تحریک انصاف میں عامر لیاقت کی شمولیت کے مخالفوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

تحریک انصاف میں عامر لیاقت کی شمولیت کے مخالفوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان حالیہ دِنوں میں تیسری بار کراچی آئے ہیں اور توقع کر رہے ہیں کہ آنے والے انتخاب میں ان کی جماعت سندھ کے شہری علاقوں میں اس ’’خلا‘‘ کو پُر کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، جو تین عشروں سے قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں شہری سندھ کی نمائندگی کرنے والی جماعت ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، عمران خان کی یہ توقع کس حد تک پوری ہو پائے گی اس کا فیصلہ تو ڈے آف پولنگ کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ہو گا۔ اس پر کوئی تبصرہ اور تجزیہ قبل از وقت ہے تاہم یہ اندازہ لگانا نامناسب نہیں ہو گا کہ آنے والے دِنوں میں تحریک انصاف میں پیر کے دن شامل ہونے والے معروف اینکر پرسن عامر لیاقت کی پوزیشن کم و بیش وہی ہو گی جو پارٹی میں نو وارد فواد چودھری کی ہے، کیونکہ کہنے والے کہہ بھی رہے ہیں اور خود پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے عامر لیاقت کو پارٹی میں شامل کرنے کی شدید مزاحمت کرنے والوں کے خلاف ’’ویٹو پاور‘‘ استعمال کر کے کہہ دیا ہے کہ ان کا ماضی فراموش کر دیں ہمیں عامر لیاقت کی میڈیا کے محاذ پر شدید ضرورت ہے۔

اس میں کیا شک ہے کہ ہماری بدقسمتی سے سب ہی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی میں اخلاقی پستی کی جن بدترین انتہاؤں کو پار کرتی جا رہی ہیں اس نے ہماری تمام سیاسی جماعتوں کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ پارٹی میں وہ لوگ بھی ’’ غیر متعلق ‘‘ ہو رہے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اپنی پارٹی، اپنے نظریات کے لئے ہار دی اور ہر مشکل گھڑی میں کوئی خوف اور کوئی لالچ ان کے پائے استقامت کو متزلزل نہ کر سکا۔ سیاسی جماعتوں کا پارٹی قیادت سے اختلاف رکھنے کے جرم میں ’’نکو‘‘ بنانے کا طرزِ عمل کسی طرح بھی صحت مند رجحان نہیں کہا جا سکتا ۔

