پاکستان پولیو کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب پہنچ چکا ،عائشہ رضا فاروق

پاکستان پولیو کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب پہنچ چکا ،عائشہ رضا فاروق

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو سنیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ حالیہ کامیابیوں میں استحکام لانے کے باوجود ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پولیو کے خلاف جاری یہ جدوجہد صرف اس صورت میں مکمل ہو سکے گی جب ہم پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد کو مستقل طور پر صفر پر رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پولیو کے موذی وائرس کے پھیلاؤ کوروکنے کا حل کوئی جادو نہیں ہے صرف سخت محنت اور والدین اور کمیونٹی کے افراد میں آگاہی پیدا کر نا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلوائیں، اس موذی وائرس کے پھیلاؤ کو مستقل بنیادوں پر محدود کر سکتا ہے۔ ہمارے صف اول کے ورکرز گھر گھر جا کر 3 کروڑ 70 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے میں ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گذشتہ روز نیشنل پولیو منیجمنٹ ٹیم کے اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر سمیت تمام صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز بشمول اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد و جموں کشمیر کے کوآرڈینیٹرز اور نیشنل ای پی آئی پروگرام کے وفاقی اور صوبائی ڈائریکٹر نے شرکت کی۔ سنیٹر عائشہ رضا فاروق نے این پی ایم ٹی کے شرکاء کا پولیو کے خاتمے کے حوالے سے پرُعزم جدوجہد جاری رکھتے ہوئے پولیو کے تدارک کے پروگرام کو درست سمت میں جاری رکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔پولیو کوارڈینیٹر برائے پولیو تدارک ڈاکٹر رانا صفدر نے اس موقع پر بتایا کہ پولیو کے خاتمے کے حوالے سے 2014 میں پولیو کے 306 کیسز تھے، 2015 میں 54 ، 2016 میں 20 اور 2017 میں 8 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 2018 میں ابھی تک کوئی کیس رپورٹ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پولیو کے مہلک وائرس کو مکمل ختم کرنے کے لیے درست حکمت عملی پر کارفرما ہے اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ہم رواں سال میں اس مہلک مرض سے ہمیشہ کے لیے نجات پا لیں گے ۔نیشنل پولیو منیجمنٹ ٹیم کے اجلاس میں تمام صوبوں ، فاٹا، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں پروگرام کی کارکردگی اور ان علاقوں میں پائے جانے والے ممکنہ خطرات کو بروقت نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کے بعد عملی اقدامات بھی تجویز کئے گئے۔ ٹیم کا متفقہ خیال تھا کہ ملک پولیو کے تدارک کی منزل کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور اب تمام مکاتب فکر کو پروگرام کی مدد کرتے ہوئے مثبت پیغامات لوگوں تک پہنچانے چاہئیں تاکہ کوئی بھی پولیو ویکسین کے حوالے سے پھیلائے جانے والے پراپیگنڈہ کا شکار نہ ہونے پائے ۔ اجلاس میں لیبارٹری کی مستند رپورٹوں اور طبی ماہرین کی بنیاد پر یہ بات بتائی گئی کہ پولیو کے قطرے اورانجیکشن انسانی صحت کے لیے محفوظ ترین ہیں اور دنیا بھر میں دس ارب سے زائد قطروں کے استعمال کے بعدکہیں بھی اس ویکسین کے کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔

مزید : صفحہ آخر