بتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

بتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی ...
بتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

  



تذکرہ نوشاہیہ میں ہی لکھا ہے کہ ایک روز آپ نے صاحبزادہ سید برخوردارؒ کو زمیندار کے پاس کنوئیں کی باری حاصل کرنے کیلئے بھیجا۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ میرا کنواں گرانے کیلئے طلب کرتے ہیں۔

سید برخوردارؒ نے تمام ماجرا حضور کی خدمت میں آ کر بیان کر دیا، آپ نے فرمایا ’’جو کچھ اس نے کہا ہے وہی ہو گا‘‘

مرزا احمد بیگؒ لکھتے ہیں کہ صبح جب زمیندار کنوئیں پر گیا تو دیکھا کہ سب کنواں گر چکا ہے ۔اس کنوئیں کو اس واقعہ کے بعد کئی بار اس نے تعمیر کیا لیکن جب اسے مکمل کرا لیتا گر جاتا ۔

سید محمد حیات برخورداری نے لکھا ہے کہ ایک روز حضرت نوشہ گنج بخشؒ نے ایک زمیندار کے پاس سید برخوردار کو بیلوں کیلئے بھیجا۔ اس کی عورت نے کہا کہ ہمارے بیل ہلاک کرنے کیلئے مانگتے ہو کسی اور کے لیجاؤ۔

اکتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سید برخوردار نے حضور کی خدمت میں آ کر التماس کی کہ ا س کی عورت نے ایسا کہا ہے۔ آپ نے فرمایا ’’جیسا اس نے کہا ہے ویسا ہی ہو گا‘‘ اسی وقت اس کے دونوں بیل بیہوش ہو گئے ۔یہ دیکھ کر وہ عورت مع خاوند کے بارگاہ عالیہ میں آ کر فریادی ہوئی۔

حضرت سیدنوشہ گنج بخشؒ نے حکم دیا کہ سید برخوردار کو ہمراہ لے جاؤ اور یہ ان بیلوں پر پانی کے چھینٹے ماریں ۔چنانچہ سید برخوردارؒ ان کے ساتھ ان کے گھر گئے ۔ایک بیل تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو چکا تھا لیکن دوسرا پانی کے چھینٹوں سے تندرست ہو گیا۔

تذکرہ نوشاہیہ میں ذکر ہے کہ رحمت اللہ ساکن موضع نون جب آپ کی بیعت سے مشرف ہوا تو اسے تمام درختوں کے پتوں سے اللہ ہو کی آواز آنے لگی ۔

محمد امین نبیرہ ساہنپال سے منقول ہے کہ آپ نے خیر دینؒ باغبان کو دعا دی اور فرمایا کہ سومرض موت رنجے وزحمتے دردے دوائے نخواہد بو دومدام تادم حیات توشیبرک در خانہ تو مہیا خواہد ماند۔ کہ سو مرضِ موت کوئی رنج زحمت درد اور بیماری تجھے نہ ہو گی اور تیری زندگی میں تیرے گھر سے کھلا دودھ ختم نہ ہو گا چنانچہ حضور کے ارشاد کے مطابق خیر دینؒ جب تک زندہ رہا کسی بیماری میں مبتلا نہ ہو اور نہ ہی اس کے گھر سے کبھی دودھ ختم ہوا۔

حضرت سیدنوشہ گنج بخشؒ کے خلیفہ جناب حافظ معموریؒ فرماتے ہیں ایک روز میرے دل میں خیال آیا کہ یہ جو مشہور ہے کہ محشر کے دن لوگ اپنے اپنے پیشواؤں کے ساتھ ہوں گے اور ہر پیشوا کو اس کے مرتبہ کے موافق علم دیا جائیگا حضور سے دریافت کروں گا کہ آیا یہ بات درست ہے یا نہیں۔

چنانچہ اسی روز رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک میدان میں بے شمار مخلوقات جمع ہیں، میں نے ایک آدمی سے پوچھا کہ یہ کیسا ہجوم ہے؟ اس نے جواب دیا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج یوم محشر ہے۔

اس کے بعد میری نظر ایک عَلم پر پڑی جو سب علموں سے بلند تھا۔ میں نے پوچھا یہ جھنڈا کیسا ہے؟ کسی نے کہا’’ یہ غوث الاعظم محبوب سحبانی حضرت سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے‘‘

میں نے پھر اس سے پوچھا ’’ مجدد اعظم حضرت نوشہ گنج بخشؒ کا بھی عَلم ہو گا‘‘

اس نے کہا ہاں اور پھر مجھے بتایا کہ وہ علم جو سب علموں سے بلند اور غوث پاک کے علم سے تھوڑا پست ہے وہ حضرت نوشہ گنج بخشؒ کا ہے۔ یہ سن کر میں فوراً اس علم کے نیچے جا پہنچا۔ دیکھا کہ حضور ایک تخت پر جلوہ افروز ہیں اور دیگر یاران بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے جب سلام کیا تو حضور نے سلام کا جواب دیکر فرمایا ’’ معموریؒ آؤ بیٹھ جاؤ‘‘ ابھی میں بیٹھا ہی تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔

جب میں میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ مجھے دیکھ کر تبسم ہوئے اور فرمایا ’’اے معموریؒ یہ درست ہے کہ قیامت کے دن ہر صاحب گروہ صاحب علم ہو گا اور اس کے ماننے والے اس کے علم کے نیچے ہونگے‘‘

حضرت مرزا احمد بیگؒ لکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ

’’جہاں میری اولاد جائے گی میں ان کے ہمراہ جاؤں گا۔ جو شخص میری اولاد کے ساتھ نیکی کرے گا اور اللہ تعالٰی سے اس کیلئے نیکی کراؤں گا اور جو ان کے ساتھ بدی کرے گا میں خدا تعالٰی سے اس کی گرفت کرواؤں گا‘‘میری اولاد کا حکم قیامت تک جاری رہے گا۔

تذکرہ نوشاہیہ میں لکھا ہے’’حضرت نوشہ گنج بخشؒ فرماتے تھے کہ اس ولایت کے بارگوں کا حکم ان کی زندگی تک ہے اور میری اولاد کا حکم قیامت تک رہے گا اور یہ ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو بوساطت حضرت سخی شاہ سلیمان نوری مجھے پہنچا ہے‘‘

مرزا احمد بیگؒ لکھتے ہیں ’’میری اولاد کا جو ایک دام نقصان کرے گا اس کے تیرہ دام نقصان ہوں گے‘‘۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