ہمارے کیس میں کچھ نہیں پھر بھی کچھ نکالا جا رہا ہے : نواز شریف

ہمارے کیس میں کچھ نہیں پھر بھی کچھ نکالا جا رہا ہے : نواز شریف

اسلام آباد(آئی این پی ) مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے کیس میں کچھ نہیں لیکن پھر بھی کچھ نکالا جا رہا ہے،نئے ریفرنسز دلیپ کمار کی فلم جیسے ہیں، یہ صرف میرے والد کے کاروبار کے پیچھے ہی پڑے ہوئے ہیں، اگر حساب لینا ہے تو 1937سے لیں، دستاویزات پیش کی گئیں وہ ہم نے خود فراہم کیں ،پی ٹی آئی بنی ہی عامر لیاقت جیسے لوگوں کے لیے ہے،اللہ کا شکرہے کہ وہ(ن)لیگ میں شامل نہیں ہوئے، کسی سے کوئی توقع نہیں رکھنا چاہتے، جب توقع ہی اٹھ گئی غالب تو کیا گلہ کرے کوئی، دنیا کا دستور ہے چلتا رہتا ہے اورمشرف کی واپسی کی خبروں پر ہنسا ہی جا سکتا ہے۔ منگل کو احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ریفرنسزکا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، نئے ریفرنس میں پہلے ریفرنس کا خول چڑھا دیا گیا، نیا ریفرنس دائرکرنے کی کیا ضرورت تھی جب پہلے ریفرنس میں کچھ نہیں نکلا، پہلے چھ ماہ میں کون سی چیزثابت ہوئی جو ڈیڑھ ماہ میں ثابت ہوجائے گی، یہ دلیپ کمارکی فلم جیسا حال ہے کہ بیوی کو جب پیار نہ ملا تو اس نے دلیپ کمار کے بیڈ روم کو ہی آگ لگا دی۔نوازشریف نے کہا کہ رینٹل پاور، کوٹیکنا، این آئی سی ایل جیسے کیسزہیں جن پرکرپشن ثابت ہوئی لیکن سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے کیس سنے نہیں جارہے، ہمارے کیس میں کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی کچھ نکالا جا رہا ہے، صرف میرے والد کے کاروبار کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ہمیں اللہ تعالی نے 1937 سے نوازنا شروع کیا اور اگر حساب لینا ہے تو 1937 سے لیں۔گفتگو کے دوران صحافی کی جانب سے پی ٹی آئی میں عامر لیاقت کی شمولیت سے متعلق سوال کیا گیا تونوازشریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ وہ ن لیگ میں شامل نہیں ہوئے، انہوں نے چند سال پہلے کوشش کی تھی لیکن شمولیت نہیں کی، پی ٹی آئی بنی ہی عامر لیاقت جیسے لوگوں کے لیے ہے، پی ٹی آئی میں عامر لیاقت جیسے لوگ ہی سجتے ہیں جب کہ نواز شریف چوہدری نثارسے متعلق سوال پر خاموش رہے ۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے کہا ہے کہ پہلے کہا گیا فلیٹ میرے ہیں،پھر وہی ملکیت میاں صاحب پر ڈال دی، ہم سے پوچھتے ہیں کہ اثاثے کیسے بنائے، آپ نے کرپشن کا الزام لگایا ہے کرپشن ثابت کریں، عمران خان نے تسلیم کیا کہ آف شور کمپنی ان کی ہے لیکن انہیں کہا جاتا ہے نہیں نہیں تم ٹھیک ہو۔منگل کو احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے کہا کیس میں کوئی جان نہیں ہے ، پہلے کہا گیا فلیٹ میرے ہیں، پھر وہی ملکیت میاں صاحب پر ڈال دی۔ مریم نواز نے بھی چچا اور والد کے بعد اشعار کی زبان میں شکو ہ کرڈالا اور صوفی شاعر میا ں محمدبخشؒ کاکلام پڑھتے ہوئے کہاکہ چنگیاں نال جے نیکی کریئے نسلاں تک نی بھلدے۔ بد نسلاں نال تے نیکی کریئے تے پٹھیاں چالاں چلدے۔

نوازشریف

اسلام آباد(آئی این پی ) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، جو (آج) بدھ کو سنائے جانے کا امکان ہے،پاناما جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے نواز شریف کی متحدہ عرب امارات میں ملازمت سے متعلق اقامہ اور معاہدہ عدالت میں پیش کردیا،کیس کی مزید سماعت(کل) جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنس پر سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے احتساب عدالت میں متفرق درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پہلے طے کرلیا جائے کہ واجد ضیا کون سی چیزیں ریکارڈ پر لاسکتے ہیں۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دائر کی گئی تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ 3 حصوں پر مشتمل ہے، جس کا ایک حصہ دستاویزات، دوسرا حصہ بیانات اور تیسرا حصہ تجزیات پر مشتمل ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ تفتیشی افسر رائے دینے کا حق نہیں رکھتا، گناہ اور بے گناہی کا تعین عدالت نے کرنا ہے، واجد ضیا نے نہیں۔مزید کہا گیا کہ حقائق اور آرا ء میں فرق ہوتا ہے۔سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور عدالت میں شیزی نقوی کا بیان حلفی، حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان معاہدے کا خط، فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے تحت قائم کمپنیوں کی فنانشل دستاویزات، آف شور کمپنیوں سے متعلق فلو چارٹ، مختلف کمپنیوں کے مابین لین دین اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ، متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کا جوابی خط، نیلسن، نیسکول اور کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ، جفزا اتھارٹی کا خط اور رابرٹ ریڈلی کی فرانزک رپورٹ بھی پیش کی۔سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم 3 کے اضافی آٹھ صفحات غائب ہیں۔جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے کہا کہ اضافی آٹھ صفحات فراہم کردیئے جائیں گے۔پاناما جے آئی ٹی سربراہ نے کیپیٹل ایف زیڈ ای میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ملازمت سے متعلق اقامہ اور جبل علی فری زون اتھارٹی کی جانب سے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں پیش کیا۔تاہم مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اعتراض کیا کہ قانون شہادت کے تحت اس دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ جبل علی فری زون اتھارٹی کی دستاویزات نوٹری پبلک، پاکستان قونصل سے تصدیق شدہ نہیں۔واجد ضیا نے کہا کہ خط کے مطابق نواز شریف کیپیٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ کے چیئرمین تھے اور 10 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ وصول کررہے تھے۔مریم نواز کے وکیل نے جفزا اتھارٹی کے خط پر بھی اعتراض اٹھایا اور سوال کیا کہ کیسے ثابت ہوگا کہ یہ پبلک دستاویز ہے، پتہ نہیں چلتا کہ یہ خط کسے لکھا گیا ہے۔جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ جفزا ویسے ہی اتھارٹی ہے جیسے پاکستان میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن(ایس ای سی پی)۔مریم نواز کے وکیل کے اعتراض کے ساتھ اقامہ سے متعلق دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا۔جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان گذشتہ 3 سماعتوں سے جاری ہے، ان کا بیان مکمل ہونے پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز جرح کریں گے۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس پر سماعت(آج) بدھ کو ہوگی، جہاں واجد ضیا پہلی مرتبہ بطور گواہ پیش ہوں گے۔

ایون فیلڈ ریفرنس

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...