فوج کی قربانیوں کو ضائع مت کریں

فوج کی قربانیوں کو ضائع مت کریں
فوج کی قربانیوں کو ضائع مت کریں

  



دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے فوجی عدالتوں کا ترمیمی بِل ا سمبلی بہت جلد پاس ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ مسودے پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ دو سال قبل ہم نے مُلک کی بہتری کے لئے اور دہشت گردی پر قابُو پانے کے لئے عالمِ مجبوری میں فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دِی تھی۔ لیکن دو سال کے گُزر جانے کے بعد بھی حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی و اقع نہیں ہوئی۔ آئین وفاق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ فوجی عدالتوں سے جمہوری روا یات کی نفی ہوتی ہے۔ ہم اِس بِل کو منظور کرکے اُن تمام ججوں اور اشخاص کی قرُبا نیوں کی تحقیر کریں گے جنہوں نے جمہوری نظام کو بچانے کے لئے مار شل لاء اور فوجی عد التوں کی مخالفت میں اپنا سب کُچھ داؤ پرلگا دیا۔ لیکن مُلکی حالت کے پیش نظر ہم ایک بار پھیر فوجی عدالتوں کے ترمیمی بل کو منظور کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ فوجی قیادت ماضی میں کی گئیں غلطیوں کو نہ دہرائے۔ اور ہم سے معافی مانگے۔ پشتونوں کے ساتھ بد سلُوکی کو ختم کیا جائے۔ اُن کیخلاف امتیازی کاروائی کو رُوکا جائے۔ پشتون لوگوں کے لئے چِپ والے شنا ختی کارڈوں کے اجراء کو رُوکا جائے۔ ایسے عمل سے قوم مزید ٹکروں میں بٹ جائے گی۔ تاہم انہوں نے چند ایک تحفظات کے ساتھ مذکورہ بِل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا۔ اِس کے بعد شیخ رشید نے عوامی لیگ کی نمائیندگی کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہاکہ حکومت کو چاہئے تھا عدلیہ کے نظام کو فعال بنانے کے لئے ٹھوس اور قابِل عمل اصلاحات نافذ کرتی لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ جس سے فوجی عدالتوں کے بِل میں توسیع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ لیکن حکومت نے اٹھارہ لاکھ زیر التواء مقدمات کو نمٹنانے کے لئے کُچھ نہیں اور نہ ہی جج کی تعناتی کے فرسودہ نظام کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔

پیپلز پارٹی فو جی عدالتوں کی تو سیع دینے کے خلاف تھی۔ وُہ فوجی عدالتوں کی اہمیت سے مُنکر نہیں لیکن وُہ اِس بَل کی حمائت کے بدلے حکومت سے اہم مطالبات منوانا چاہتی تھی۔ کراچی میں رینجرز کی کار وا ئیوں سے پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری اور اُن رہنماؤں کے انکشافات نے پیپلز پارٹی کی ساکھ کو خاظر خواہ نُقصان پہنچایا ہے۔ڈا کٹر عاصم اور عذیر بلوچ نے حیرت انگیز بیان دے کر ثابت کیا ہے کہ کراچی کی گئی دہشت گردی کی کاروائیوں کے پیچھے زرداری صاحب کے احکامات کار فرما تھے۔ اِس طرح ڈاکٹر عاصم نے اپنے ہسپتال میں طالبان اور دہشت گردوں کو علاج معا لجہ فراہم کرنے کے جُرم کو تسلیم کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا اِن تمام کاررو ائیوں کے پیچھے زرداری صاحب کا ہاتھ تھا۔ اِن مُلزموں کو بچانے اور چُھڑوانے کے لئے پیپلز پارٹی نے حکومت سے در پردہ رجو ع کیا اور حکومت نے اُنکو رہا کرنے کے لئے وقت ما نگا۔ لیکن نواز حکومت فوجی قیادت سے مخالفت مول لینا نہیں چاہتی اور نہ ہی یہ تا ثر دینا چاہتی ہے کہ وُہ پیپلز پارٹی کیساتھ خاص مفاہمت رکھتی ہے۔ حا لانکہ یہ ایک کھُلا راز ہے جس کو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ فوجی قیادت سے اِن لوگوں سے اِن کے عزایم کیسے چھُپے رہ سکتے ہیں؟۔لیکن بد قسمتی سے اِن دنوں میں پاکستان نے کے سابقہ سفیر نے ایک مضمون لکھ کر پاکستان پیپلز پارٹی کے عزایم کی قلعی کھول دِی۔ انہوں نے ایبٹ آباد کے حوالے سے اپنی یادد اشتوں کو تازہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے سابق صدر جناب زرداری کے منظوری سے سی آئی اے اور بلیک واٹر تنظیم کے کار کنوں کو اسامہ کا کھوج لگانے کے لئے ویزے جاری کئے۔ وزارت خارجہ کے قواعد کے مُطابق، ایسے ویزے جاری کرنے کے لئے وزارتِ خارجہ کے وزیر یا سیکرٹری خارجہ کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اطلاعات کے مُطابق حسین حقانی صاحب نے براہ رست منظوری صدر سے حاصل کی۔ واقفاںِ حال کے مُطابق، حسین حقانی نے ایک دفعہ پھر یہ تاثر دیا ہے کہ کہ پاکستان میں سول حکو مت بر ائے نام ہے جبکہ مُلک میں فوج کی مر ضی کے بغیر کُچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ با الفاظِ دیگر ، پاکستان کی فوج کو سبق سکھا نے کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ اُنکی مالی امداد کو مشروط کردے۔ فوج کی قیادت حسین حقانی کی اِس حرکت سے ناخوش ہے۔ اور فوجی کی یہ سوچی سمجھی پالیسی ہے کے وُہ مُلک کے ساتھ غداری کرنے والوں کو کبھی نہیں بخشے گی۔ لہذا حسین حقانی کے اِس مضمون نے نواز شریف کی حکومت کے لئے آسانی پیدا کر دی کہ وہ فوجی ایکٹ میں ترمیم پر نہ چاہتے ہوئے بھی را ضی ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماء نوید قمر نے زُور دیا کہ فوجی عدالتوں میں ملُزمان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا آزادانہ موقعہ دیا جانا چاہیے اور مُلزمان کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وُہ اپنے وکیل کے ساتھ عدالت کے سامنے اپنی صفائی پیش کر سکے۔ فوجی عدالتوں کو انسانی حقوق کی پاسداری کرنا ہوگی ۔ ا نہوں نے کہا کہ حکومت سے مفاہمت کے مُطابق پارلیمانی سلامتی کمیٹی بنائے جائی گی جو فوجی عدالتوں کی نگرانی کرے گی۔ پیپلز پارٹی کے اہم رہنماء نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مخصوص حالات کے پیش نظر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسع کے لئے رضامندی پر اتفاق کیا ہے۔ہم مار شل لاء اور فوجی عدالتوں کے اصولی طور پر خلاف ہیں۔ کم و بیش انہی خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے پارلیما نی لیڈر جناب محمود قریشی صاحب نے کیا۔ تاہم امید ہے کہ یہ بِل باہمی رضامندی سے منظور کر لیا جائے گا۔ ہر سیاسی پارٹی اپنی موقف بیان کرنا اپنا جمہوری حق سمجھتی ہے۔ لہذا سب کے خیالات کا سُننا ایک قانونی تقاضا ہے۔ تاہم در پردہ تمام پارلیمانی لیڈروں سے اِس بِل کے سلسلے میں مفاہمت عمل میںأ چُکی ہے۔

