پاک بحریہ کے جہازوں کی دوحہ میں ڈیفنس نمائش میں شرکت

پاک بحریہ کے جہازوں کی دوحہ میں ڈیفنس نمائش میں شرکت

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک بحریہ اورپاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے جہازپی این ایس ہمت اور پی ایم ایس ایس بسول دوحہ انٹر نیشنل میری ٹائم ڈیفنس نمائش اور پاکستان اور قطر نیول فورسز کے درمیان منعقد ہونے والی پہلی بحری مشق میں شرکت کر نے کے لئے مشن کمانڈر، کموڈور محمدفیصل عباسی کی سر براہی میں 11مارچ2018 کوبندرگاہ حماد پہنچے۔پی این ایس ہمت جدید ترین فاسٹ اٹیک میزائل کرافٹ جہاز ہے جسے مقامی سطح پر پاکستان میں تیار کیاگیا جبکہ بسول پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا جہاز ہے جس کا تعلق میری ٹائم جہازوں کی جدید ہنگول کلاس سے ہے۔یہ جہازبھی پاکستان میں تیار کیا گیا۔دوحہ کی بندر گاہ حماد پہنچے کے بعد جہازوں نے قطر آرمڈ فورسز کی جانب سے منعقدہ دوحہ انٹر نیشنل میری ٹائم ڈیفنس نمائش میں بھر پور شرکت کی ۔ اس مشق کے دوران مختلف سر گرمیوں کا انعقاد ہو اجس میں ملکی و غیر ملکی دفاعی و سکیورٹی وزراء، چیف آف اسٹافس، بحری افواج کے سر براہان، کوسٹ گارڈ کمانڈرز اور دفاعی وزارتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔نمائش میں پاکستان کے علاوہ اٹلی، امریکہ،انگلینڈ،بنگلہ دیش،بھارت، عمان اورقطرکے جہازوں نے بھی شرکت کی۔قطر میں قیام کے دوران پی ایم ایس ایس بسول پر ایک ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار،ڈائریکٹر جنرل پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، سفراء، دفاعی و نیول اتاشی اور کئی ممالک کے سفارت خانوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔مزید برآں، کمانڈر قطر امیری نیول فورسزاورقطر میں مقیم نمایاں پاکستانی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ دوحہ انٹر نیشنل میری ٹائم دفاعی نمائش کے اختتام پر 15تا 18مارچ 2018کے دوران پاک بحریہ اور قطر امیری نیول فورسز کے مابین اسد البحر کے نام سے پہلی بحری مشق کا انعقاد ہوا۔ پاکستانی جہازوں کے علاوہ قطر امیری نیول فورسز کے جہاز ہُوار(HUWAR)، ال دیبل(AL DEEBEL)اور ال لیوسیل(AL LUWSAIL)اور دو ملٹی رول ٹیکٹیکل جہازوں نے مشق میں حصہ لیا۔ اس مشق کو تاریخی سنگ میل تصور کیا جاتا ہے جو دونوں مسلم برادر ممالک کے درمیان موجود دفاعی تعلقات میں مزید مضبوطی کا باعث ہو گی۔ اس مشق کی اس طرح منصوبہ بندی کی گئی کہ دونوں ممالک کی بحری افواج ایک دوسرے کے تجربے سے باہمی فائدہ اٹھائیں اور مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کریں۔ اسدا لبحر کے دوران خشکی اور بحر میں ٹیکٹیکل سے لے کر آپریشنل طرز کی مشقیں کی گئیں جن میں فضائی دفاع، فورس پروٹیکشن اور میری ٹائم اثاثوں و تنصیبات کے دفاع کی مشقیں شامل تھیں۔ مشق کے دوران کمبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو اور بورڈنگ آپریشنز کا بھی بھر پور مظاہرہ کیا گیا۔ یہ مشق پیشہ ورانہ اعتبار سے انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہو گی اور ا س کے دائرہ کار میں وسعت آئے گی جس میں آنے والے وقتوں میں مزید بحری افواج شریک ہوں گی۔قطر کے کامیاب دورے کے بعد پاکستانی جہاز 19مارچ کو دوحہ کی بندر گاہ سے روانہ ہوئے جنہیں قطر امیری نیول فورسز کے آفیسرز اور دوحہ میں پاکستان کے دفاعی اتاشی نے خدا حافظ کہا۔

مزید : کراچی صفحہ اول