پاکستان پولیو کیخلاف جنگ جیتنے کے قریب پہنچ چکا ہے،عائشہ رضا

پاکستان پولیو کیخلاف جنگ جیتنے کے قریب پہنچ چکا ہے،عائشہ رضا

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو سنیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ حالیہ کامیابیوں میں استحکام لانے کے حوالے سے لازوال کامیابیوں کے باوجود ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پولیو کے خلاف جاری یہ جدوجہد صرف اس صورت میں مکمل ہو سکے گی جب ہم پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد کو مستقل طور پر صفر پر رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پولیو کے موذی وائرس کے پھیلاؤ کی روک کا حل کوئی جادو نہیں ہے تاہم سخت محنت اور والدین اور کمیونٹی کے افراد میں اگاہی پیدا کر نا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلوائیں۔ اس موذی وائرس کے پھیلاؤ کو مستقل بنیادوں پر محدود کر سکتا ہے۔ ہمارے صف اول کے ورکرز گھر گھر جا کر 3 کروڑ 70 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے میں ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گذتشہ روز نیشنل پولیو منیجمنٹ ٹیم کے اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام ، سنیٹر عائشہ رضا فاروق کے علاوہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر سمیت تمام صوبائی ایمرجنسی اپریشنز سینٹرز بشمول اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد و جموں کشمیر کے کوآرڈینیٹرز اور نیشنل ای پی آئی پروگرام کے وفاقی اور صوبائی ڈائریکٹر نے شرکت کی۔ سنیٹر عائشہ رضا فاروق نے این پی ایم ٹی کے شرکاء کا پولیو کے خاتمے کے حوالے سے پرعزم جدوجہد جاری رکھتے ہوئے پولیو کے تدارک کے پروگرام کو درست سمت میں جاری رکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ’’ آپ اور آپ کی ٹیم کی پولیو کے تدارک کے حوالے سے جدوجہد قابل ستائش ہے۔ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور ٹیم کی انتھک جدوجہد سے آج ہمیں ناقابل یقین کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور جلد ہم پاکستان کے تمام بچوں کے لیے پولیو کے موذی وائرس سے محفوظ ایک صحت مند معاشرے کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوں گے‘‘۔پولیو کوارڈینیٹر برائے پولیو تدارک ڈاکٹر رانا صفدر نے اس موقع پر بتایا کہ پولیو کے خاتمے کے حوالے 2014 میں پولیو کے 306 کیسسز تھے 2015 میں 54 کسسز 2016 میں 20 کیسسز اور 2017 میں 8 کیسسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2018 میں ابھی تک کوئی کیس رپورٹ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے جب کہ پولیو کے صرف آٹھ کیس سامنے آئے تھے، پاکستان پولیو کے مہلک وائرس کو مکمل ختم کرنے کے لیے درست حکمت عملی پر کافرما ہے اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ہم رواں سال میں اس مہلک مرض سے ہمیشہ کے لیے نجات پا لیں ۔ یہ متفقہ رائے نیشنل پولیو منیجمنٹ ٹیم کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں سامنے آئی جہاں پروگرام سے متعلقہ قومی اور صوبائی نمائندوں نے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کا جائزہ لیتے ہوئے پولیو کی قابل افزائش اور پھیلاؤ کے موسم برائے سال 2018-19 کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے اور مذکورہ سال میں اہداف کے حصول کے لیے درست سمت میں جدوجہد جاری رکھنے کے حوالے سے تجاویز کو حتمی شکل دی۔نیشنل پولیو منیجمنٹ ٹیم کے اجلاس میں تمام صوبوں ، فاٹا، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں پروگرام کی کارکردگی اور ان علاقوں میں پائے جانے والے ممکنہ خطرات کو بروقت نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کے بعد عملی اقدامات بھی تجویز کئے گئے۔ ٹیم کا متفقہ خیال تھا کہ ملک پولیو کے تدارک کی منزل کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور اب تمام کاتب فکر کو پروگرام کی مدد کرتے ہوئے مثبت پیغامات لوگوں تک پہنچانے چاہئیں تاکہ کوئی بھی پولیو ویکسین کے حوالے سے پھیلائے جانے والے پراپیگنڈہ کا شکار نہ ہونے پائے ۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ 2017 میں سامنے آنے والے آٹھ میں سے پانچ کیسز ان گھرانوں سے نکلے جنہوں نے منگھڑت یا منفی پراپیگنڈے کی وجہ سے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا ۔ اجلاس میں لیبارٹری کی مستند رپورٹوں اور طبی ماہرین کی بنیاد پر یہ بات بتائی گئی کہ پولیو کے قطرے اورانجیکشن انسانی صحت کے لیے محفوظ ترین ہیں اور دنیا بھر میں دس ارب سے زائد قطروں کے استعمال کے بعدکہیں بھی اس ویکسین کی کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔ پاکستان کی پولیو تدارک پروگرام میں عمدہ کارکردگی کو ملکی اور بین الاقوامی تمام اداروں کی جانب سے سراہا گیا ہے پاکستان میں پولیو سے مکمل نجات کے ہدف کی نشاندہی کے بعد وفاقی حکومت نے صوبائی اور قومی سطح پر فعال ایمرجنسی آپریشنز سیٹرز کی مدد سے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کے نفاذ کو یقینی بناتے ہوئے حالیہ کامیابیوں کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر