پھر ایک دریا کا سامنا ہے مجھ کو

پھر ایک دریا کا سامنا ہے مجھ کو

میرے محترم بھائی نے سیاسی صورتحال اور تقسیم پرایک نیا دوقومی نظریہ پیش کر دیا ہے اور مارچ کے انہی دنوں میں پیش کیا ہے جن دنوں آج سے اٹھہتر برس پہلے قائداعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت لاہور کے منٹو پارک میں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور منظور کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کوخود مختاری دے دی جائے۔ ہندو پریس نے اسے قرارداد پاکستان کا نام دیا تھا اور حالات کا جبر تھا کہ اس کے بعد ہمارے آباو اجداد ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے سرگرم ہو گئے تھے۔ ہمارے آباو اجداد جانتے تھے کہ وہ ہندوستان میں رہتے ہوئے کبھی ایک فرد ایک ووٹ کے اصول کے تحت اقتدار تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ ہمیشہ اس اکثریت کے تابع رہیں گے جو دولت مند بھی ہے اور طاقتور بھی ہے۔وہ اکثریت ہماری مسلمان اقلیت کو اپنے ساتھ بٹھانے کے لئے تیار نہیں تھی، وہ ان برتنوں میں پانی نہیں پیتے تھے جنہیں ہمارے بڑے چھو لیتے تھے۔ ان کے بڑوں کا اس وقت دھرم بھرشٹ ہوجاتا تھا جب ہمارے پاوں ان کے علاقوں میں پڑجاتے تھے۔

تئیس یا چوبیس مارچ کو منٹو پارک میں جو کچھ ہوا وہ ایک سیاسی عمل تھا اور میں قرارداد لاہور کی سالگرہ منانے کی تیاریاں دیکھتے ہوئے حیران ہو رہا ہوں کہ اس دن کو منانے میں ہماری سیاسی جماعتیں کہاں ہیں۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان فوجیوں، توپوں اور ٹینکوں کے ذریعے نہیں بنایا گیا تھا مگر آج یوم قرارداد پاکستان پر ہم جو کچھ بطور قوم دیکھ رہے ہیں وہ سب جنگ سے متعلق ہے۔ یہ سب ہماری اجتماعی فکر اور شعور میں ابہام اور مغالطے پیدا کر رہا ہے۔ وہ سیاست اورجمہوریت جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا وہ آج کٹہرے میں کھڑی ہیں۔ میں یہاں سیاستدانوں کی نااہلی اور کرپشن کا مقدمہ نہیں لڑنا چاہتا مگر اتنا ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں اپنی نوعمری سے پیپلزپارٹی کی کرپشن سے بنے ہوئے جن محلات کے بارے سن رہا تھا وہ کہاں ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی جب کچھ روز پہلے مسلم لیگ نون کے نئے منتخب ہونے والے صدر شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر زرداری صاحب کا پیٹ پھاڑ کے حرام کی تمام دولت نکالنے کی بڑھک لگائی۔

دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ وہ سرے محل غائب ہو چکا ہے جس پر ایک عشرے تک سیاست چمکائی گئی تھی۔نواز شریف کے جن فلیٹوں کا بہت شور مچا تھا وہ تو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں غلط ثابت نہیں کئے جا سکے اور پاناما کا فیصلہ اقاما پر کر دیا گیا۔ عمران کے دامن پربہت سارے چھید بھی ہیں اور بہت سارے داغ بھی، وہ اپنی انگلی اپنے مخالفین کی طرف اٹھائے کھڑے ہیں جبکہ ان کے اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں ان کی طرف اشارے کر رہی ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اگر سیاستدان ، سیاست اور جمہوریت کے مخالفین کے ہاتھوں، یرغمال اور کھلونا نہ بنتے تو آج ان کا یہ حال بھی نہ ہوتا۔

جو تاریخ کو بہت اچھے سے جانتے ہیں وہ ایک ایک واقعے کی تفصیل بیان کر سکتے ہیں اور ایک ایک شخص کی کنٹری بیوشن بھی، ہم جب بات کرتے ہیں تو نظرئیے پر کرتے ہیں، واقعات اور شخصیات اس کے بعد اہمیت اختیار کرتی ہیں۔پاکستان بننے کے بعد ایک مرتبہ پھر دو قومی نظریہ زندہ ہو گیا تھا جب نوزائیدہ مملکت کو چلانے کے بارے طریقہ کارپر ابہام پیدا ہوا تھا۔ یہ ابہام اس وقت تصادم کی صورت اختیار کر گیا تھا جب اس وقت کا آمر ایوب خان اور ملت کی ماں فاطمہ جناح ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے تھے۔ مادر ملت نے اس وقت بھی ووٹ کی عزت کی بات کی تھی جسے نواز شریف اب اپنے جلسوں میں سنا رہے ہیں۔ ایک طبقہ وہ تھا جو بالادست تھا، جس کے پاس اختیارات تھے، جس کے پاس دولت تھی، جس کے پاس لاٹھی تھی اور اس کے مقابلے میں دوسرے طبقے کے پاس حکومت کے لئے صرف ووٹ تھا۔ اس طبقے میں وہ بنگالی بھائی اور بہنیں بھی شامل تھے جو ہم سے ہزاروں میل دور تھے اور پھر انہوں نے ایوب خان کی آمریت کے ساتھ ہی اپنے الگ قوم ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

