ایوان فیلڈ ر یفرنس ، نواز شریف کی درخواست پر آج فیصلہ سنائے جانے کا امکان

ایوان فیلڈ ر یفرنس ، نواز شریف کی درخواست پر آج فیصلہ سنائے جانے کا امکان

اسلام آباد(آئی این پی ) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، جو (آج) بدھ کو سنائے جانے کا امکان ہے،پاناما جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے نواز شریف کی متحدہ عرب امارات میں ملازمت سے متعلق اقامہ اور معاہدہ عدالت میں پیش کردیا،کیس کی مزید سماعت(کل) جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنس پر سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے احتساب عدالت میں متفرق درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پہلے طے کرلیا جائے کہ واجد ضیا کون سی چیزیں ریکارڈ پر لاسکتے ہیں۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دائر کی گئی تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ 3 حصوں پر مشتمل ہے، جس کا ایک حصہ دستاویزات، دوسرا حصہ بیانات اور تیسرا حصہ تجزیات پر مشتمل ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ تفتیشی افسر رائے دینے کا حق نہیں رکھتا، گناہ اور بے گناہی کا تعین عدالت نے کرنا ہے، واجد ضیا نے نہیں۔مزید کہا گیا کہ حقائق اور آرا ء میں فرق ہوتا ہے۔سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور عدالت میں شیزی نقوی کا بیان حلفی، حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان معاہدے کا خط، فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے تحت قائم کمپنیوں کی فنانشل دستاویزات، آف شور کمپنیوں سے متعلق فلو چارٹ، مختلف کمپنیوں کے مابین لین دین اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ، متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کا جوابی خط، نیلسن، نیسکول اور کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ، جفزا اتھارٹی کا خط اور رابرٹ ریڈلی کی فرانزک رپورٹ بھی پیش کی۔سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم 3 کے اضافی آٹھ صفحات غائب ہیں۔جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے کہا کہ اضافی آٹھ صفحات فراہم کردیئے جائیں گے۔پاناما جے آئی ٹی سربراہ نے کیپیٹل ایف زیڈ ای میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ملازمت سے متعلق اقامہ اور جبل علی فری زون اتھارٹی کی جانب سے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں پیش کیا۔تاہم مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اعتراض کیا کہ قانون شہادت کے تحت اس دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ جبل علی فری زون اتھارٹی کی دستاویزات نوٹری پبلک، پاکستان قونصل سے تصدیق شدہ نہیں۔واجد ضیا نے کہا کہ خط کے مطابق نواز شریف کیپیٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ کے چیئرمین تھے اور 10 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ وصول کررہے تھے۔مریم نواز کے وکیل نے جفزا اتھارٹی کے خط پر بھی اعتراض اٹھایا اور سوال کیا کہ کیسے ثابت ہوگا کہ یہ پبلک دستاویز ہے، پتہ نہیں چلتا کہ یہ خط کسے لکھا گیا ہے۔جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ جفزا ویسے ہی اتھارٹی ہے جیسے پاکستان میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن(ایس ای سی پی)۔مریم نواز کے وکیل کے اعتراض کے ساتھ اقامہ سے متعلق دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا۔جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان گذشتہ 3 سماعتوں سے جاری ہے، ان کا بیان مکمل ہونے پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز جرح کریں گے۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس پر سماعت(آج) بدھ کو ہوگی، جہاں واجد ضیا پہلی مرتبہ بطور گواہ پیش ہوں گے۔

ایون فیلڈ ریفرنس

مزید : کراچی صفحہ اول