عامر لیاقت کی پارٹی میں شمولیت کی مخالفت کرنے والوں میں جو پیش پیش رہے ان میں تحریک انصاف کے پرانے وفادار رہنما فردوس نقوی،کراچی کے صدر، مرکزی نائب صدر علی زیدی اور پارٹی کے بانی رکن اور سابق سینئر نائب صدر نجیب ہارون شامل ہیں، جبکہ عمران اسماعیل اور ڈاکٹر عارف علوی پارٹی قائد عمران خان کے فیصلے کو صدق دِل سے تسلیم کرنے والوں میں شامل ہیں۔ڈاکٹر عارف الٰہی علوی اور عمران اسماعیل، نجیب ہارون کی طرح پارٹی کے بانی ارکان میں شامل نہیں ہیں، مگر فردوس نقوی کی طرح ان ابتدائی لوگوں میں شامل ہیں جن کو نجیب ہارون پارٹی کے قیام کے چند ماہ بعد ہی پارٹی میں لے کے آئے تھے۔ علی زیدی کا تعلق بھی پارٹی کے پرانے لوگوں میں ہے۔ علی زیدی نے 2002ء کا انتخاب کراچی میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لڑا تھا۔2013ء کے عام انتخاب میں علی زیدی نے ایم کیو ایم کے عبدالرشید گوڈیل اور جماعت اسلامی کے محمد حسین محنتی کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا (جماعت اسلامی نے تو دن کے بارہ بجے کے بعد ایک پولنگ بوتھ سے بندوق کی نوک پر اپنی ایک پولنگ ایجنٹ کو اغوا کرنے کی کوشش کے بعد بائیکاٹ کر دیا تھا) ایم کیو ایم کے مقابلے میں علی زیدی نے قابل ذکر ہزاروں کی تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے۔ فردوس نقوی اور علی زیدی نے جس شدت کے ساتھ عامر لیاقت کی شمولیت کی مخالفت کی ہے اُسے پارٹی میں کس حد تک برداشت کیا جائے گا؟ کیونکہ عمران اسماعیل اور ڈاکٹر عارف الٰہی علوی تو عمران خان کی اس ہدایت کے تحت ہی عامر لیاقت سمیت ایم کیو ایم سے وابستہ لوگوں کو پارٹی میں شامل کرنے کے مشن پر ہیں۔ سیاسی جماعتیں کن کو اپنی پارٹی میں شامل کرتی ہیں اور کن کو نہیں، اِسی طرح وہ کن کے ساتھ اتحاد کرتی ہیں اور کن کے ساتھ نہیں،یہ ان کا داخلی معاملہ ہے، عامل صحافی کی حیثیت سے اس نامہ نگار کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ عامل صحافی کے لئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے مسلمہ صحافتی ضابط�ۂ اخلاق کی پابندی کرنا لازمی ہوتا ہے جس کے تحت وہ کسی سیاسی جماعت اور کسی گروہ کا ’’ایکٹوسٹ‘‘ نہیں ہو سکتا ہے خواہ اس جماعت یا گروہ کا تعلق حکومتی جماعت سے ہو یا ریاست کے کسی ادارے یا حکومت سے باہر حزب اختلاف کی جماعتوں سے اسے واقعات کی رپورٹنگ کرتے وقت ذاتی پسند و ناپسند سے بالا تر ہو کر معروضیت کو پیش نظر رکھنا ہوتا ہے تاہم وہ اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کے منظر اور پس منظر سے بے خبر رہتا ہے اور نہ غافل۔اسے واقعات کی رپورٹنگ کرتے وقت غیر جانبدار ہونا پڑتا ہے اور تبصرہ اور تجزیہ کرتے وقت اپنے فہم اور معلومات کے مطابق آزاد ہوتا ہے اِس لئے عامر لیاقت کی پارٹی میں شمولیت کی جن لوگوں نے کھلے عام اور اندرون خانہ شدید مزاحمت کی اس کا منظر نامہ اسی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔

