’اس پاکستانی سے میرا تعلق قائم ہوا تو چند دن بعد ہی اُس نے مجھے مارنا شروع کردیا، میں اس پر شکایت کرتی تو وہ کہتا کہ۔۔۔‘ زیادتی کا نشانہ بننے والی نوجوان یورپی لڑکی نے ایسی بات بتادی کہ سن کر جج بھی شرماگیا

’اس پاکستانی سے میرا تعلق قائم ہوا تو چند دن بعد ہی اُس نے مجھے مارنا شروع ...
’اس پاکستانی سے میرا تعلق قائم ہوا تو چند دن بعد ہی اُس نے مجھے مارنا شروع کردیا، میں اس پر شکایت کرتی تو وہ کہتا کہ۔۔۔‘ زیادتی کا نشانہ بننے والی نوجوان یورپی لڑکی نے ایسی بات بتادی کہ سن کر جج بھی شرماگیا

  



لندن (نیوز ڈیسک) برطانوی شہر روتھر ہیم میں سینکڑوں نوعمر لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے گینگ کے سرغنہ کی درندگی کا کئی سال تک نشانہ بننے والی لڑکی نے بالآخر اپنی شناخت سے پردہ اٹھاتے ہوئے لرزہ خیز انکشافات کردئیے ہیں۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق گروہ کے سرغنہ پاکستانی نژاد شخص ارشد حسین کے خلاف قانونی کارروائی کے دوران اس لڑکی کا فرضی نام جیسیکا بتایا گیا تھا، لیکن اب اس نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اس کا اصل نام سیمی ووڈ ہاﺅس ہے۔ سیمی کی عمر 31 سال ہے لیکن جب وہ ارشد حسین کے چنگل میں پھنسی تو محض 14 سال کی تھی، اور اس وقت ارشد حسین کی عمر 24 سال تھی۔

بھارتی خاتون کو نوکری کا جھانسا دے کر انسانی سمگلروں نے جنسی غلام بنا دیا

سیمی نے بتایا ”میں پہلی ملاقات میں ہی اس کے سحر میں مبتلا ہوگئی تھی۔ ارشد حسین کے ساتھ دوستی کا آغاز تو بہت اچھا تھا لیکن چند روز بعد ہی اس نے مار پیٹ شروع کردی۔ میں جب بھی اس سے شکایت کرتی تو وہ کہتا ’تم سے بہت محبت کرتا ہوں، اسی لئے تمھیں مارتا ہوں۔ کیا تم چاہتی ہو کہ تم سے محبت کرنا چھوڑ دوں؟‘ اگرچہ وہ روزانہ مجھ پر تشدد کرتا تھا لیکن میں اس سے دور نہیں ہوپارہی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اس نے مجھ پر جادو کردیا تھا۔ وہ میرے لئے ایک نشے کی طرح تھا جسے میں چاہنے کے باوجود بھی چھوڑ نہیں پارہی تھی۔

ا گرچہ میں نوعمر تھی لیکن وہ مجھے بکثرت زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ ہم لوگ ہوٹلوں، پارکوں، اس کی رہائش گاہ، غرضکہ ہر جگہ ملتے اور اکٹھے وقت گزارتے تھے۔ میں کئی کئی دن تک اپنے گھر سے غائب ہوجاتی تھی اورکئی بار مجھے برہنہ حالت میں اس کے کمرے سے نکالا گیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس نے مجھے اپنے قابو میں کرکے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ سماجی ادارے بھی میرے ساتھ ہونے والے سلوک سے آگاہ تھے لیکن کوئی بھی کچھ نہیں کرپایا۔ میں ان تمام لوگوں کو قصور وار سمجھتی ہوں جو بدترین جرائم کا علم ہونے کے باوجود خاموش رہے۔ “

جنسی زیادتی کے نتیجے میں سیمی 15 سال کی عمر میں حاملہ ہو گئی اور اس کے ہاں ایک بیٹے نے جنم لیا۔ وہ کہتی ہے کہ اگرچہ ارشد حسین نے اسے جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا لیکن اسے لگتا ہے کہ دل کا ایک گوشہ ہمیشہ اس سے محبت کرتا رہے گا کیونکہ وہ اس کے بیٹے کا باپ ہے۔ ارشد حسین پر مقدمہ چلایا گیا اور رواں سال فروری میں اسے 35 سال قید کی سزا ہوچکی ہے۔ اس کے گینگ کے دیگر ارکان میں سے بھی اکثر سزا پاچکے ہیں جبکہ کچھ کے خلاف قانونی کارروائی تاحال جاری ہے۔

واضح رہے کہ روتھر ہیم شہر میں 1997ءسے 2013ءکے درمیان 1400 سے زائد نوعمر لڑکیوں کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایا گیا۔ اگست 2014ءمیں جاری کئے جانے والی ’دی جے رپورٹ‘ کے مطابق ان جنسی جرائم کا ارتکاب ایشیائی باشندوں کے ایک گینگ نے کیا، جس کا سرغنہ ارشد حسین تھا۔ اس کے دو بھائی بھی گینگ کا حصہ تھے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...