گورننس بہتر بنانے اور انسانی وسائل کی ترقی میں ریسرچ ناگزیر ہے ، ڈاکٹر نظام الدین

گورننس بہتر بنانے اور انسانی وسائل کی ترقی میں ریسرچ ناگزیر ہے ، ڈاکٹر نظام ...

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے کہا ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں ڈی سنٹرلائزیشن کی پالیسی متعارف کرائے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹوسائنسز کے زیر اہتمام پنجاب اکنامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے’گورننس ، مینجمنٹ اور انسانی وسائل کی جانب توجیحات ‘ کے موضوع پردو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ اس موقع پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر، پروفیسر ڈاکٹرناصرہ جبیں ، ڈاکٹر ممتاز انور، پروفیسر ٹام کرسٹینن،وکٹوریا پروفیسر ایون برمن، دنیا کی مختلف ممالک سے وفود شریک تھے۔ ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ گورننس کو بہتر بنانے اور انسانی وسائل کی ترقی میں ریسرچ کردار ادا کر سکتی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ ایسی کانفرنسز کی جانب توجہ دی جائے ۔

جو کہ پنجاب میں معاشی ترقی لانے کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ خطہ کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا جس کو کامیاب بنانے کیلئے جامع حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹیاں پبلک پالیسیوں کیلئے بحث مباحثے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔وائس چانسلر پنجا ب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے کہا کہ ہمیں انوویٹو آئیڈیاز کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور ایسی کانفرنسز ہمارے بین الاقوامی سطح پر رابطوں کو مضبو ط کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورننس کا تعلق انسانی وسائل سے ہوتا ہے اور ملکی ترقی کیلئے انسانی وسائل کو ترقی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب حکومت کوملکی و بین الاقوامی سطح پر گورننس ، مینجمنٹ اور انسانی وسائل سے متعلق مسائل درپیش ہیں ایسے وقت میں ہمیں خدمات کی بہتر فراہمی کے لئے اصلاحات نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو ایسی کانفرنسز سے دوسروں کے بارے میں جاننے ، اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے اور تجربات سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے ماہرین تعلیم کی شرکت سے کانفرنس میں مختلف نظریات جمع ہوئے ہیں جس سے ہمیں اپنے اداروں اور ریاست کو درست سمت میں ڈھالنے کیلئے نئے آئیڈیاز مل سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ جبیں نے کہا کہ کانفرنس کامقصد پاکستان میں سی پیک کے سماجی و اقتصادی اثرات اور گورننس ، مینجمنٹ اور انسانی وسائل کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کیلئے عملی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ڈاکٹر ممتاز انور نے کہا کہ کانفرنس کا تھیم انسانی وسائل اور تنظیمی سٹرکچر پر فوکس کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دور میں پبلک سیکٹر میں موثر افرادی قوت کی فراہمی میں پیش رفت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل پر خرچ کرنا گورننس اور مینجمنٹ کیلئے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پروفیسر ٹام کرسٹینن اورپروفیسر ایون برمن نے گورننس کی بہتری اور انسانی وسائل کی ترقی پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے ساتھ دو الگ موضوعات پر لیکچر دیئے۔ کانفرنس میں 200مقالوں میں منتخب کئے گئے 72تحقیقی مقالے پیش کئے گے۔ کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4