گھریلو ملازمین پر تشدد: دو ماہ میں قانون سازی کا حکم

گھریلو ملازمین پر تشدد: دو ماہ میں قانون سازی کا حکم

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس جواد حسن نے پنجاب حکومت کو گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لئے دو ماہ میں ضروری قانون سازی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم ایک مقامی وکیل شیراز ذکاء کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا گیا۔ فاضل وکیل نے تین سال قبل ایک درخواست دائر کرکے گھریلو ملازمین پر بڑھتے ہوئے تشدد اور ناروا سلوک کے واقعات کی روک تھام کے لئے ہائی کورٹ سے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اُس وقت عدالتی کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ قابل عمل اور ضروری سفارشات پر مشتمل رپورٹ پنجاب حکومت کو دی جائے تاکہ مناسب قانون سازی کا کام جلد مکمل ہوسکے لیکن ان عدالتی احکامات پر تین سال کے بعد بھی عمل نہیں ہوسکا۔ اس صورت حال پر عدالتِ عالیہ کی طرف سے حکومت پنجاب کو اگلے دو ماہ میں قانون سازی کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ گھریلو ملازمین کو تشدد اور ناروا سلوک سے بچانے کے لئے جو کام گزشتہ کئی برسوں میں نہیں ہوسکا، اس کے ازالے کے لئے لاہور ہائی کورٹ نے ہنگامی طور پر قانون سازی کا حکم دیا ہے۔ہمارے ہاں یہ افسوسناک روایت موجود ہے کہ چھ سات سال کے کمسن بچوں سے لیکر پندرہ سولہ سال کے لڑکوں اور لڑکیوں کو اُن کے والدین یکمشت رقم حاصل کرکے گھریلو ملازم کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں۔ جبکہ ماہانہ تنخواہ پر بھی بچوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ شکایات عام ہیں کہ گھریلو ملازمین سے اٹھارہ سے بیس گھنٹے مسلسل کام لیا جاتا ہے۔ معمولی غلطیوں یا کوتاہی پر انہیں بری طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ عموماً ان پر کھانے پینے یا استعمال کی اشیاء چوری کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بیشتر بچے موسم کی سختی کے باعث بیمار رہتے ہیں۔ کچھ عرصے سے گھریلو ملازمین کو ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔ پہلے ایسے واقعات کو مالکان کی طرف سے دبا دیا جاتا تھا۔ ہوتا یہ ہے کہ مالکان بچوں کے والدین کو کچھ رقم دے کر معاملہ رفع دفع کرنے پر راضی کرلیتے ہیں یا میڈیکل رپورٹ پر اثر انداز ہوکر ظالمانہ تشدد کو معمولی چوٹیں ظاہر کیا جاتا ہے۔بعض اوقات مالکان کے خلاف تھانے اور کچہری تک نوبت جاپہنچتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بارہ چودہ سال کی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں۔ زبان کھولنے کے ڈر سے ان بچیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خود کشی کا رنگ دیا جاتا ہے۔ جہاں تک حکومتی کارروائی کا تعلق ہے، پنجاب میں ایک ادارہ ’’چائلڈ پروٹیکشن بیورو‘‘ کے نام سے کام کررہا ہے اور اس کی کارکردگی کے بارے میں عام شہری مطمئن ہیں۔ تاہم ظالمانہ تشدد اور انتہائی ناروا سلوک کے خلاف سخت کارروائی کے لئے باقاعدہ قوانین موجود نہیں۔ اس ادارے کو مضبوط اور مزید با اختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اگر تین سال پہلے ضروری قانون سازی کر لی جاتی تو افسوسناک واقعات کی تعداد کم ہوسکتی تھی۔ ہنگامی بنیادوں پر دو ماہ میں قانون سازی کا حکم خوش آئند ہے موجودہ اسمبلی ہی یہ کام کرسکتی ہے۔انسانی ہمدردی کے تحت باہمی تعاون سے دو ماہ کے اندر قانون سازی کو یقینی بنانا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...