ان کے بعد ہم جو باقی بچے ہم نے ضیاء الحق کے بعد پرویز مشرف کا مارشل لاء بھی بھگت لیا ہے مگر اس کے باوجود ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ درست کہا گیا کہ ضیاء الحق کے دورمیں شراکت اقتدار کا فارمولہ پیش کیا گیا تھا اور اقتدار میں شراکت دو مختلف قوموں کی ہوا کرتی ہے بھلا ایک قوم بھی آپس میں کہیں شراکت کرتی ہے۔ برصغیر ربع صدی سے بھی قلیل عرصے میں دو قومی نظرئیے پر دو مرتبہ تقسیم ہوا ہے۔ ایک مرتبہ ہندو اورمسلم کی تقسیم تھی اور دوسری مرتبہ ان لوگوں نے اپنی الگ شناخت بنا لی تھی جو ہمارے بالادست طبقات کے باغی تھے۔ مجھے آج ایک اور فکری مغالطہ دور کر لینے دیجئے، کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے قیام کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی زندگیوں، مالوں اور عزتوں کی قربانی دی تھی۔ مجھے کہنے دیجئے کہ میرے قائد حضرت محمد علی جناح نے نہ تو ایسا سوچا تھا اور نہ ہی ایسا پلان کیا تھا۔ ان کی پیش کر دہ تقسیم واضح تھی۔ جانوں اور عزتوں سے اس وقت کھیلا گیا تھا جب ہجرت شروع ہوئی تھی ۔

میں نے کہا، قومیں نظرئیے کی بنیاد پر بنتی ہیں اورآج نواز شریف اس قوم کے سرخیل بنے ہوئے ہیں جو ہمیشہ سے ووٹ کی عزت کی لٖڑائی لڑتی آئی ہے۔ یہ امر بہت دلچسپ ہے کہ وہ بہت سارے لوگ جو فکری اورنظریاتی طور پر پیپلزپارٹی سے وابستہ ہوا کرتے تھے، عوام کی حاکمیت کی بات کیا کرتے تھے اب وہ آصف علی زرداری کی بجائے نواز شریف کے حلیف بنے ہوئے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ان لوگوں نے اپنی صف نہیں بدلی، وہ اپنی جگہ پر کھڑے ہیں مگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون نے ضرور جگہیں بدل لی ہیں۔میں یہاں صرف اس وجہ سے تحریک انصاف کا ذکر نہیں کرنا چاہتا کہ اس جماعت کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ یہ واحد جماعت ہے جو نئے لبرل پاکستان کے قیام کی علم بردار بھی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے پرانے پاکستان کی محافظ بھی ہے۔.

میں چاروں صوبوں میں ایک مرتبہ پھر دو قومی نظرئیے کو ابھرتا ہوا دیکھ رہا ہوں اور ہمارے جولائی میں ہونے والے انتخابات اسی دوقومی نظرئیے کی بنیا د پر ہوں گے۔ ایک طرف وہ قوم ہوگی جن کے پاس دنیا کی ساری سہولتیں موجودہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں�آنے والے ان سہولتوں میں اپنا حصہ نہ مانگ لیں۔ وہ قوتیں ووٹ کے نظرئیے پر بننے والی قوم کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کریں گی ۔ میں نے دیکھا ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں ان قوتوں نے عوام کے ووٹ کے فارمولے کو کامیابی سے ٹھکانے لگایا ہے۔

اور عین ممکن ہے کہ اگلے انتخابات میں ایک لٹکتی ہوئی پارلیمان کے قیام کا مقصد ھاصل کر لیا جائے اور اگر ایسا ہوا تو یہ طاقت اور ووٹ کے نظرئیے پر ایک ہی خطے میں رہنے والوں پر مشتمل دونوں قوموں میں فاصلے مزید بڑھ جائیں گے۔ اگر آپ ا س امر سے انکا ر کرتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت دو قومیں موجود نہیں ہیں تو برائے مہربانی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات کا آنکھیں کھول کے جائزہ لیجئے۔اداروں میں سینیٹ سے شروع ہوجائیے ،سپریم کورٹ آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو جیسے اداروں میں ہی دیکھ لیجئے، آپ کو دونوں قومیں اپنی اپنی جگہ جدوجہد کرتی نظر آجائیں گی لیکن اگر آپ اپنی آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...