حلقہ بندیوں پر اعتراضات۔۔۔الیکشن کمیشن کا خوش آئند اعلان

حلقہ بندیوں پر اعتراضات۔۔۔الیکشن کمیشن کا خوش آئند اعلان

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات صرف کمیشن ہی سُنے گا، کام کا دباؤ بڑھ جائے گا،لیکن ہم کوشش کریں گے کہ مقررہ وقت میں اعتراضات نپٹانے کے لئے رات تک بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے،تمام اعتراضات ضلع کی بنیاد پر سُنے جائیں گے،الیکشن کمیشن میں پیر کے روز انتخابی ضابط�ۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں سے متعلق کیس کی سماعت ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کی، کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل شاہد گوندل نے سوال کیا کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا، کیونکہ800 سے زیادہ اعتراضات آ چکے ہیں اس پر کہا گیا کہ اعتراضات صرف الیکشن کمیشن ضلع کی بنیاد پر سُنے گا۔

حلقہ بندیاں انتخابی نظام کی پہلی بنیادی سیڑھی ہے، چونکہ انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق ہو رہے ہیں،بعض صوبوں کی نشستیں بڑھ گئی ہیں اور بعض کی کم ہو گئی ہیں اِس لئے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت محسوس کی گئی ہے، جس انداز میں نئے حلقے بنائے گئے ہیں اُن پر مختلف نوعیت کے اعتراضات کئے گئے ہیں اِس لئے یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ اگر اعتراضات نپٹا کر حلقہ بندیوں کو وقتِ مقررہ کے اندر حتمی شکل نہ دی گئی تو بروقت انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو گا، تاہم الیکشن کمیشن نے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بوجھ جتنا بھی بڑھ جائے اس کام کو وقت پر نپٹایا جائے گا،جو بھی اعتراضات کئے گئے ہیں اُن کی سماعت ضلع وار ہو گی، پورے ملک میں اضلاع کی تعداد ایک سو کے لگ بھگ ہے،اِس لئے کام تقسیم کر کے اعتراضات نپٹائے جائیں تو ایک دن میں کئی کئی اضلاع کی حلقہ بندیوں کے کام کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ مقامِ اطمینان ہے کہ الیکشن کمیشن نے یہ عزم ظاہر کر دیا ہے کہ دن رات کام کرنا پڑا تو بھی اِس کام کو بروقت نپٹایا جائے گا تاکہ محض اِس بنیاد پر الیکشن کا التوا نہ ہو سکے۔

دراصل جن حلقوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ انتخابات وقت پر نہ ہوں کسی نہ کسی بہانے التوا کا شکار ہو جائیں، لمبی مدت کی غیر منتخب اور غیر آئینی نگران حکومتیں بن جائیں اور اِن حکومتوں میں کچھ مخصوص لوگوں کو اذنِ بار یابی حاصل ہو جائے، اِس لئے وہ لوگ جو زندگی بھر کسی انتخاب میں کامیابی کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے اِس بہانے نگران حکومت کا حصہ بن کر جھنڈے والی گاڑیوں میں پھرنے کی حسرت پوری کر سکیں۔ یہ حلقے روزانہ اُٹھ کر کوئی نہ کوئی ایسی اڑچن تلاش کرتے ہیں،جس کی تان اِس بات پر توڑی جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے تو الیکشن بروقت نہیں ہو سکتا،حالانکہ حلقہ بندیوں کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن نے ہی کرنا ہے،اس پر جو بھی اعتراضات ہیں اُن کی حیثیت کا تعین بھی الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، یہ فیصلہ بھی وہ کرے گا کہ جو اعتراضات کئے جا رہے ہیں اُن میں سے کتنے جائز ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو اعتراض برائے اعتراض کی ذیل میں آتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جن کے پردے میں کسی کی یہ خواہش چھپی ہے کہ اس کام میں بلاوجہ تاخیر ہو تاکہ الیکشن کے التوا کا بہانہ میسر ہو سکے،لیکن جس ادارے نے کام کرنا ہے اُس نے تو کہہ دیا ہے کہ وہ دن رات کام کر کے یہ کام نپٹا دے گا تاکہ حلقہ بندیوں کا کام بروقت تکمیل پذیر ہو سکے اور محض اس بنیاد پر کسی کو اپنی درخواست لے کر عدالت میں نہ جانا پڑے کہ حلقہ بندیاں درست نہیں ہو سکیں۔

