پاکستان میں چین کا فوجی اڈا؟

پاکستان میں چین کا فوجی اڈا؟
پاکستان میں چین کا فوجی اڈا؟

کئی قارئین یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا چین پاکستان کے ساحلی علاقے میں کوئی نیا بحری مستقر (Naval Base) بنا رہا ہے؟ اگر بنا رہا ہے تو اس کے سٹرٹیجک مضمرات کیا ہوں گے اور مستقبل میں پاکستان کی سیکیورٹی پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے؟

یہ سوال یا خدشہ اس لئے بھی اہم ہے کہ ہم گزشتہ 70 برسوں سے ایک سپرپاور کا ساتھ دے کر اسے اپنے ملک میں فضائی مستقر بنانے کی کھلی اجازت دیتے آ رہے ہیں۔۔۔ ذرا یاد کیجئے 1960ء کے عشرے میں اس وقت کے صوبہ سرحد میں بڈابیر کے ہوائی اڈے سے امریکی جاسوسی طیاروں (U-2) کی سوویت یونین پر پروازیں ۔۔۔ اسی عرصے میں ایس ایس جی (سپیشل سروس گروپ) کی تشکیل و تعمیر کے ایام میں پاکستان کے شمالی، شمال مغربی اور جنوبی بلوچستان کے علاقوں میں ممکنہ مستورگاہوں (Hide-outs) کی ریکی اور ان کی لوکیشن کے حساس معاملات ۔۔۔ نو گیارہ کے بعد سندھ (جیکب آباد، شکار پور وغیرہ) کے ہوائی اڈوں پر امریکی لاجسٹک طیاروں کی آمد و رفت۔۔۔ بلوچستان کی شمسی بیس اور وہاں سے مسلح ڈرونوں کی پروازیں۔۔۔ کراچی کی بندرگاہی سہولتوں کے طفیل افغانستان میں ایساف اور ناٹو افواج کے لئے اسلحہ بارود، ٹرانسپورٹ اور سپلائی کا دوسرا اَلا بَلا براستہ چمن اور طورخم ۔۔۔ کابل و قندھار میں پاکستان کے راستے مغربی افواج کے لئے ہر قسم کی Supplies کا بندوبست۔۔۔ پاکستان کے تمام حصوں میں امریکی انٹیلی جنس کے افراد کا نزول و فرود ۔۔۔ اور فاٹا میں بالخصوص پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات کے خلاف ڈرون کارروائیاں وغیرہ وغیرہ۔

یہ فہرست کافی طویل ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم امریکہ اور ناٹو فورسز کو سپورٹ کرنے کے لئے اپنی سرزمین ، اپنی فضائیں اور اپنی سمندری تنصیبات کے ’’سودے‘‘ کرتے رہے ہیں اور ان کے نتائج بھی بھگتتے آ رہے ہیں تو اب تک تو ہم کو خاصا تلخ تجربہ ہو جانا چاہیے کہ ان ’’سودوں‘‘ کا سودو زیاں کس حجم کا ہوتا ہے اور کیا رنگ لاتا ہے۔

ریمنڈ ڈیوس سے لے کر اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن اور سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی سپیشل فورسز کے حملے میں 24پاکستانی ٹروپس کی شہادتیں ہمیں نہیں بھول سکتیں۔

یہ تو جب معاملہ حد سے گزر گیا تو ہمیں ہوش آیا اور ہم نے امریکیوں کو کہا کہ جلد سے جلد ہمارے فضائی مستقروں سے رخت سفر باندھے اور پاکستان سے نکل جائے۔۔۔

ماضی کے یہ سانحات و حادثات سبق آموز ہیں۔ پاکستان ان کو دہرانے کی بلنڈر نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا کہ دل کڑا کیا جائے تو امریکہ جیسی سپرپاور کو شمسی، جیکب آباد اور شکار پور وغیرہ سے بوریا بستر سمیٹنا پڑا۔۔۔ بنا بریں حالات خواہ کیسے بھی ہوں چین، پاکستان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کر سکتا جو امریکہ ہمارے ساتھ کرتا آیا ہے۔

اب یہ خبر کہ چین بلوچستان کے ساحل پر گوادر سے 80کلومیٹر مغرب میں جیونی کے مقام پر کوئی نیول بیس بنا رہا ہے، ایک اہم خبر ہونی چاہیے۔

یہ بھی خیال رہے کہ پورٹ / بندرگاہ اور بیس میں فرق یہ ہے کہ اول الذکر بالخصوص تجارتی مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے جبکہ بیس (Base) باقاعدہ ایک فوجی اڈہ ہوتا ہے جہاں بحری اثاثے (آبدوزیں، ڈسٹرائرز، فریگیٹ، کروزرز، لاجسٹک شپ اور ان کا اسلحہ بارود وغیرہ) رکھا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس بحری فوج کے لئے رہائش گاہیں اور دوسری سپورٹنگ سہولتیں بھی تعمیر کی جاتی ہیں۔

