ہو جاتی ہے۔ مجھے پتا ہے کہ تم سب خوشامدی ہو۔ ‘‘

مگر افسوس کہ پاشا صاحب کو یہ راز بہت دیر بعد معلوم ہوا۔ اس کے بعد تقدیر کے جھٹکوں نے انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

پاشا صاحب اپنی بعض بشری کمزوریوں کے باوجود ایک انتہائی ذہین اور باصلاحیت آدمی تھے۔ خوش شکل‘ خوش لباس اور جب جی چاہتا تو بے حد خوش اطوار۔ ہمارا بھی ان سے پہلے بطور صحافی اور بعد میں مصنف کے طور پر واسطہ پڑا۔

اس سے پہلے سبطین فضلی صاحب کا تذکرہ ہو چکا ہے۔ وہ کئی سال قبل مرحوم ہو چکے ہیں۔ بہت باغ و بہار قسم کے آدمی تھے۔ انتہائی خوش اخلاق‘ خوش گو اور خوش لباس۔ بہت خاندانی آدمی تھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی سبطین فضلی اور ان کے بھائی حسنین فضلی نے کلکتہ میں ایک فلم ساز ادارہ ’’فضلی برادران‘‘ کے نام سے قائم کیا تھا اور بہت ہٹ فلمیں بنائی تھیں۔ ’’قیدی‘ چورنگ، عصمت‘‘ وغیرہ ان کی مشہور فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ فضلی برادرز عموماً معاشرتی موضوعات پر مسلم سوشل فلمیں بناتے تھے جو ہندوستان کے مسلمانوں کو تو پسند آتی ہی تھیں‘ دلچسپی اور معیار کی وجہ سے ہندو بھی انہیں بہت ذوق و شوق سے دیکھتے تھے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی فضل احمد کریم فضلی تھے۔ وہ بھی بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے اور قیام پاکستان سے پہلے انڈین سول سروس میں تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں آگئے اور بہت اعلیٰ عہدوں پر کام کرتے رہے۔ وہ بہت اعلیٰ ادبی ذوق کے مالک تھے۔ بہت اچھے شاعر اور نثر نگار تھے۔ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں انہوں نے ایک ناول بھی لکھا تھا جسے اپنے موضوع اور معیار کی وجہ سے ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔ فضل کریم فضلی صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے فنون لطیفہ کے شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر کراچی میں ایک فلم ساز ادارہ قائم کیا اور ’’چراغ جلتا رہا‘‘ بنائی۔ اس کی کہانی‘ مکالمے اور گانے ان ہی کے تحریر کردہ تھے۔ اس فلم کی قابل ذکر خوبی یہ ہے کہ اس میں زیبا‘ محمد علی اور دیبا کو پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا۔ اس فلم کے ہیرو طاہر تھے اور محمد علی نے اس میں ویلن کا کردار ادا کیا تھا مگر قسمت کی بات دیکھئے کہ محمد علی بعد میں بڑے ہیروبن گئے اور ’’چراغ جلتا رہا ‘‘ کے ہیرو کے نام سے آج کوئی بھی واقف نہیں ہے۔

