نئی ایمینسٹی سکیم، جلد اعلان متوقع، ٹیکس کی شرح 5فی صد متوقع، کالا دھن سفید

نئی ایمینسٹی سکیم، جلد اعلان متوقع، ٹیکس کی شرح 5فی صد متوقع، کالا دھن سفید

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر کالے دھن کو ’’سفید‘‘ کرنے کے منصوبے کا اعلان ہونے والا ہے کیونکہ حکومت کے او ای سی ڈی انٹرنیشنل معاہدے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ ملک کے اندر نہ صرف کالے دھن کو روکا جائے بلکہ منی لانڈرنگ پر بھی قابو پایا جائے۔ عالمی سطح پر اس معاہدے میں یورپ سمیت متعدد ممالک شامل ہیں جو اس معاہدے کے تحت اس بات کے پابند ہوں گے کہ متعلقہ ملک کو منی لانڈرنگ اور کالے دھن کی مالیت سے نہ صرف آگاہ کریں بلکہ قانونی طور پر اس ملک میں واپسی کے لئے قانونی تقاضے بھی پورے کریں۔ کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے ملک بھر میں اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ ایسی ایمنٹسی سکیموں کا اعلان کیا گیا تھا خصوصاً نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے بارے میں حکومت نے متعدد ایمنٹسی سکیمیں متعارف کرائی تھیں مگر اس کا کوئی خاطر خواجہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا جس کی وجہ سے اب بین الاقوامی تنظیم کے ساتھ مل کر یہ سکیم متعارف کروائی جا رہی ہے کیونکہ ایسی سکیمیں اب یورپ سمیت دوسرے ممالک بھی متعارف کروا رہے ہیں جنہوں نے ٹیکس چھوٹ کی شرح 50 فیصد تک بھی رکھی ہے لیکن اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ایمنسٹی سکیم خاصی نرم ہو گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کریں اور کالا دھن یعنی دولت ڈیکلر کرنے والوں کو گارنٹی دی جائے ڈیکلئر کئے گئے منقولہ وغیر منقولہ اثاثہ جات اور بے نامی اکاؤنٹس کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان ایکٹ ’’ ایف آئی اے ایکٹ‘‘ ایف بی آر ایکٹ اور نیب ایکٹ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا ایمنسٹی آن ڈیکلریشن آف لسٹس کے تحت مقررہ ریٹ سے ٹیکس جمع کروانے والوں سے اثاثہ جات کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے اور 30 جون تک کل 5 فیصد تک ٹیکس ادا کر کے بلیک منی وائٹ ہو جائے گی اس سکیم کا اعلان رواں ماہ کے آخری ہفتے میں کر دیا جائے گا تاہم 30 جون تک اس سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں پر تین گنا جرمانہ عائد ہو گا جو ایمنسٹی پنلٹی کہلائے گی یہ بھی کہا گیا ہے کہ 30 جون آخری دن ہو گا اور اس میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی حکومت توقع کر رہی ہے کہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی پاکستانی اس سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دولت کو سفید کریں گے کیونکہ پاکستان اس خطے میں واحد ملک ہے جو کم سے کم ٹیکس عائد کر رہا ہے جبکہ دوسرے ممالک کم از کم 15 سے 50 فیصد تک چھوٹ دے رہے ہیں۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عدلیہ، پارلیمان اور فوج سے استدعا کی ہے کہ وہ مل بیٹھیں کیونکہ یہ قوم بڑی دکھی ہے اور اگر ہم نے اس قوم کے لئے کچھ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی یہاں ڈیرہ غازی خان میں ایک جلسہ عام سے خطاب میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے عمران کی طرف سے میٹرو ملتان پر نوٹس لینے کا خیر مقدم کیا اور اور چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار سے عمران خان کا مطالبہ فوری منظور کر کے کمیشن بٹھانے کی درخواست کی اور کہا کہ اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا انہوں نے دوسرا طریقہ بھی بتایا کہ نیب اس وقت میٹرو پر انکوائری کر رہی ہے وہ عوام کے سامنے لائی جائے اگر کرپشن ثابت نہ ہوئی تو عمران خان کسی درگاہ پر جائیں اور کان پکڑ کر توبہ کریں میاں شہباز شریف نے اس موقعہ پر فورٹ منرو میں کیڈٹ کالج کے قیام کا اعلان بھی کیا جس کا کام گذشتہ روز سے شروع بھی کر دیا گیا اس جلسہ سے سردار اویس خان لغاری سردار جعفر لغاری سمیت دوسرے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے پیشین گوئی کی ہے کہ نگران حکومت پر وزیر اعظم اور اپوزیشن متفق نہیں ہوسکے گی پھر معاملہ سپریم کورٹ میں چلا جائے گا جس کا اظہار آچکا ہے اور انتخابات ایک یا دو مہینے تک منسوخ ہو جائیں گے اگر ایسا ہوا تو پھر اندھیرا ہے اجالا نظر نہیں آئے گا نواز شریف، ایم کیو ایم کی باری آچکی۔ زرداری کے بعد پھر عمران کی باری آئے گی ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں آپ بالادست اور ہم بیس کروڑ زیردست ہیں مگر اب پاکستان کے بنا کچھ نہیں آپ حاکم نہیں منصف ہیں خدا کے لئے مشرقی پاکستان والی صورتحال نہ بنائیں نواز شریف، مریم نواز جیل میں ہوں گے میں الیکشن لڑوں یا نہ لڑوں ملک بچانے کی جنگ لڑوں گا اور ہم پاکستان کو توڑنے کا موقع کسی کو نہیں دیں گے سینیٹ الیکشن نوشتہ دیوار تھا جو افسوسناک تھا شاید ن لیگ نے اس کی تیاری اس انداز میں نہیں کی تھی جس کا میں نے انہیں احساس دلایا تھا لیکن ن لیگ کے کسی بھی رہنما نے مجھے پوچھا تک نہیں کہ میں کس حال میں ہوں۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ سیاہی پھینکنا اور جوتے مارنا سیاسی بد اخلاقی اور کمینہ پن ہے سینٹ الیکشن میں جمہوری عمل کو شکست اور مفاد پرست قوتوں کو اپنا ہدف پورا کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اگر یہ عمل جاری رہا تو عوام کا جمہوریت پر یقین ختم ہو جائے گا۔ سینٹ کے الیکشن ایک طریقہ کار کے تحت ہونا لازمی تھا جو ہوا مگر اس میں جو چیزیں ہمارے مشاہدے میں آئیں وہ اچھی نہیں تھیں اور اس عمل سے جمہوریت کو شکست ہوئی اور مفاد پرست قوتیں کامیاب رہیں اگر یہی عمل جاری رہا تو جمہوریت پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گاجو ملک و قوم کے لئے اچھا شگون نہیں۔ میونسپل سٹیڈیم کوٹ ادو میں نظام مصطفی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتساب اور کرپشن کے چاچے مامے سینٹ میں اکٹھے ہو گئے ڈھولکی پر بندروں کی طرح ناچنے والوں کو سیاست سے نکالنا ہو گا انہوں نے کہا کہ کشمیر کی جنگ مستحکم پاکستان لڑ سکتا ہے عالمی دباؤ سے نکل کر پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑنا ہو گا کیونکہ امریکہ بھارت کو طاقتور بنا کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور امریکی ایجنڈا ایران، افغانستان اور پاکستان کو توڑنا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں روا داری کا درس دیتا ہے جنوبی پنجاب کے عوام جاگ چکے ہیں جنوبی پنجاب کے وڈیرے مظلوم عوام پر ظلم و ستم کر تے آرہے ہیں جے یو آئی میدان عمل میں آچکی ہے ایسے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان رکن سازی مہم کے سلسلہ میں یہاں پہنچے لیکن ان کے آنے اور جہاں جہاں انہوں نے رکن سازی کے لئے جانا تھا وہاں عوام کی عدم دلچسپی سے وہ ماحول نہ بن سکا جس کی توقع کی جارہی تھی کیونکہ یہ امیدوار ٹکٹ کے لئے اپنے اپنے حلقے پر فوکس کر رہے ہیں اور بینرز اور پوسٹرز سے ہی عمران خان کو متاثر کیا جا رہا تھا تاہم انہوں نے کافی جگہ پر رکن سازی مہم میں کارڈ تقسیم کئے اور اس موقعہ پر شریف فیملی اور زرداری پر تنقید کا دامن نہیں چھوڑا اور کہا کہ ہماری تمام تر توجہ 2018 کے جنرل انتخابات پر ہے کارکن نئے پاکستان کا پیغام گھر گھر پہنچائیں کیونکہ تحریک انصاف نے کامیاب ہونا ہے نواز شریف کا کھیل ختم ہو چکا ہے اب وہ روتے پھر رہے ہیں انہوں نے بلاول کو بھی بے بی قرار دیا تحریک کے وائس چیئر مین شاہ محمود حسین قریشی، ظہیر الدین علیزئی، ڈاکٹر خالد خاکوانی، ملک عامر ڈوگر، جاوید اختر انصاری، مخدوم زین قریشی، اعجاز جنجوعہ، وسیم بادوزئی، ابراہیم خان سمیت متعدد رہنماء تمام وقت ان کے ہمراہ رہے۔

مزید : ایڈیشن 1