آنے والے دِنوں میں عامر لیاقت کی پارٹی میں شامل ہونے کی مزاحمت کرنے والے کہاں کھڑے ہوں گے؟ سرِدست اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ عمران خان کی ہدایت پر عمران اسماعیل (پارٹی کی طرف سے سندھ کی سطح پر سیاسی رابطوں کے انچارج) اور سندھ کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے عامر لیاقت کی جس صلاحیت کی وجہ سے پارٹی میں شامل کرایا ہے اس بارے میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ وہ اس ’’ہنر کاری کے ’’فن کے فقیہہ اور امام ہیں‘‘ اِس لئے پارٹی میں ان کے مخالفوں کا زور خود ہی دم توڑ دے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ قومی سیاست کی دعویدار ایک بڑی جماعت تحریک انصاف نے سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں فعال ہونے کا فیصلہ کیا ہے،ملک کی تمام بڑی ملک گیر سیاست کی دعویدار جماعتیں جب تک دیہی اور شہری پورے سندھ کی سیاست میں فعال اور متحرک نہیں ہوں گی، تب تک نہ تو کوئی قومی سیاست کی دعویدار جماعت ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کر پائے گی اور نہ ہی پیپلز پارٹی کو ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح سندھ کے دیہی علاقوں میں صرف سندھی بولنے والوں کی سیاست کرنے والی جماعت کے خول سے باہر نکالنا ممکن ہو گا۔ سندھ کی شہری اور دیہی آبادی کی مشکلات و مصائب کو کم کرنے کا واحد راستہ پیپلزپارٹی سمیت سب کے پاس یہاں کی حقیقی اور جائز شکایات کے قابلِ عمل حل کے فارمولے پر اتفاق رائے کے سوا کوئی دوسرا حل کل تھا اور نہ ہی آج ہے اور نہ ہی آنے والے کل میں ہو گا۔ قابل عمل حل پر اتفاق رائے صرف سیاسی جماعتوں کی حد تک کافی نہیں ہو گا، بلکہ اس کے لئے ریاست کے تمام آئینی اداروں کے درمیان بھی اتفاق رائے ضروری ہے،کیونکہ سندھ گزشتہ تین عشروں سے بااختیار بالادست قوتوں کی وقتی مصلحتوں اور ضرورتوں کے تحت اختیار کردہ عاقبت نا اندیش پالیسیوں اور فیصلوں سے نسلی اور لسانی سیاست کے ’’شعلوں کی آگ‘‘ میں جل رہا ہے اب اس کا تدارک محض سیاسی جماعتوں کے درمیان مصالحت سے ممکن نہیں رہا ہے، کیونکہ یہاں آج جو کچھ بھی امن ہے،سب جانتے ہیں، وہ ستمبر 2013ء میں شروع ہونے والے رینجرز کے موثر آپریشن کا مرہون منت ہے، بلاشبہ پولیس کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مگر بدقسمتی تو یہ ہے کہ رینجرز گزشتہ تین عشروں سے سندھ میں پولیس کی مدد کے لئے موجود تھی، مگر اس کا کیا کِیا جائے۔ یہ شہر رینجرز کی موجودگی کے باوجود ہر قسم کے انتہا پسندوں کی آماج گاہ بنا رہا اور ہر قسم کے انتہا پسندوں کے مسلح جتھے اور ان کے طاقتور سرپرست یہاں دندناتے پھرتے رہے۔ اس لئے لازم ہے اس شہر اور اس صوبے میں مستقل امن کی خاطر تمام سیاسی اور غیر سیاسی ریاستی اسٹیک ہولڈر آنے والے انتخاب سے قبل رول آف گیم پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ بصورت دیگر یہ صوبہ اور یہ شہر جو ملک کا معاشی حب بھی ہے، ملک دشمن قوتوں کے گماشتوں کے لئے نرم چارہ بنا رہے گا، اب ہم سب کو اس بنیادی حقیقت کا ادراک کر لینا چاہئے کہ یہ ملک آئین پاکستان کی طے کردہ حدود و قیود کے سوا کسی دوسرے طریقہ سے درست ہو سکے گا اور نہ ہی یہ سیاسی عمل اور سیاسی جماعتوں کے بغیر آگے بڑھ پائے گا اور نہ ہی یہ ملک اب کسی طرح کی محاذ آرائی اور تصادم کا متحمل رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی بقائے باہمی کے اصول کو تسلیم کر کے جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنانا پڑے گی اور ریاست کے تمام اداروں کو بھی، بلا شبہ خراب حکمرانی اور کرپشن نے اس ملک کی جڑیں ہلا دی ہیں،مگر اس کا علاج وہ ہر گز نہیں ہے جس کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔اگر یہ علاج کارگر ہوتا تو کب کا ہو چکا ہوتا اس کا واحد علاج وہی ہے جو ہمارے آئین نے طے کر دیا ہے آئین کی روح اور منشا کے مطابق سیاسی جماعتوں کو بھی چلنا پڑے گا اور ریاست کے تمام اداروں کو بھی ان حدود و قیود کے ’’پیرا میٹر‘‘ کے اندر رہ کر اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے، جس کا دائرہ آئین نے ہر ایک کے لئے طے کر دیا ہے۔اس سے انحراف کر کے سیاست دان بھی اپنی راہ کھوٹی کریں گے اور ملک کی سلامتی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں گے اور ریاست کے جو آئینی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر کے معاملات کو درست کرنے کے خبط میں مبتلا ہوں گے، وہ بھی ماضی کی طرح ناکام رہیں گے۔