ان فوجی مستقروں (Military Bases) سے سمندری اور زمینی فورسز لانچ کی جا سکتی ہیں اور نیز کمانڈ اینڈ کنٹرول، ٹریننگ اور ان پر موجود عسکری اثاثوں کی دیکھ بھال اور مرمت کا سارا انفراسٹرکچر بھی کھڑا کیا جاتا ہے۔ ان کاموں کے لئے برسوں درکار ہوتے ہیں۔

فیزے بلٹی (Feasibility) رپورٹ سے لے کر کسی بیس کے آپریشنل ہونے تک اور بھی بہت سے نازک، حساس اور پروفیشنل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

مجھے معلوم نہیں کہ جیونی میں کوئی چینی بیس بنائی بھی جا رہی ہے یا نہیں۔ لیکن جنوری 2018ء کے پہلے ہفتے میں بین الاقوامی میڈیا پر یہ خبر بریک کی گئی تھی کہ چین، افریقہ کے شمالی ساحل پر جی بوتی میں واقع ایک بحری مستقر تعمیر کر چکا ہے اور دوسرا مستقرجو پاکستان میں تعمیر کیا جائے گا اس کی ممکنہ لوکیشن جیونی یا جیوانی (Jiwani)ہوسکتی ہے۔

جنوری 2018ء کے اولین ایام میں یہ خبر امریکی میڈیا نے بریک کی تھی۔ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن ٹائمز، دی ڈپلومیٹ اور نیوزویک سب میں اس خبر کا کافی چرچا ہوتا رہا۔ خود چینی میڈیا نے بھی اس کی تائید کی کہ چین گوادر پورٹ کی حفاظت کے لئے جو بحری اقدامات کرے گا ان کے لئے ایک نیول بیس کی ضرورت ہو گی جو شائد جیوانی میں ایرانی بارڈر کے نزدیک کہیں تعمیر کی جائے گی۔۔۔ اس کے برعکس پاکستانی میڈیا نے اس خبر کی تردید کی۔ ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر شائد ایک آدھ ٹی وی چینل نے اس کی جو تردید کی وہ تقریباً لولی لنگڑی تھی۔

البتہ انگریزی روزنامے ’’پاکستان ٹو ڈے‘‘ نے اپنی 6 جنوری 2018ء کی اشاعت میں اس اس خبر کی کھل کر تردید کی اور کہا کہ پاک بحریہ کسی بھی جارحیت کے خلاف از خود کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی نیول بیس بنانی بھی ہے تو وہ جیونی، پسنی یا ساحلی پٹی پر کسی بھی اور جگہ بنائی جائے گی۔

اس کے بعد ’’چپ چپاں‘‘ ہو گئی اور اس سلسلے میں مزید خبریں نہ چین کی طرف سے آئیں، نہ پاکستان کی طرف سے اور نہ ہی مغربی میڈیا کی طرف سے۔۔۔ لیکن یہ موضوع جس قدر اہم ہے اسی قدر حساس بھی ہے۔

پاکستان کے ساحلی علاقوں (Coastal Areas)کو مغربی جاسوسی سیاروں نے بالخصوص زیرِ نظر رکھا ہوا ہے۔ دن ہو کہ رات ہمارے ساحل پر ایک ایک شپ کی آمد و رفت پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں انڈیا کے جزائر نکوبار اور انڈیمان کی بندرگاہوں اور بحرہند میں امریکی نیول بیس ڈیگوگارشیا سے چینی آبدوزوں کو بھی بحرہند میں مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

نہ صرف امریکہ بلکہ انڈیا، افغانستان، ایران اور جاپان وغیرہ کے گراں بہا سٹیکس (Stakes) سی پیک (CPEC) سے وابستہ ہیں۔ تاہم اس راہداری منصوبے پر کام کی رفتار ماضی کے مقابلے میں سست گامی کا شکار معلوم ہوتی ہے۔

شائد چینی حکام پاکستان کی سیاسی صورتِ حال کے واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کی نگاہ میں یہ صورت حال غیر یقینی دھندلاہٹ کا شکار ہے۔

چار چھ ماہ بعد جب مطلع صاف ہوگا تو خیال ہے کہ یہ رفتار از سرِ نو زور پکڑے گی۔ ویسے بھی اپریل سے اکتوبر تک کے چھ سات ماہ میں جنوبی مغربی چینی اور شمال مغربی پاکستانی علاقے برف باری کی زد سے باہر نکل آتے ہیں اور تجارتی سرگرمیاں زور پکڑ لیتی ہیں۔

