کیا سعودی عرب جیسی کرپشن مکاؤ مہم پاکستان میں چلنی چاہئے؟

کیا سعودی عرب جیسی کرپشن مکاؤ مہم پاکستان میں چلنی چاہئے؟
کیا سعودی عرب جیسی کرپشن مکاؤ مہم پاکستان میں چلنی چاہئے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صبح سویرے دو خبریں پڑھیں اور دل سے ایک آہ نکل گئی، پہلی خبر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ایک انٹرویو پر مبنی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کرپشن کے خلاف مہم میں ایک کھرب یعنی سو ارب ڈالرز حاصل کئے گئے۔

دوسری خبر چیئرمین نیب کے حوالے سے تھی، جنہوں نے کہا کہ پاکستان 94ارب ڈالرز کا مقروض ہے اور کرپشن کے ذریعے لوٹا گیا پیسہ باہر جارہا ہے، میں سوچنے لگا کہ سو ارب ڈالرز اگر سعودی عرب کرپٹ لوگوں سے ایک جھٹکے میں نکلوا سکتا ہے تو پاکستان کا 94ارب ڈالرز کا قرضہ کرپٹ افراد سے حاصل کرکے کیوں نہیں اُتارا جاسکتا۔

پاکستانیوں کے بارے میں توکہا جاتا ہے، اُن کے اڑھائی سو ارب ڈالرز یعنی اڑھائی کھرب روپے سوئزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہیں، پھر ہم نے یہ نیب کی سست رفتاری والی ٹک ٹک کیوں لگا رکھی ہے، سعودی کرپشن مکاؤ مہم کا ماڈل یہاں کیوں استعمال نہیں کرتے اور کرپشن میں ملوث بڑے افراد کو پکڑ کر ملک کے دو تین فائیو سٹار ہوٹلوں میں چند روز کے لئے کیوں بند نہیں کردیتے، تاکہ وہ بھی سعودی شہزادوں کی طرح اربوں روپے بیرونی ملکوں سے برآمد کرادیں۔

ہم کب تک کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے ایمنسٹی سکیمیں متعارف کراتے رہیں گے۔ اُس سے تو لوٹی گئی دولت واپس نہیں آئے گی، آئے گی بھی تو لٹیروں کی جائز آمدنی بن جائے گی، ملکی خزانے کو آٹے میں سے نمک بھی حاصل نہیں ہوگا۔

سعودی عرب جیسا ملک جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آل سعود کی بادشاہت میں جکڑا ہوا ہے، اگر اپنے ہی شہزادوں کے خلاف سخت قدم اُٹھاسکتا ہے، تو ہم ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے ایسا کیوں نہیں کرسکتے، کل ہی ڈالر کا ریٹ دس روپے بڑھ گیا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اچانک ایسا کیوں ہوا، مگر اس گیم میں بھی مافیا نے کروڑوں ڈالرز بنائے ہوں گے، ملک پر مزید قرضہ چڑھ گیا ہوگا۔

چیئرمین نیب جتنے بھی دعوے کریں، جتنی بھی مثالیں دیں، جتنا بھی کہتے رہیں کہ جو کرنا ہے وہی کروں گا، مجھے کسی کی پروا نہیں، مگر عملاً تو وہ اکیلے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔

ایک تو نیب کی تفتیش کچھوے کی رفتار سے چلتی ہے، دوسرا نیب کورٹ میں سماعت شیطان کی آنت بن جاتی ہے، جہاں سپریم کورٹ کی ہدایت موجود ہو، وہاں بھی مقدمات مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہوتے، عام کیسوں کی تو بات ہی کیا ہے۔

