بھارت کی آبی جارحیت ، دریا بیاس مکمل طور پر بند

بھارت کی آبی جارحیت ، دریا بیاس مکمل طور پر بند

 جہانیاں(آن لائن)بھارت کی آبی جارحیت ،جہانیاں بھی متاثرین میں شامل،یہاں سے گزرنے والا دریا سکھ بیاس مکمل طور پر بند ہو چکا ہے،دریا کے خشک ہونے سے جہانیاں میں زیر زمین پینے کا پانی بہت نیچے چلا گیا ہے،اہلیان علاقہ کی واحد تفریح اور شکار گاہ قصہ پارینہ بن گئی۔تفصیل کے مطابق بھارت کی آبی جارحیت سے جہاں پاکستان بھر میں ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہو رہی ہے وہیں تحصیل جہانیاں بھی براہ راست متاثر ہونے والوں میں شامل ہے ۔جہانیاں سے گزرنے والا دریا دریائے بیاس جو کہ سکھ بیاس کے نام سے مشہور ہے عرصہ تین برس سے مکمل خشک ہو چکا ہے اور اس میں پانی کا نام ونشان بھی ختم ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ کوہ ہمالیہ سے نکل کر بھارت کے اضلاع امرتسر اور جالندھر سے ہوتا ہوا فیروز پور کے قریب دریائے ستلج میں داخل ہونے والا دریا اور پھر دریائے بیاس کے نام سے پاکستان کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا جہانیاں تک پہنچتا ہے یہ دریا متعدد مرتبہ خشک ہوتا رہا ہے جبکہ ملک میں سیلاب آنے کی صورت میں اس دریا میں دوبارہ پانی رواں ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے اس دریا کو دریائے بیاس کی بجائے سکھ بیاس کہا جانے لگا ۔یہ دریا ایک طویل عرصہ تک تحصیل جہانیاں کی عوام کی سیر گاہ رہا ہے اس دریا سے ٹنوں کے حساب بھی مچھلی کا شکار کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ دریا سائبیریا اور دیگر ممالک سے آنے والے پرندوں کا مسکن بھی رہا ہے جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے شکار پارٹیاں یہاں سے مرغابیوں اور کونجوں وغیرہ کا شکار کرتی رہی ہیں اس دریا پر بلا مبالغہ لاکھوں کی تعداد میں مرغابیاں بسیرا کیا کرتی تھیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اور بھارت کی جانب سے دریاؤں پر ڈیم بنانے کے ساتھ ہی جہاں دیگر دریا خشک ہوئے ہیں وہیں جہانیاں کا یہ اکلوتا دریا دریائے سکھ بیاس بھی اپنی بے بسی کی داستان خود سنا رہا ہے ۔اس دریا کے خشک ہونے کی وجہ سے تحصیل جہانیاں اور گردونواح میں زیر زمین پینے کا پانی 250فٹ سے بھی نیچے گہرائی تک چلا گیا ہے جبکہ اس دریا میں پانی آنے سے زیر زمین پانی صرف 30فٹ تک دستیاب ہوتا تھا اس دریا میں پانی کی بندش سے گزرگاہوں پر لوگوں نے فصلیں کاشت کر لی ہیں جس سے دریا کی شکل بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

مزید : کامرس