آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری جاری، ایس آر او کلچر کا خاتمہ، افراطِ زر 8فیصد کم رکھنے کا فیصلہ

آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری جاری، ایس آر او کلچر کا خاتمہ، افراطِ زر 8فیصد ...

لاہور (اسد اقبال) وفاقی وزارت تجارت،ایف بی آر، وزارت خزانہ اور حکو متی ٹیم کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ 2018-19کی تیاری جاری ہے۔ ابتدائی اطلا عات کے مطا بق آئندہ مالی سا ل 2018-19 کے وفاقی بجٹ میں ایئرکنڈیشن شاپنگ مال کی تمام دکانوں کیلئے سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن،گاڑیوں کی رجسٹریشن کی فیس میں1000روپے تک اضافہ جبکہ ہوائی سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے اور سرکاری تنخواہوں میں 10فیصد اضافے کی تجویز ہے،علاوہ ازیں بجلی پیدا کرنے کیلئے شروع کیے گئے منصوبوں کی تکمیل کیلئے اربو ں روپے مختص کر تے ہو ئے غیر ملکی سر مایہ کاری کو بھی فروغ دیا جائے گا جس کیلئے باقاعدہ منصو بہ بندی کر لی گئی ہے ۔ دوسری جانب بجٹ سے قبل ایمنسٹی سکیم متعارف کروا کر ٹیکس پیئرز کو ریلیف جبکہ نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے پرکشش مراعات دی جائیں گی ۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)کی حکومت اپنے موجودہ اقتدار کے آخری سال کے بجٹ میں ٹیکس وصولی کو بہتر کرنے کیلئے خصو صی ا قدامات پر غور کر رہی ہے، تاہم موجودہ حکو مت اپنے پانچویں بجٹ میں بھی معاشی اصلاحات کا ایجنڈا مکمل کر نے میں ناکام رہے گی،آئندہ مالی سال کا ٹیکس ٹارگٹ4کھرب روپے رکھا جائے گا جبکہ ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے ایف بی آر کے قوانین میں نر می رکھی جائے گی ۔بجٹ میں ایس آر او کلچر کا خاتمہ، بجلی پر سبسڈی میں کمی اور افراط زر کو آٹھ فیصد سے کم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اقتصا د ی ترقی کی رفتار بڑھائی جا سکے ۔ ترقیاتی کاموں کیلئے 40ارب روپے رکھے جا رہے ہیں جس میں مقامی اور بین الاقوامی مواصلاتی رابطو ں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ماہرین معیشت اور آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بجٹ میں ہمیشہ لفظوں کا ہیر پھیر کر کے قوم کو بے وقوف بنایا جاتا ہے جبکہ حکمران اپنی سرکاری عیاشیاں پوری کر نے کیلئے ٹیکس دہندگان پر مذید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں ،لیکن استحکام معیشت کیلئے ٹھو س و تھنک ٹینک منصوبہ بندی بجٹ کا حصہ نہیں ہوتی ،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شرح نمو کم از کم پانچ فیصد ہو گی تاہم روپے کی قیمت میں استحکام حکومت کا بڑا امتحان ہو گا کیونکہ اسکی قیمت گرنے سے کاروباری افراد متا ثر ہونگے۔

مزید : صفحہ آخر