اب اس طرح تو پاکستان سے کرپشن ختم کرتے کرتے کئی صدیاں لگ جائیں گی، گندی مچھلیوں کی افزائش کئی گنا تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ختم کرنے کی رفتار مکھیاں مارنے جیسی ہے، کوئی مرتی ہے کوئی نہیں مرتی، اگر سپریم کورٹ اور نیب کرپشن مکاؤ مہم میں ایک پیج پر ہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے، پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ قانون کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں، سعودی عرب ماڈل یہاں استعمال نہیں ہوسکتا کہ اس میں بہت سے مقامات آہ و فغاں آسکتے ہیں، لیکن ماضی میں جب انتخاب سے پہلے احتساب کے دعوے کئے گئے تو مقصد کچھ ایسا ہی تھا جو سعودی عرب نے حاصل کیا ہے، مجھے یاد ہے جب معین قریشی امریکہ سے آکر نگران وزیر اعظم بنے تھے تو بہت بلند بانگ دعوے کئے گئے کہ اب کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور تین ماہ میں سارا گند صاف کرکے انتخاب کرائے جائیں گے، مگر ہوا کیا کسی کا بال بھی بیکا نہ ہوا اور پھر وہی لوگ اسمبلیوں میں واپس آگئے، جن کے بارے میں خیال تھا کہ انہوں نے قومی خزانہ لوٹ کر اسے خالی کردیا ہے۔

ہے تو کڑوی بات مگر حقیقت یہی ہے کہ ہمارے ہاں کوئی ادارہ بھی نہیں چاہتا کہ لٹیروں کا احتساب ہو، ہر کوئی رہبری کے روپ میں رہزنی پر لگا ہوا ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام ادارے ایک مشن کے طور پر کرپشن کا قلع قمع کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کریں، ایف بی آر سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف آئی اے، نیب اور عدالتیں باہم مربوط طریقے سے احتساب کا نظام چلائیں، مگر یہاں تو یہ سب ایک دوسرے سے منہ پھیرے نظر آتے ہیں، سپریم کورٹ نے کتنی بار اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر سے بیرون ملک اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگی ہیں، لیکن مجال ہے وہ ٹس سے مس ہوئے ہوں۔ الٹا کورا جواب دے دیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس تو ایسی معلومات تک رسائی کا قانون ہے نہ ذریعہ۔اب یہ دیکھئے کہ پاناما لیکس میں ساڑھے چار سو کے قریب پاکستانیوں کے نام آئے۔

صرف نواز شریف کے خلاف کارروائی کرکے باقی سب پر مٹی ڈال دی گئی، آخر کیوں۔ کیا ان پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہے یا ہمارے اداروں میں موجود مافیا یہ کام کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اسٹیٹ بینک نے اس حوالے سے کتنی سنجیدہ کوشش کی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس کا کھوج لگایا جائے۔

دنیا بھر میں ریاستیں کرپشن کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیں، مگر یہاں تو لٹیروں کے ساتھ تعاون پر زور دیا جاتا ہے، یہ کیسا نظام ہے کہ جس میں کرپٹ آدمی کو صرف یہ سزا دی جاتی ہے کہ اسے انتخاب لڑنے سے روک دیا جائے، اُس سے مال برآمد کرنے یا اسے سزا دلوانے کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔

میں جب بھی جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بیانات پڑھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے، جسے میرے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہو، ایسے بیانات دینے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

کسی کو قوم کی دولت نہیں لوٹنے دیں گے، کسی ڈر، خوف یا انتباہ کا شکار نہیں ہوں گے، ایسی باتوں سے کم از کم مجھے تو یہ لگتا ہے کہ معاملہ دھمکیوں سے چلایا جارہا ہے، اگر آپ عملی کام کرتے جائیں گے تو خود بخود معاشرے کو ایک پیغام مل جائے گا، نیب نے احد چیمہ کو گرفتار کیا تو ہر طرف اس کا ڈنکا بجنے لگا، پھر اس کے بعد معاملہ رک کیوں گیا، کیا وہ ایک شخص تھا، جس نے کرپشن کی گنگا بہا رکھی تھی۔