ایک اہم بات جس کی وضاحت کرناضروری ہے ،وُہ یہ کہ سیاستدانوں کے بیانات سے یہ تا ثر ابھُرتا ہے کہ شائد فوجی قیادت عدالتوں چلانے میں خاص دلچسپی رکھتی ہے۔ یا وُہ شریک اقتدار بننا چا ہتی ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ فوج سول حکومت کے کا موں میں خواہ مخواہ اُلجھنے کا شوق رکھتی ہے۔ فوج ہمیشہ سول حکومت کی در خواست پر ہی اپنا تعاون دیتی ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی سوِل حکومت فوج سے تعاون چاہتی ہے تو یہ ایک قسم کا اعتراف ہو تا کہ سوِل حکومت مسائل کو کو حل کرنے کے لئے اپنے طور پر بے بس ہو چُکی ہے۔ جمہوری حکومت میں فوج کی دخل اندازی کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اور فوجی عدالتوں کے قیام سے مُلک میں عدلیہ کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔ لیکن مُلک میں افراتفری پر قا بُو پانے اور جلد انصاف فراہم کرنے کے لئے ا یسے اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے جس کو نظریہ ضرورت کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنا محدود مُدت کے لئے ہوتا ہے۔ لیکن اِس عمل کو بر قرار رکھنا اِس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ حکومت نے اپنا ہوم ورک نہیں کیا۔ پاکستان کی سیاست کی بد قسمتی یہ ہے کہ سیاستدان اپنی کمزوریوں کو چھُپانے کے لئے فوج کے طرف بھاگتے ہیں اور جب فوج مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اُس کے اختیارات کو سلب کرنے کے لئے فوج خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہمارے سیاستدان با صلاحیت ہیں تو انہیں فوج کو سول مسائل میں ملوث نہیں کرنا چاہئے۔ اصل میں حقیقت یہ ہے کہ ہم فوج کی مد دکے بغیر مُلک میں امن و امان قایم نہیں رکھ سکتے۔ ہماری پولیس فنی اعتبار سے اِس قابل نہیں کے وُہ جد ید اسلحے سے لیس دہشت گردوں کا مُقا بلہ کر سکے۔ اُنکے پاس مطلوب اسلحہ اور تربیت نہیں ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کی فوجی قیادت کی قُربانیوں کی قدر کی جائے اور اِس تاثر کی نفی کی جائے کے فوج اقتدار میں حصہ دار بننے کا شوق رکھتی ہے۔ ایسی یاوہ گوئی سے فوج کے مورال پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ اپنی خامیوں اور کو تا ہیوں کو چھُپانے کے لئے فوج کوبدنام نہ کیا جائے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...