بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو شہید کرنیوالوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے،فریقین کو معاملہ عدالت کے باہر حل کرنے کا مشورہ

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو شہید کرنیوالوں کے سامنے گھٹنے ٹیک ...
بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو شہید کرنیوالوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے،فریقین کو معاملہ عدالت کے باہر حل کرنے کا مشورہ

  



نئی دہلی(صباح نیوز)بھارتی سپریم کورٹ انتہا پسندوں کے سامنے بے بس ہوگئی۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنے والوں کے خلاف فیصلہ دینے سے انکار کردیا۔چیف جسٹس جے ایس کھیہر کا کہنا ہے کہ اگر فریقین راضی ہوں تو وہ کورٹ کے باہر ثالثی کرنے کو تیار ہیں۔

یہ معاملہ مذہب اور عقیدے سے منسلک ہے۔ فریقین کو باہمی بات چیت سے معاملہ سلجھانا چاہئے۔بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی عبادت گاہ بابری مسجد کو شہید کرنے کے کیس میں انتہا پسند ہندﺅوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنے والوں کے خلاف فیصلہ دینے سے انکار کرتے ہوئے بابری مسجد اور رام مندر متنازع معاملے کو عدالت سے باہر حل کرنے کا مشورہ دے دیا۔بھارتی چیف جسٹس نے 25 سال سے تاخیر کے شکار کیس میں رضاکارانہ طور پرخدمات پیش کر دیں۔ سپریم کورٹ نے بی جے پی کے رہنما سبرامنین سوامی کو حکم دیا ہے کہ وہ ایودھیا کیس پر 31 مارچ سے پہلے کورٹ سے باہر بات کریں اور اسے فریقین کی مدد سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق رکھنے والے فراری کمانڈر نے 20 ساتھیوں سمیت پنجاب رینجرز کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے

انتہا پسند رہنما سبرامنین سوامی نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ رام مندر ہر صورت بنا کر رہیں گے،انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی جگہ ہندوئوں کو دی جائے اور مسلمان دریا کنارے مسجد تعمیر کر لیں۔ ادھر سبورامیان سوامی نے بھارتی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسجد دریائے سرایو کے کنارے تعمیر کر کے بابری مسجد والی جگہ ہندوئوں کو دیدینی چاہئے۔ بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 کو انتہاپسند ہندوں نے شہید کر دیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...