سندھ ہائیکورٹ کا 10روز میں دودھ کی قیمت طے کرنے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کا 10روز میں دودھ کی قیمت طے کرنے کا حکم

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ ہائیکورٹ نے کمشنر کراچی کو 10 روز میں دودھ کی قیمت طے کرنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائیکورٹ میں دودھ کے نرخ کے تعین سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں کمشنر کراچی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ کئی اجلاس ہونے کے بعد قیمت طے کی ہے، ہم نے دودھ کی 95 روپے طے کی لیکن ریٹیلرز راضی نہیں، ریٹیلرز 6 روپے فی کلو مزید اضافہ چاہتے ہیں۔اس موقع پر ریٹیلرز کی جانب سے عدالت میں مؤقف اپنایا گیا کہ ہمیں دودھ 84 روپے میں پڑتا ہے اور اخراجات کے بعد 94 روپے بنتا ہے۔اس پر جسٹس عقیل نے کہا کہ آپ لوگ اتنے معصوم نہیں، شہر میں 100 روپے لیٹر بھی بیچ رہے ہیں۔جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ڈیری فارمرز لوگوں کودودھ فراہم کریں، یہ تماشہ لگارکھا ہے، ہرکوئی کمانے کے چکر میں پڑا ہے، مناسب منافع لیں لوگوں کو تکلیف نہ پہنچائیں، ایسا طریقہ کارہوکہ لوگوں کومناسب قیمت پردودھ ملے، طریقہ کار نہ بنا توحکومت سندھ کومعاملہ سنبھالنے کاکہیں گے۔کمشنر کراچی نے کہا کہ عدالت مجھے فری ہینڈ دے تو انہیں 24گھنٹے میں ٹھیک کردوں گا، انتظامیہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ہم کارروائی بعد میں کرتے ہیں، ضمانت پہلے ہوجاتی ہے۔عدالت نے فریقین کو 10 روز میں دودھ کے نرخ طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں سے متعلق نوٹی فکیشن بھی 10 روز میں ہی جاری کیا جائے۔عدالت کے حکم پر ریٹیلرز نے کہا کہ اللہ کاواسطہ ہے آج ہی فیصلہ کریں ہم دیوالیہ ہوجائیں گے۔سماعت کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کمشنر کراچی اعجاز احمد خان نے کہا کہ دودھ کے نرخ ابھی مقررنہیں کیے، آئندہ سماعت تک دودھ 85 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔انہوں نے کہا کہا کہ فریقین سے مل کر 95 روپے دودھ فروخت کرنے کی سفارش کی تھی لیکن ریٹیلر ز95 روپے میں بھی دودھ فروخت کرنے میں راضی نہیں ہوئے۔

دودھ

مزید : صفحہ اول