فضل کریم فضلی کے بھائی حسنین فضلی نے کراچی میں ’’وفا‘‘ کے نام سے ایک فلم شروع کی تھی کہ اس کے دوران میں ان کا انتقال ہو گیا۔ سبطین فضلی لاہور میں رہتے تھے جہاں انہیں ایک سنیما میں حصہ الاٹ ہوا تھا۔ فلیٹ بھی ملا تھا۔ معاش کی طرف سے بے فکری تھی اس لئے وہ منصوبے زیادہ بناتے رہے۔ فلمیں صرف تین ہی بنائیں۔ ان کی پہلی فلم ’’دوپٹہ‘‘ تھی جس میں نور جہاں کے ساتھ ایک نئے ہیرو کو اجے کمار کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔ سدھیر اور زرینہ ریشماں نے بھی اس فلم میں کام کیا تھا۔ فیروز نظامی نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ یہ فلم 1952ء میں ریلیز ہوئی تھی اور بے حد کامیاب رہی تھی۔ وسائل اور دیگر سہولتوں کے فقدان کے باوجود یہ بہت معیاری فلم تھی۔ اس فلم کی ریلیز کے بعد بمبئی کے فلم اخبارات نے لکھا تھا کہ انڈیا کے فلم سازوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ’’دوپٹہ‘‘ جیسی فلمیں بننے لگی ہیں۔ یہ فلم بھارت میں بھی بھیجی گئی تھی مگر متعصب ہندوؤں نے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اس سنیما میں آگ لگا دی جہاں یہ فلم ریلیز ہوئی تھی اور دھمکی دی کہ سارے بھارت میں جہاں بھی اس کی نمائش ہو گی اس سنیما کو جلا دیا جائے گا۔ اس طرح بھارت میں پاکستانی فلموں کی نمائش کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا لیکن بھارت کے فلم ساز ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ ان کی فلمیں پاکستان میں درآمد ہوں اور وہ یہاں سے دولت کمائیں۔ یہاں انہیں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے لالچی اور مفاد پرست عناصر بھی مل جاتے تھے۔ جو لوگ پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندیوں کے خلاف بولتے ہیں انہیں یہ علم نہیں ہے کہ یہ مسئلہ دراصل کیا ہے۔ پاکستانی فلم ساز ہمیشہ یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اگر بھارتی فلمیں پاکستان آئیں تو پاکستانی فلمیں بھی بھارت جائیں مگر بھارتی فلم ساز یک طرفہ کاروبار کے قائل رہے ہیں۔

’’دوپٹہ‘‘ کے بعد اگر پاکستانی فلمیں بھارت جانے لگتیں تو پاکستان کی فلمی صنعت کا حلیہ ہی بدل جاتا۔ دراصل اس وقت صحیح معنوں میں پاکستانی فلم سازوں میں مقابلے کا جذبہ اور بہترین فلمیں بنانے کا احساس پیدا ہوتا۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد سے یہ مقصد حل نہیں ہو سکتا تھا۔

دوپٹہ کے زمانے میں نورجہاں اپنے شباب پر تھیں۔ اداکاری بھی انہوں نے بہت اچھی کی تھی۔ فضلی صاحب کی ہدایت کاری بھی اعلیٰ درجے کی تھی۔ اس فلم کے نغمے آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔

چاندنی راتیں

سب جگ سوئے ہم جاگیں

تاروں سے کریں باتیں

اسی فلم کا نغمہ ہے۔ اس فلم کے نغمات مشیر کاظمی نے لکھے تھے۔ نغمات اچھے لکھتے تھے مگر انہیں زیادہ کام نہ مل سکا۔ اس گانے کی شان نزول وہ یہ بتاتے تھے کہ سخت کڑکی اور مفلسی کے دن تھے۔ یہاں تک کہ فاقہ کشی تک نوبت پہنچ گئی تھی۔ گرمیوں کی چاندنی رات تھے۔ وہ صحن میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ بھوک کے مارے نیند آنکھوں سے دور تھی اور وہ کروٹیں بدل رہے تھے۔ اس عالم میں ان کے دل کی آواز ان اشعار کے ذریعے ان کی زبان پر آگئی۔

چاندنی راتیں

سب جگ سوئے ہم جاگیں

تاروں سے کریں باتیں

ان کے ان ہی جذبات کا عکاس نغمہ تھا۔ صبح تک سارا نغمہ مکمل ہو گیا۔ وہ یہ گیت لے کر فضلی صاحب کے دفتر میں پہنچ گئے۔ انہوں نے گیت سنا اور بہت پسند کیا۔ اس گیت کا معاوضہ انہیں پچاس روپے ملا تھا۔

جاری ہے۔ چھتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