کئی سیاست دان مسلسل یہ بیانات دے رہے ہیں کہ اُنہیں انتخابات وقتِ مقررہ پر ہوتے نظر نہیں آتے،ان بیانات میں دراصل اُن کی یہ خواہش جھلکتی ہے کہ انتخابات نہ ہی ہوں تو اچھا ہے ایسے سیاست دانوں کی بھی کمی نہیں، جو2014ء سے کہہ رہے ہیں کہ یہ سال الیکشن کا ہے، سال پر سال گزرتے اب2018ء آ گیا ہے جو واقعی انتخابی سال ہے تو انہوں نے پینترہ بدل کر اب کہنا شروع کر دیا ہے کہ انتخابات ہوتے نظر ہی نہیں آتے،طرفہ تماشا یہ ہے کہ جب انتخابات کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا توانہیں یہ نظر آتے تھے اور اب جب کہ ان میں چند ماہ کا عرصہ باقی ہے تو ان کی بینائی انہیں دیکھنے سے معذور ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں،جنہیں2013ء کے انتخابات کے بعد ہی صاف نظر آنے لگا تھا کہ انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت بنی ہے وہ زیادہ دیر نہیں چلے گی پھر وہ ہر مہینے یہ پیش گوئی کرنے لگے کہ حکومت جا رہی ہے۔

نواز شریف کی نااہلی کے بعد تو ان کی پیش گوئیوں کی رفتار تیز ہو گئی اور انہوں نے یہ بیانیہ اختیار کر لیا کہ نواز شریف کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی جا رہی ہے جو آج تک قائم ہے، پھر کہا جانے لگا کہ سینیٹ کا انتخاب نہیں ہو گا یہ انتخاب بھی اپنے وقت پر ہو گیا اور اس کا نتیجہ بھی ایسا نکلا جس سے بہت سوں کو حیرانی ہوئی، پھر یہ شور مچا کہ ووٹ خریدے گئے ہیں۔ ایک ایک ووٹ کی قیمت کروڑوں روپے ادا کی گئی ہے، پہلے کہا گیا ہارس ٹریڈنگ ہوئی، پھر نئی ٹرمینالوجی یہ لائی گئی کہ گھوڑے نہیں اصطبل بکے ہیں، پارٹی سربراہوں نے کھل کر کہا کہ ان کی جماعت کے ارکان نے ووٹ بیچے ہیں،اِس شورو غوغا میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہو گیا، نیا سینیٹ وجود میں آ گیا تو بیانات کا رُخ بھی بدل گیا، اب پارٹیوں کے سربراہ اپنے ووٹ بیچنے والے ارکان کو یکسر فراموش کر بیٹھے ہیں کوئی اُنہیں نکالنے کی بات نہیں کرتا، اب بات کی جاتی ہے تو یہ کی جاتی ہے دیکھا ہم نے کیسے ’’اپنا‘‘ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بنا لیا، قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ تک نے کہہ دیا ہے کہ عمران خان کے سینیٹروں نے ہمارے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیئے، شریف آدمی اور کیا کرے؟ اِس بہانے انہوں نے ایک سرٹیفکیٹ بھی بڑی ہوشیاری سے عطا کر دیا اِس سارے ماحول میں لوگ بھول گئے کہ گھوڑے بکے ہیں یا اصطبل،جنہوں نے ووٹ فروخت کئے وہ بھی مطمئن اور مسرور اور جنہوں نے خریدے اُن کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں۔

منتخب اداروں کے بارے میں اس طرح کے شکوک و شبہات ایک مہم کے انداز میں پھیلائے گئے تھے، اب چونکہ سینیٹ کا مرحلہ مکمل ہو گیا تو نظرِ کا ارتکاز کرم قومی اسمبلی پر ہے اور یہ مہم چلا دی گئی ہے کہ انتخاب نہیں ہو رہے،اگر پوچھا جائے کہ کیوں نہیں ہو رہے تو کہا جاتا ہے حلقہ بندیوں کا کام ہی مکمل نہیں ہو گا تو الیکشن کیسے ہوں گے،اِس لئے الیکشن کمیشن کا یہ اعلان خوش آئند ہے کہ دن رات کام کر کے حلقہ بندیوں پر اعتراضات بروقت نپٹائے جائیں گے،الیکشن کے لئے جو تاریخ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی دیتے رہتے ہیں وہ15جولائی ہے گویا جولائی میں انتخابات متوقع ہیں،جس کے لئے ابھی چار ماہ کی مدت پڑی ہے اس کے لئے انتخابی مہم تو زور و شور سے جاری ہے اس سارے عرصے میں تمام ضروری کام بھی نپٹائے جائیں گے اور اِن شا اللہ الیکشن بروقت ہوں گے اور اُن لوگوں کی امیدیں خاک میں مل جائیں گی جو یہ خواہشیں پالے بیٹھے ہیں کہ انتخابات ملتوی ہو جائیں تاکہ وہ اپنا کھیل شروع کریں اور ان ناآسودہ خواہشوں کو پورا کریں جو جمہوری نظام کے ہموار رفتار سے جاری رہنے کی صورت میں پوری نہیں ہو سکتیں۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...