پھر نیب کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کسی کو پکڑ کر یکدم اُس پر اربوں کھربوں روپے کی لوٹ مار کے الزامات لگا دیتا ہے، مگر آگے چل کر نکلتا کچھ بھی نہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کی مثال سامنے ہے، جنہیں ساڑھے چار کھرب روپے کی کرپشن کے الزامات لگا کر گرفتار کیا گیا، اب سنا ہے معاملہ کروڑوں روپے تک آگیا ہے، اب اگر لوگ نیب کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں کہ اُس کا حال پٹھان پھیرے بازوں جیسا ہے جو قالین کی دس ہزار روپے قیمت بتا کر ایک ہزار روپے میں سودا کرلیتے ہیں۔

تو کون سا غلط کرتے ہیں، مبالغہ آرائی کی آخر کیا ضرورت ہے۔ جو حقیقت ہے اسے سامنے رکھ کر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔

نیب کو اپنے تفتیشی نظام پر بھی ایک نظر ڈالنا چاہئے، اپنے افسروں کی استعداد کار بڑھانے پر بھی توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ معاملات کو کم وقت میں نمٹانے پر قادر ہوں، یہی کچھ پراسیکیویشن برانچ میں بھی ہونا چاہئے، جو کمزور مقدمے بناکر نیب کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان کو کرپشن کی دلدل سے نکالنے کے لئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام احتساب اور نظام عدل کرپشن کے پھیلے ہوئے جالے کی رسیاں کاٹنے پر قادر نہیں، کرپشن سے مستفید ہونے والے مافیا نے پورے نظام کو جکڑ رکھا ہے، قانونی موشگافیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ قانون سے بچ نکلنا ذرہ بھر بھی دشوار نہیں، پھر کرپٹ مافیا کے پاس پیسے کی فراوانی ہے، وہ اس پیسے سے پورے نظام کو کرپٹ کردیتا ہے، ستم درستم یہ ہے کہ خود نیب نے کرپشن کا درپلی بارگین کی شکل میں کھولا ہوا ہے۔

ویسے تو ہم کہتے ہیں کہ رشوت دے کر چھوٹنا جرم ہے، لیکن پلی بارگین تو باقاعدہ رشوت دے کر رہائی پانے کا قانونی راستہ ہے۔ جس نیب کا مقصد یہ ہو کہ زیادہ سے زیادہ لوٹی گئی دولت برآمد کی جائے اور اسے کرپٹ افراد کو سزائیں دلانے سے کوئی دلچسپی نہ ہو، وہ کرپشن کیسے ختم کرسکتی ہے، دس ارب لوٹنے والا ایک ارب دے کر پلی بارگین کرلے تو اُسے اور کیا چاہئے، پھر غلط بخشی کا یہ عالم ہو کہ برآمد کی گئی رقم سے نیب افسران کو بھی حصہ دیا جاتا ہو، وہاں کسے یہ دلچسپی ہوگی کہ ملک سے کرپشن ختم ہو جائے، میں اکثر دیکھتا ہوں کہ ٹریفک وارڈن ٹریفک کنٹرول کرنے کی بجائے چالان کاٹنے میں لگے ہوتے ہیں، کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ ہر چالان پر انہیں حصہ ملتا ہے، پنجاب حکومت نے محکمے کو یہ ٹاسک دے رکھا ہے کہ وہ اپنی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کا بندوبست خود کرے۔

اب اس کا نتیجہ وہی نکلنا ہے، جسے ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ جگہ جگہ ٹریفک بلاک ہے اور چالانوں کی بھرمار ہے۔ یہی تکنیک نیب میں استعمال کی جاتی ہے، افسران کروڑ پتی بن گئے ہیں، کیونکہ پلی بارگین کے ذریعے انہیں لاکھوں روپے مل جاتے ہیں، کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس طریقے سے پاکستان کو کرپشن فری ملک بنایا جاسکتا ہے، اس کا تو صرف وہی راستہ ہے جو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اختیار کیا، مگر ہم یہ راستہ اس لئے نہیں اختیار کرسکتے کہ ہم ایک جمہوری ملک ہیں اور جمہوریت میں لٹیروں اور مافیا کے بھی حقوق ہوتے ہیں چاہے وہ رنگے ہاتھوں ہی کیوں نہ پکڑے گئے ہوں۔

مزید : رائے /کالم