شرجیل میمن نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ،ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ،وفاقی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی سے ڈیموں میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر آگئی :وزیر اعلیٰ سندھ

شرجیل میمن نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ،ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ...
شرجیل میمن نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ،ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ،وفاقی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی سے ڈیموں میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر آگئی :وزیر اعلیٰ سندھ

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے کہاہے کہ شرجیل میمن نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ، وہ قانون کا سامنا کرنے آئے ہیں ،ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ،وفاقی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر آگئی ہے جس کے نتیجے میں سندھ میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ،اس صورتحال میں سندھ کا زرعی شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوگا اور سب سے زیادہ کوٹری بیراج کے کمانڈ ایریا کے کاشت کاروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، اویس مظفر ٹپی کی وطن واپسی کا علم نہیں ، تاہم یہ ان کا ملک ہے جب چاہیں واپس آئیں۔

 وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ  میں  پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے سید مراد علی شاہ  نے کہا کہ سندھ حکومت پانی کے مسئلے کے حل کے لئے کوشاں ہے،سندھ میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے سندھ کے لئے پانی کا 50فیصد کوٹہ کم کیا گیا ہے،وفاق کو مسلسل خط لکھتے رہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی جمع کریں امید ہے کہ وفاق ہماری بات سن کر مسائل حل کریگا،پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پانی کے دو بڑے ذخائر تربیلا اور منگلا ڈیڈ لیول پر آ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں پانی کی صورتحال سے متعلق وفاقی وزارت پانی و بجلی کو خط لکھے ہیں اوربد انتظامی کی انتہا ہوگئی کہ منگلا ڈیم کو بھی خالی کر دیا ،دو سال پہلے 61بلین ، سیکٹر فٹ پانی تھا اور ہمیں وفاقی اداروں پر بھروسہ نہیں ،سب سے زیادہ صوبہ سندھ پانی کی قلت کا شکار ہوا ہے اورسندھ کے کاشتکاروں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیلا ڈیم میں پانی سطح گر گئی ہے اور اسے بروقت نہیں بھرا گیا، وفاقی حکومت کو پانی کے بحران سے متعلق تفصیلی خط کل ارسال کر دینگے وفاق نے سند ھ میں پانی کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور اس کے ادارے واپڈا نے ہمیشہ سندھ میں بجلی گھروں کے قیام میں رکاوٹیں ڈالی ہیں، کچھ عرصہ قبل سابق صدر آصف علی زرداری اور انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی اور نوری آباد میں پاور پلانٹ لگانے کی اجازت دینے کے لئے کہا تھا ،ڈیڑھ سال کی جدوجہد کے بعد وزیراعظم کی جانب سے سندھ حکومت کو لیٹر آف انٹنڈ ملا لیکن چار ماہ بعد اچانک یہ لیٹر منسوخ کردیا گیا اور منسوخی کی اطلاع بھی ہمیں حیسکونے دی اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمارے پاس اضافی بجلی ہے اس لئے کسی نئے پاور پلانٹ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

شرجیل انعام میمن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ سیدمرا د علی شاہ نے کہاکہ کسی کے خلاف کوئی کیس ہے تو قانون کے مطابق کاروائی کی جائے اورعدلیہ کو احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر نوٹس لینا چاہیے، شرجیل میمن کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنا میرا معاملہ ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شرجیل انعام میمن قانون کا سامنا کرنے پاکستان واپس آئے ہیں ،ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہیئے،شرجیل نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ ان لوگوں نے قانون کامذاق اڑایا جنہوں نے عدالتی احکامات کی پروا کئے بغیر انہیں اسلام آباد ائیر پورٹ پر حراست میں لیا تھا ،ذمہ داروں کو اس عمل کی سزا ملنی چاہیئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے شکوہ کیا کہ اسلام آباد ائیرپورٹ پر شرجیل کے ساتھ آنے والے صوبہ سندھ کے چار صوبا ئی وزراء کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی جو مناسب طرز عمل نہیں ہے۔

مزید : کراچی


loading...