سرکاری ہسپتالوں کے معاملات ،نیب نمائندے پر مشتمل کمیٹی تشکیل

سرکاری ہسپتالوں کے معاملات ،نیب نمائندے پر مشتمل کمیٹی تشکیل

کراچی (اسٹاف رپورٹر)واٹر کمیشن نے غیر معیاری شاپر بنانے پابندی عائدکرتے ہوئے، سرکاری اسپتالوں کے معاملات دیکھنے کے لئے نیب نمائندے پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیاہے ۔کمیشن نے سیکرٹری داخلہ کو شہر کے ندی نالوں میں کچرہ پھینکنے پر پابندی کے لئے دفعہ 144 نافذ کر کے رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔سپریم کورٹ کے حکم پر قائم واٹر کمیشن کی سماعت منگل کو ہوئی ۔دوران سماعت میئر کراچی نے کمیشن کو بتایا کہ شہرکے نالے کچرے سے بھر چکے ہیں سب سے بڑا مسئلہ پلاسٹک بیگس ہیں جس کے باعث نالے بند ہو جاتے ہیں، میئر کراچی وسیم اختر نے کمیشن کو بتایا کہ 30 سے زائد نالے کے ایم سی جبکہ 500 نالے صاف کرنا ڈی ایم سیز کی ذمہ داری ہے، اگر فنڈز فراہم کر دئے جائیں تو دو سے تین ماہ میں تمام نالے صاف کروا دیں گے،اس کے لئے مشینری خریدنی ہوگی۔واٹر کمیشن نے سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا کہ شہر کے ندی نالوں میں کچرہ پھینکنے پر پابندی کے لئے دفعہ 144 نافذ کر کے رپورٹ پیش کریں۔کمیشن نے غیر معیاری شاپنگ بیگس پر بھی پابندی کا حکم دیا۔حکومت سندھ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سندھ انوائرمینٹل قانون کے تحت شاپنگ بیگس پر کارروائی کی جائے گی، کمیشن سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ پہلے کاغذ کی تھیلیاں استعمال ہوتی تھیں، اب دوبارہ کیوں استعمال نہیں کر سکتے، جوبھی ان تھیلیوں کو بنا رہا ہے پہلے ان کو پکڑا جائے۔سیکریٹری داخلہ نے کمیشن کو بتایا کہ حکومت فوری طوری شاپنگ بیگس پر پابندی عائد کر رہی ہے۔کمیشن نے سندھ بھر میں اسپتالوں کے معاملات دیکھنے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔کمیشن کے حکم کے مطابق کمیٹی سندھ کی سرکاری اسپتالوں میں ادویات، منٹس اور دیگر امور کا جائزہ لے گی۔کمیٹی میں نیب کے ایک افسر سمیت سینئر ڈاکٹرز، اور اچھی شہرت کے افسران کو شامل کیا جائے گا۔کمیشن نے کمیٹی کی تشکیل کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے اسپتالوں کا جائزہ لے کر 27 مارچ تک رپورٹ طلب کرلی۔کمیٹی کی جائزہ رپورٹ ویب سائٹ پر بھی جاری کی جائے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...