ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کے کچھ علاقوں سے فوج واپس بلانے کا اعلان

ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کے کچھ علاقوں سے فوج واپس بلانے کا اعلان

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، بعد ازاں ٹرمپ نے اوول آفس میں ولی عہد محمد کے ہمراہ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ایران خطے اور دنیا کیساتھ مناسب طریقے سے پیش نہیں آ رہا، ایران میں بہت سی خراب باتیں ہو رہی ہیں۔مشرق وسطیٰ میں داعش کی مثال دیتے ہوئے، جس کا تقریباً صفایا ہوچکا ہے، صدر نے اعلان کیا کہ امریکہ کی فوج کچھ علاقوں سے واپس بلائی جائے گی، جہاں ایک طویل عرصے سے ہم انخلا کے کوشاں ر ہے ہیں، دوسرے ملک معاملے کو دیکھ سکتے ہیں۔ ایسا مرحلہ آگیا ہے جب وہ اس معاملے سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔اپنے کلمات میں، ولی عہد نے کہا یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہاں موجود ہیں۔ یقینی طور پر ہم نے تمام مواقع کے حصول سے متعلق امور پر گفت و شنید اور اْن خطرات پر بات کی ہے جو امریکہ، سعودی عرب اور ’’پوری دنیا‘‘ کو لاحق ہیں۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی کے معاملے کو امر یکہ کسی طور پر برداشت نہیں کرتا۔ انہوں نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ اس ضمن میں سعودی عرب ٹھوس کوششیں کر رہا ہے، ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کے کچھ دیگر ملک بھی ایسا کر رہے ہیں۔ تاہم اْنھوں نے اْن کا نام نہیں لیا۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا ۔دہشت گردوں کو رقوم میسر آنے کا معاملہ بند ہو چکا ہے۔سعودی عرب کیساتھ ساتھ خلیج فارس کی دیگر دو ریاستوں سمیت، مصر بھی قطر کیسا تھ جھگڑتا رہا ہے۔ وہ سلطنت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اسلامی دہشت گردی کو فنڈ فراہم کرتا ہے۔ دریں اثنا، سعودی عرب کے نا قد ین نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ ایک طویل عرصے سے سعودی عرب اسلام کے قدامت پسند سلفی سلسلے کو پھیلا رہا ہے، جو اکثر پْر تشدد انتہا پسند ی سے وابستہ رہا ہے۔سعودی عرب کو سراہتے ہوئے ٹرمپ نے کہا وہ اسلحے اور کئی چیزوں کا بڑا خریدار ہے، جس کے باعث ’’سیکڑوں ارب ڈالر امریکہ آ رہے ہیں۔اوول آفس کی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے پوسٹر پڑھ کر تفصیل بتائی کہ سعودی عرب کی سلطنت کو کیا دفاعی اسلحہ فروخت کیا جا رہا ہے، جس کیلئے صدر نے کہا اس کے باعث امریکہ میں 40000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا عام لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے دور میں یہ تعلقات انتہائی، بہت ہی تناؤ کا شکار تھے اور یہ تعلقات شاید کبھی اتنے اچھے نہیں تھے۔ٹرمپ نے کھل کر سنی شہنشاہیت کی حمایت کی ہے جس کا شیعہ مسلک والا ایران رقیب ہے۔بتیس برس کا ولی عہد واشنگٹن میں صدر کی کابینہ کے متعدد ارکان کیساتھ بھی ملاقات کرنیوالا ہے، جن میں کاروبار، دفاع اور خزانے کے وزرا کے علاوہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ اور ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔سعودی عرب کے سفارت خانے کے مطا بق صدر کے داماد جیرڈ کوشنر، اور وائٹ ہاؤس کے ایلچی برائے مشرق وسطیٰ امن، جیرڈ گرین بلیٹ منگل کی شام ولی عہد محمد کی جانب سے د یے جانیوالے عشائیہ میں شرکت کریں گے۔اس سے قبل، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہل کار نے کہا ہے ملاقات پیش رفت کے حصول کے اعتبار سے اور ’’خطے میں ایران کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں‘‘ سے متعلق گفتگو کے حوالے سے اس اچھا موقع فراہم کرتی ہے۔ولی عہد جو ’ایم بی ایس کے نام سے مشہور ہیں، فائدے کے حصول کی تگ و دو میں سرگرداں ہیں۔

ترمپ اعلان

واشنگٹن(آئی این پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منشیات کی روک تھام کیلیے منشیات فروشوں کو سزائے موت دینے کا وقت آگیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست نیو ہیمشائر کے شہر مانچسٹر میں خطاب کرتے ہوئے ٹڑمپ نے کہا کہ امریکا میں دو سال کے اندر 63 ہزار سے زائد افراد نشے کی عادت کے باعث مرچکے ہیں جب کہ 24 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ لہذا اب منشیات فروشوں کے خلاف مثر کارروائی کا وقت آ گیا ہے جس کیلیے منشیات فروشوں کو سخت سزا دینا ہوگی اور ان کیلئے موت کی سزا بھی زیر غور ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ فلپائن میں منشیات فروشوں کیلیے سخت کارروائی کی گئی جو قابل ستائش ہے۔

منشیات فروشوں کیخلاف جنگ

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...