پاکستان میں کسی چینی مستقر کی تعمیر وغیرہ کے سلسلے میں متعلقہ عسکری پاکستانی ادارے کبھی سوئے نہیں رہ سکتے۔ہم جیسے لکھاری البتہ یہ امید کر سکتے ہیں کہ ۔۔۔اولاً چین اگر اس نئے مستقر کے انفراسٹرکچر کو کھڑا کرنے کا پروگرام بنائے گا تو اس میں پاکستان کی مرضی، منظوری اور مفادات ہمیشہ پیش پیش رکھے جائیں گے۔۔۔ ثانیاً تعمیری سازوسامان اور دیگر تنصیبات وغیرہ کے حصے پرزے اب CPEC کے زمینی راستے سے بھی آئیں گے اور بحرہند/ بحیرۂ عرب کے سمندری راستے سے بھی۔۔۔ ثالثاً دشمنوں کی طرف سے ان کی مانیٹرنگ بڑی شد و مد سے کی جائے گی، اس لئے چینی تجارتی جہازوں (کارگوشپس) کو چینی بحریہ کے جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے حفاظتی حصار میں لے کر جیوانی (یا کسی بھی اور مقام) تک لایا جائے گا۔ گزشتہ دنوں چین کا ایک تجارتی بحری جہاز انہی انتظامات کے تحت گوادر لایا گیا ہے۔۔۔ رابعاًانڈین اور امریکی میڈیا اس سلسلے میں کسی بھی ہونے والی معمولی سی پیشرفت کو بھی فوراً سے پیشتر اچھالنے کا بندوبست کرے گا اور شور و غوغا مچائے گا۔لیکن ان امریکیوں سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ان کے اپنے بحری اور ہوائی مستقر کہاں کہاں ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے؟

امید یہ بھی ہے کہ یہ نہیں ہوگا کہ امریکہ کسی چینی شپ کو بحرہند میں روک لے اور حکم دے کہ تلاشی دی جائے۔ ایسا کرنا باقاعدہ اعلانِ جنگ ہوگا۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ اب ایک ایسا آتش فشاں بن چکا ہے جس کے دہانے سے دھواں نکل رہا ہے۔

خبر نہیں کب لاوا اگلنا شروع کر دے! ہم دیکھ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ آہستہ آہستہ شمالی کوریا کا ننگ دھڑک رویہ دیکھ کر ہوش کے ناخن لے رہے ہیں اور پاکستان کا دبنگ ردعمل بھی اب امریکیوں کو ’’ڈومور‘‘ کے جواب میں ’’نومور‘‘ کا فیصلہ سننے پر مجبور کر رہا ہے۔

چنانچہ قارئین کو اس سلسلے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو پاکستان کو چین سے دور کرنا چاہتا ہے۔

چین ہمارا وہ چوتھا اور واحد ہمسایہ ہے جس سے ہمارے تعلقات شروع سے دوستانہ ہیں۔ باقی تینوں ہمسائے (انڈیا، افغانستان، ایران) یا کھلے دشمن ہیں یا دوست نما نیم دشمن ہیں اور پاکستان کے متعلقہ ادارے اس سے بے خبر نہیں۔

چین اگر جیوانی میں کوئی بحرہ اڈہ تعمیر کرے گا تو وہ پاکستان کے اشتراک اور اجازت سے کرے گا اور پاکستانی مفادات کے لئے کرے گا۔ گوادر کے ذریعے چین کی باقی براعظموں تک رسائی آسان ضرور ہو جائے گی لیکن پاکستانیوں کو بھی یہ پرکھنے کا موقع مل جائے گا کہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک مغربی دنیا سے دوستی کرکے کیا پایا اور اب چین کے ساتھ یارانہ گانٹھنے سے کیا کھویا۔

امریکہ نے 1950ء کے عشرے میں پاک آرمی کو ساڑھے چار ڈویژن فوج کھڑی کرنے کے لئے مالی ،اسلحی اور مادی امداد دی تھی۔ ان میں ایک آرمرڈ ڈویژن بھی تھا، جس کے لئے کھاریاں چھاؤنی کی تعمیر کے لئے ہر قسم کی مطلوبہ سپورٹ فراہم کی۔

لیکن اس کے علاوہ پاک فضائیہ یا پاک بحریہ کے لئے کسی ایسی تنصیب کی تعمیر میں مدد نہ دی جو دور رس اور سٹرٹیجک مفادات کی نوید بنتی۔ دوسری طرف چین نے ٹیکسلا میں ٹینک سازی اور کامرہ میں طیارہ سازی میں پاکستان کی جو مدد کی اس کی تفصیل ہم سب کو معلوم ہے۔

اب اگر وہ جیونی میں کوئی نیول بیس بنا کر پاکستان کو دینے کا پروگرام رکھتا ہے تو ہمیں ٹیکسلا اور کامرہ کی تاریخ بطور مثال سامنے رکھنی چاہیے اور بے جا خدشات اور دور از قیاس خطرات کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...