فروغ تعلیم کیلئے اے این پی کے انقلابی اقدامات کی پوری دنیا معترف ہے : سردار حسین بابک

فروغ تعلیم کیلئے اے این پی کے انقلابی اقدامات کی پوری دنیا معترف ہے : سردار ...

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی نے انتہائی نامساعد حالات میں حکومت کی اور دہشت گردی و بد امنی کے باوجود تعلیم کے فروغ کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز کا دورہ کرنے والے’’ الف اعلان ‘‘ کے نمائندہ وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،وفد کی قیادت مشرف زیدی کر رہے تھے جبکہ دیگر ممبران میں ہما ناز، جاوید ملک اور عمر اورکزئی شامل تھے ، جے یو آئی کے رکن اسمبلی ملک نور سلیم خان ، ولید بزنجو،نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر معراج الہدیٰ ،پاک سرزمین پارٹی کے رضا ہارون، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء اللہ بلوچ اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان خان کاکڑ بھی الف اعلان کے وفد کے ہمراہ تھے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ جب اے این پی نے حکومت سنبھالی تو صوبے میں دہشت گردی کی وجہ سے 4ہزار سے زائد سکول تباہ کر ہو چکے تھے ، فاٹا میں دہشت گردوں کے اڈے قائم تھے اور وہ قوم کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے تھے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے ارکان اسمبلی اور ہزارون کارکنوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشت گردوں کا راستہ روکا اوربچوں و بچیوں کے روشن مستقبل کیلئے تعلیم کے فروغ کو ترجیح بنایا کیونکہ تعلیم کا فروغ ہمیں باچا خان سے ورثے میں ملا ہے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ 18ویں ترمیم اے این پی کا بہت بڑا کارنامہ ہے جس میں تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوا اور اس میں خاطر خواہ انقلابی اقدامات کئے گئے،انہوں نے کہا کہ ہم نے اُس وقت کے حالات کے مطابق نصاب ترتیب دیا اور معاشرت کو معاشرت جبکہ اسلام کو دینی علوم کے ذریعے اجاگر کرنے کیلئے مربوط اقدامات کئے جس میں ہمیں کافی حد تک کامیابی ملی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی 60سالہ تاریخ میں اساتذہ کو ان کے جائز حقوق نہیں مل رہے تھے جبکہ اے این پی نے اپنے دور میں مینجمنٹ اور کیڈر کو الگ کیا جبکہ پرائمری اساتذہ کیلئے سروس سٹرکچر اور پروموشن کا اعلان کیا جس سے انہوں نے گریڈ 14اور15تک ترقی پائی ، سردار بابک نے کہا کہ پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کا سہرا بھی اے این پی کے سر ہے جبکہ پہلی بار ہم نے چھٹی جماعت سے دسویں تک بچیوں کیلئے وظیفہ مقرر کیا ،انہوں نے تورغر اور کوہستان کا بھی خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ ان اضلاع میں بچیوں کو سکول بھیجنے والے غریب خاندانوں کو بھی وظائف شروع کئے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرکاری سکولوں پر والدین کا اعتماد بحال کرنے کیلئے ’’ستوری دَ پختونخوا‘‘ اے این پی حکومت کا قابل فخر پروگرام ہے جبکہ روخانہ پختونخوا پروگرام کے ذریعے پرائیویٹ سکولوں میں جانے والے بچوں کی فیس حکومت کے ذمہ لی گئی،انہوں نے کہا کہ ہم نے ریجنل لینگویج اتھارٹی بنائی اور مادری زبانوں میں بنیادی تعلیم کو لازمی قرار دیا اور طالبانائزیشن کے مائنڈ سیٹ سے نوجوان نسل کو محفوظ رکھنے کیلئے مڈل اور ہائی سکولوں میں کھیلوں کے میدان بنائے ،انہوں نے کہا کہ پہلی بار اضلاع میں مرد و خاتون ڈسٹرکٹ آفیسر کی تعیناتی بھی اے این پی کا کارنامہ ہے تاکہ خواتین اساتذہ کو درپیش اپنے مسائل کے حل میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے،سردار بابک نے کہا کہ صوبے میں بند دو ہزار سے زائد سکول تین ماہ میں بحال کئے گئے جبکہ کالجز اور یونیورستیوں کا قیام تعلیم کے فروغ میں اے این پی کے نمایا کارنامے ہیں ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے آئے روز واقعات کے باوجود ہم اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے اور بچوں کا مستقبل سنوارنے کیلئے اپنے تئیں ہر ممکن اقدامات کئےء جس کی پوری دنیا معترف ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...