دنیا میں آج ہتھیاروں نہیں، نظریات و پراپیگنڈے کی جنگ ہے، مشاہد سید

دنیا میں آج ہتھیاروں نہیں، نظریات و پراپیگنڈے کی جنگ ہے، مشاہد سید

اسلام آباد( این این آئی)مسلم لیگ کے رہنما و سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ اب دنیا میں ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ نظریات اور پراپیگنڈے کی جنگ ہے،جو موثر نظریات اور پراپیگنڈے کے ذریعے آگے بڑھے گا وہی فاتح ہوگا، پاکستان مخالف قوتیں بھی سی پیک کے خلاف پراپیگنڈے کے ذریعے ملکی اور خطے کی ترقی کو روکنا چاہتی ہیں،اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے ذریعے پاکستان مخالف پراپیگنڈے کی روک تھام ممکن ہے۔ وہ منگل کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام بین الاقوامی پروفیشنل ڈویلپمنٹ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے تعلیمی ترقی شرط اور تعلیمی ترقی کیلئے معاشرے میں اساتذہ کا احترام لازم ہے، پہلے اساتذہ کی تنخواہیں بہت کم ہوا کرتی تھیں اب تو لیکچرار و پروفیسرز کی پنشن بھی سینیٹرز کی تنخواہوں سے زیادہ ہوتی ہیں،اساتذہ کی خدمات کو سراہنے کیلئے پہلی مرتبہ نیشنل ٹیچرز ڈے کا انعقاد کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہم نے طلباء کے ساتھ ساتھ اساتذہ کیلئے بھی اسکالرشپس کا اجراء کیا تاکہ وہ مختلف بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پاکستانی جامعات کے معیار کو بڑھا سکیں،امریکہ، برطانیہ، چین، کازقستان سمیت دیگر ممالک میں 14 چیئرز خالی تھے، جن کو ختم کرانے کیلئے ہم پر دباؤ ڈالا گیا لیکن ہم نے اس پر پروفیشنل اور قابل لوگوں کو بھرتی کر کے فکلیٹی معیار کو بڑھانے کی طرف قدم اٹھایا ، چودہ میں سے7 پر خواتین کو بھرتی کیا گیا ،معیاری تعلیم مرد وعورت دونوں کا بنیادی حق ہے،عورتوں کی تعلیم کے بغیرملک ترقی نہیں کرسکتا،ملکی ترقی کیلئے معیاری یونیورسٹیوں کا قیام ضروری ہے، پاکستان کے قیام میں بھی علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے اہم کردار اداکیا ہے، اگر علی گڑھ یونیورسٹی نہ ہوتی تو شاید پاکستان معرض وجود میں نہ آتا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق بجٹ اور قانون سازی میں موثر کردار ادا کریں گے ۔ کانفرنس سے ڈی جی لرننگ اینڈ انویشن ایچ ای سی فداحسین، پروفیسرڈاکٹر ارشد علی، میڈیم شاہین خان نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر مہمان خصوصی سینیٹر مشاہد حسین سید نے منتظمین اور نمایاں خدمات انجام دینے ولوں میں شیلڈز بھی تقسیم کیے۔

مشاہد سید

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...