اب کچھ ذکر ممتاز بھٹو کی مایوسی کا،ممتاز بھٹو نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے لاڑکانہ میں نمائندے صابر علی شاہ سے جو گفتگو کی ہے اس سے یہ ’’تاثر‘‘ پیدا ہوا ہے کہ وہ جلد مسلم لیگ (ن) کی طرح اب تحریک انصاف کو داغ مفارقت دے کر اپنی جماعت نیشنل فرنٹ بحال کرنے کا اعلان کر دیں گے، وہ مسلم لیگ (ن) سے بھی جدا میاں نواز شریف کی آصف علی زرداری کا قافیہ تنگ نہ کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ہوئے تھے اب عمران خان سے مایوسی بھی اس خوف کی وجہ سے ہے کہ کہیں آنے والے انتخاب میں سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کی طرح عمران خان کی آصف علی زرداری سے کسی قسم کی مفاہمت نہ کرا دیں۔انہوں نے کہا ہے کہ میرے لئے دونوں کے درمیان مفاہمت کوئی حیران کن نہیں ہو گی۔ ممتاز بھٹو اب خود تو کوئی الیکشن نہیں لڑیں گے وہ ساری تگ و دو اپنے بیٹے کی سیاست کے لئے کر رہے تھے ان کی ایک مایوسی کی وجہ یہ بھی بنی ہے کہ خود دو بار لاڑکانہ میں زر کثیر خرچ کر کے عمران خان کے لئے جلسہ کے اہتمام کا اعلان اور تیاری کی تھی، جس میں وہ باقاعدہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی موجودگی میں پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کرتے،مگر دونوں بار جلسہ کی تیاریاں ہونے کے باوجود جلسہ کا پروگرام تبدیل کر دیا گیا۔ واضح رہے جب عمران خان نے ممتاز بھٹوکو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی ان کے لئے امیر بخش بھٹو نے اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی کے ساتھ پریس کانفرنس میں شامل ہونے کے موقع پر کیا تھا، مگر ممتاز بھٹو نے شمولیت کا اعلان اسی طرح کے بڑے جلسہ میں کرنا تھا جس طرح2013ء کے عام انتخاب سے قبل میاں نواز شریف کی آمد پر مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو کر کیا تھا، تازہ سیاسی منظر نامہ میں اب عمران خان کے ممتاز بھٹو کے ہاں آنے کے امکانات معدوم ہو گئے۔ تحریک انصاف میں شمولیت کی وجہ سے وہ سندھ کی سطح پر بننے والے پیر پگارو کی قیادت میں قائم اتحاد ’’جی ڈی اے‘‘ سے الگ ہوئے تھے، جس کے بارے میں اب بھی یہ تاثر قائم ہے کہ اگر اس کا پیپلزپارٹی سے اندرون سندھ ون او ون مقابلہ ہوا تو آصف علی زرداری کو اندرون سندھ مستقل مورچہ لگا کر انتخابی مہم چلانا پڑے گی۔ اگر جی ڈی اے کا دینی جماعتوں کے بحال ہونے والے اتحاد ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ن) سے سیٹ ٹو سیٹ کا کوئی فارمولا طے پا گیا تو مولانا فضل الرحمن اندرون سندھ کئی حلقوں میں پیپلزپارٹی کی فتح کو شکست میں بدلنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔انہوں نے اندرون سندھ کئی بڑے شو آف پاور کر کے بتا دیا ہے۔ اب وہ کراچی میں بھی اگلے چند روز میں بڑا شو آف پاور کرنے جا رہے ہیں۔ایم ایم اے میں اتفاق رائے ہو گیا، مولانا فضل الرحمن صدر اور لیاقت بلوچ سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے۔

آخر میں ذکر کراچی میں ہونے والے پی ایس ایل کرکٹ کے میچ کا جو25 مارچ کو نیشنل سٹیڈیم میں ہو گا جس کی تیاری بڑے زور و شور سے ہو رہی ہے اور عوام و خواص میں اسے دیکھنے کا بڑا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ توقع ہے اسی بہانے ان علاقوں میں صفائی ہو جائے گی جہاں جہاں سے کرکٹ کے کھلاڑیوں کا گزر ہو گا۔

مزید : ایڈیشن 1