قذافی سٹیڈیم ، آج کراچی کنگز فاتح کے مدمقابل

قذافی سٹیڈیم ، آج کراچی کنگز فاتح کے مدمقابل

زندہ دلان لاہور نے ٹریفک کے مسائل کو بڑے مقصد کے لئے خندہ پیشانی سے برداشت کیا کہ بڑے مقصد کے لئے یہ چھوٹی قربانی ہے۔ جہاں تک ٹریفک جام کا معاملہ ہے یہ تو یوں بھی روزمرہ کا مسئلہ ہے اس لئے اگر قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل کے پلے آف میچوں کے لئے دو روز مزید دقت ہوئی تو اسے بھی جھیل ہی لیا گیا ہے۔ لاہوریوں نے دل کھول کر دلچسپی لی اور سٹیڈیم کو بھر دیا۔ آج بھی شائقین کرکٹ کراچی کنگز اور گزشتہ روز جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں کو داد دیں گے۔ گزشتہ روز اپنے اعزاز کا دفاع کرنے والی ٹیم پشاور زلمی کا مقابلہ گزشتہ چمپئن شپ میں فائنل میں رہ جانے والی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹر سے ہوا۔ کوئٹہ کو دو اہم ترین غیر ملکی کھلاڑیوں آسٹریلیا کے واٹسن اور برطانیہ کے کیون پیٹرسن کی خدمات حاصل نہیں ہیں جبکہ پشاور زلمی بھی اوپنر ویسٹ انڈیز کے ڈی سمتھ کی خدمت سے محروم تھی۔ سخت مقابلہ ہوا اور شائقین نے بھی خوب داد دی۔ جیتنے والی ٹیم آج کراچی کنگز سے مقابلہ کرے گی اور اس میچ میں فاتح ٹیم 25 مارچ کو کراچی میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے مدمقابل ہوگی اور جیتنے والی نئی چمپئن بنے گی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ نے دوبئی میں ہونے والے کوالیفائنگ میچ میں کراچی کو ہرا کر فائنل کے لئے جگہ پکی کر لی تھی اور کراچی کو ایک اور موقع مل گیا تھا۔ اس چمپئن شپ کے قواعد میں یہ کچھ عجیب قاعدہ ہے کہ دس دس میچوں کے بعد اوپر کے نمبر والی چار ٹیموں نے پلے آف کے لئے کوالیفائی کر لیا تو پھر یہ ایک کوالیفائر کس کھاتے میں ہوئے اور ہارنے والی ٹیم کو پھر ایک موقع مل گیا۔ بہرحال یہ قواعد کی بات ہے اس پر انتظامیہ کو غور کرنا چاہئے، براہ راست چاروں ٹیموں کے درمیان پلے آف کہلانے والے میچوں کو سیمی فائنل کہہ کر مقابلہ کرایا جاتا اور جیتنے والی دو ٹیمیں فائنل کھیلتیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور سیاسی حکومتوں نے دہشت گردی کے باعث ملک سے دور ہوئی روایتی کرکٹ کو ملک میں واپس لانے کی بھرپور سعی کی ہے اور شہریوں نے بھی بہت دلچسپی لی۔ کھلاڑیوں کو مکمل تحفظ کا یقین دلایا گیا۔ لاہور میں بدقسمتی سے دشمن نے وار تو کیا اور کچھ روز قبل ایک سانحہ ہو گیا تاہم یہ بھی حوصلہ کم نہ کر سکا۔ حکومت نے بھرپور طریقے سے حفاظتی انتظامات کئے، 8 ہزار سے پندرہ ہزار اہل کاروں تک نے فرائض انجام دیئے۔ چار روز تک قذافی سٹیڈیم والی دوکانیں بھی بند کرائی گئیں۔ پارکنگ کے لئے ذرا دور دور انتظام ہوا وہاں سے شٹل سروس کے ذریعے شائقین کو سٹیڈیم لایا گیا۔ اکثر شہری پیدل چل کر بھی آئے۔ اس کوشش کا نتیجہ ان شاء اللہ اچھا برآمد ہوگا اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونا شروع ہوگی، اب ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا انتظار رہے گا جو تین ٹی۔20 میچ کھیلنے آئے گی۔

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی اہلیہ اور لاہور کے حلقہ این اے 120 سے منتخب رکن قومی اسمبلی بیگم کلثوم سخت علیل اور لندن کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے الیکشن بھی برطانیہ میں علاج کے دوران جیتا اور ابھی علاج مکمل نہیں ہوا، چنانچہ وہ واپس آ کر حلف بھی نہیں اٹھا سکیں۔ اب اطلاع ہے کہ وہ پھر سے داخل ہوئیں تو ان کے شوہر محمد نوازشریف نے فون پر بات کرکے خیریت دریافت کی، بیگم کلثوم نے ان سے اور اپنی صاحبزادی مریم نواز سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ دونوں باپ بیٹی کو احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنسوں کا سامنا ہے اور ان کی لندن روانگی عدالتی اجازت سے مشروط ہے۔ اس عرصہ میں وہ عام جلسوں سے خطاب کرکے رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ وہ عیادت کے لئے اجازت کی درخواست دے کر استثنیٰ حاصل کرتے ہیں یا بیگم کے پاس دیکھ بھال کے لئے دونوں صاحبزادے ہی ہوں گے۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ ڈاکٹروں نے بیگم کلثوم کوہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔

لاہور میں نیب کے زیر تفتیش بیوروکریٹ احد چیمہ کو تین ماہ کے لئے ملازمت سے بھی معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف دائرہ تحقیق بھی بڑھ چکا اور کئی امور مزید بھی زیر غور آ رہے ہیں، ان کے ساتھ مزید کئی ’’سہولت کار‘‘ بھی زیر تفتیش ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے ایک تقریب میں زور دار اعلان کیا کہ احتساب بلا تفریق بے خوف ہو کر جاری رہے گا۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی صدارت پر فائز ہونے کے بعد خود بھی عام جلسوں سے خطاب شروع کر دیا ہے اور مخالفین کے خلاف سخت اور تند زبان استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔ البتہ اپنی حکمت عملی اور سیاست کے پیش نظر وہ اداروں پر تنقید سے گریز کرتے ہیں بلکہ انہوں نے تو عدلیہ، فوج اور سول حکومت کے درمیان مکمل تعاون اور باہمی مشاورت کی بھی تجویز دی ہے، البتہ ان کی حمایت کے قائد محمد نوازشریف اور بھتیجی مریم نواز کے بیانئے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، اگرچہ تنقید نسبتاً مخالف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی طرف زیادہ ہو گئی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...