حلقہ بندیوں کی نئی تقسیم پر سیاسی پارٹیوں کے تحفظات ،معاملہ عدالتوں تک جا سکتا ہے۔

حلقہ بندیوں کی نئی تقسیم پر سیاسی پارٹیوں کے تحفظات ،معاملہ عدالتوں تک جا ...

مردم شماری کے تحت ہونے والی نئی حلقہ بندیوں نے عملدرآمدسے پہلے ہی متنازعہ شکل اختیار کرلی ہے۔ نئی حلقہ بندیوں پر ائے این پی، پاکستان پیپلزپارٹی اور قومی وطن پارٹی نے شدت کیساتھ مخالفت کرتے ہوئے سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں اور مجوزہ نئی حلقہ بندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیاہے کہ حکومت کے اس اقدام کے خلاف اعلی عدالتوں سے رجوع کیا جائیگا۔ان حلقہ بندیوں پر جماعت اسلامی،جے یوآئی اور مسلم لیگ(ن)سمیت دیگر علاقائی پارٹیوں نے بھی ھلکے پھلکے ا نداز میں اعتراض کیا ہے تا ہم بڑی پارٹیوں کوسب سے بڑے دو اعتراضات ہیں اول یہ کہ حلقہ بندیوں کی تقسیم کے وقت سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی، دوئم یہ کہ مذکورہ پارٹیوں کا ووٹ بنک تقسیم کرکے ان کے امیدوارکی کامیابی غیریقینی حتٰی کہ بعض مقامات پر ان کی جیت یقینی شکست میں تبدیل کرنے کی کو شش کی گئی جو سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ لگتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کا آغاز پشاور سے ہوتا تھا جو قومی اسمبلی کیلئے اسی ترتیب سے آگے چل کر پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے اردگرد سمیٹنا تھا مگر نئی مجوزہ حلقہ بندیوں کیلئے چترال سے آغاز کےئے جانے کا منصوبہ ہے پشاور میں حلقہ بندیاں مشرق سے مغرب کی جانب (شرقاً غرباً) کی گئی تھیں جبکہ نئی حلقہ بندیاں شمال سے جنوب (شمالاً جنوباً) تجویز کی گئی ہیں جس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان پیپلز پارٹی اور ائے این پی کو پہنچ رہاہے۔ بعض مقامات پر قومی وطن پارٹی کا ووٹ بنک بھی واضح طور پر تقسیم ہورہا ہے جے یو آئی اور جماعتی اسلامی کا ووٹ بنک فی الحال نئی حلقہ بندیوں کی زد سے محفوظ ہے اسی لئے مذکورہ دونوں پارٹیاں ہلکے پھلکے انداز میں تنقید کرنے پر ہی اکتفا کر رہی ہیں تاہم اگر متاثرہ بڑی سیاسی پارٹیوں نے عملاً اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر لیاتو عدالتوں کے حتمی فیصلہ آنے تک انتخابات کا انعقاد نا ممکن ہوجائے گا اور یوں عام انتخابات کا بر وقت انعقاد بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی اور قومی وطن پارٹی کی طرف سے نئی حلقہ بندیوں کی شدید مخالفت سامنے آئی ہے اے این پی کو نئی حلقہ بندیوں کے تحت بعض مقامات پر ریلیف مل رہاہے شاید یہی وجہ ہے کہ اے این پی نئی حلقہ بندیوں پر شدت کے ساتھ مخالفت کر کے اچانک خاموش ہوگئی بہر حال آنے والے ہفتوں میں بات واضح ہوجائے گی الیکشن کمیشن کی طرف سے نئی حلقہ بندیوں کا نوٹفکیشن جاری ہونے کے بعد کون سی پارٹی جمہوریت کیلئے قربانی دینے کے نام پر مصلحت کا مظاہرہ کرتی ہے اور کونسی پارٹی اعلی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔نئی حلقہ بندیوں کے تنازعات کے ساتھ ہی انتخابی مہم چلائی جارہی ہے عوامی نیشنل پارٹی نے وزیر اعلی پرویز خٹک کے حلقہ نیابت میں جلسہ عام کا انعقاد کیا اس جلسہ میں کارکنوں کی شرکت زیادہ نہ تھی جتنی ہونی چاہئے لیکن پھر بھی کارکنوں کی ایک معقول تعداد جلسے میں شریک ہوئی اس موقع پر اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان تحریک انصاف پر کھلے بندوں تنقید کرتے ہوئے دبے لفظوں میں اور بھی بہت کچھ کہہ گئے اسفندیار ولی خان کا کہنا تھاکہ وہ فرشتوں اور جنات کا مقابلہ نہیں کرسکتے شفاف انتخابات ہوئے تو اے این پی ہر حال میں جیتے گی ۔تاہم عام انتخابات سینٹ الیکشن جیسے نہیں ہونے چاہئیں سینٹ الیکشن میں گھوڑے ہی نہیں پورااصطبل ہی بک گیا انہوں نے عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست اور شرافت عمران خان کے قریب سے نہیں گزری سیاست کے اندر شائستگی ختم کرکے رکھ دی۔ سیاست میں سیاہی اور جوتا چلنے کی نئی روایت لمحہ فکر یہ ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ عمران خان ملک کی سیاست میں ایک افسوسناک اضافہ ہے (5) سال تک اے این پی پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے مگر آج تک اے این پی کے کسی بھی ایک ایم پی اے یا ایم این اے کے خلاف مقدمات قائم نہیں کئے جاسکے الٹا قومی احتساب بیورو نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی

اور وزراء کے خلاف کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی ہیں صوبائی حکومت کے ممبران اپنے وزیراعلیٰ کو منہ پر کرپٹ کہہ رہے ہیں اسفند یار ولی خان نے جے یو آئی اور جماعت اسلامی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ساڑھے چار برسوں تک وفاقی حکومتوں کے مزئے لوٹنے کے بعد اب ایک بار پھر انہیں اسلام یاد آیا اور ایک مرتبہ پھر اسلام کے نام پر اقتدار کی جنگ لڑنے کیلئے دونوں جماعتیں ایک ہو گئیں۔

اسفندیار ولی خان نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان سے اختلاف کسی طور ممکن نہیں حال ہی میں قومی احتساب بیورو نے تحریک انصاف کے بعض صوبائی وزراء سمیت اراکین اسمبلی کے خلاف بد عنوانی کی تحقیقات کی باقائدہ منظوری دی ہے جبکہ بلین ٹری منصوبے میں سنگین بد عنوانیوں سمیت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور عمران خان کے خلاف پہلے سے تحقیقات کی جارہی ہیں ھم اس صورتحال کو مشہور زمانہ اس شعر سے تعبیر کرینگے کہ ’’ آگے آگے دیکھیے ہوتاہے کیا،، قومی احتساب بیورو کی طرف سے چند وزراء یا ایم پی ایز کے خلاف تخقیقات کا آغاز ابتداء عشق ہے ابھی آگے کرپشن کے سنگین اور میگا سکینڈل سامنے آنے کے امکانات کوکسی طور رد نہیں جاسکتا کم وبیش ہر محکمے میں اربوں روپے کے گھپلوں کے انکشافات آئے روز سامنے آرہے ہیں اس مرتبہ سرکاری ملازمین کی ایک معقول تعداد کرپٹ عناصر اور کرپشن کے خلاف کھل کر سامنے آرہی ہے شواہد کے ساتھ کرپشن کی نشاندہی یقیناًان عناصر کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جو کسی نہ کسی طورکرپشن میں ملوث رہے ہیں۔

دوسری طرف بیشتر سرکاری محکموں حصوصاً محکمہ صحت کے ملازمین لمبے عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں جس سے محکمہ کے تمام امور ٹھپ ہو کر رھ گئے ہیں پٹواری حضرات بھی اسی طرح بیشتر محکموں کے ملازمین چھوٹی سطح یا بڑے پیمانے پر احتجاج کر رہے ہیں صوبائی حکومت نے ملازمین کے مسائل سننے کی بجائے ان کے احتجاج پر پابندی عائد کرتے ہوئے سخت ترین تادیبی کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے صوبائی حکومت اسی طرح کا حکم دیتے وقت یہ بات بھول گئی کہ وہ خود بھی اپنے وزراء اور اراکین اسمبلی سمیت 124دن تک احتجاج کرتے رہے صوبائی حکومت کی طرف سے اس طویل ترین احتجاج میں سرکاری ملازمین اور سرکاری وسائل کو بھی استعمال کیا گیا احتجاج کی راہ میں رکاوٹ بننے والی پولیس اور فورسز پر تشدد کیا گیا آج ملازمین اپنا جائز اور آئینی حق مانگ رہے ہیں اور ان پر پابندی عائد کر کے انتقامی کاروائی کا حکم دیا جا رہا ہے جو ہمارے ملک میں سیاست کے دہرے معیار کے غیر متنازعہ پہلو کی نشاندہی کرتا ہے مگر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ دہرے معیار کا یہ پرچم اسی پارٹی نے بلند کیا جو دہرے معیار کے خلاف نعرہ لگا کر انتحابات جیتی ہے

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...