عدلیہ آزاد، کسی کے زیر اثر نہیں، ججز آپس میں مشورہ اور مرضی سے فیصلہ کرتے ہیں : چیف جسٹس

عدلیہ آزاد، کسی کے زیر اثر نہیں، ججز آپس میں مشورہ اور مرضی سے فیصلہ کرتے ہیں ...
عدلیہ آزاد، کسی کے زیر اثر نہیں، ججز آپس میں مشورہ اور مرضی سے فیصلہ کرتے ہیں : چیف جسٹس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے راﺅ انوار پر لگے الزامات کی تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ چیف جسٹس جب دیگر ججز سے مشاورت کرنے کیلئے چیمبر میں جانے لگے تو انہوں نے انتہائی اہم ریمارکس دیے اور کہا کہ ججز آپس میں مشورہ کرنے جا رہے ہیں ، یہ نہ سمجھا جائے کہ کسی اور سے مشورہ کرنے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نقیب اللہ محسود قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت کی جس میں راﺅ انوار بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ نے راﺅ انوار پر لگے الزامات کی تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا جس کیلئے ججز نے چیف جسٹس کے چیمبر میں مشاورت کی۔ جب ججز مشاورت کیلئے اٹھ کر جانے لگے تو چیف جسٹس نے انتہائی اہم ریمارکس بھی دیے۔ انہوں نے کہا کہ ججز آپس میں مشورہ کرنے جا رہے ہیں ، یہ نہ سمجھا جائے کہ کسی اور سے مشورہ کرنے جا رہے ہیں، پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں اور کسی کے زیر اثر نہیں ہیں ہم اپنی مرضی سے فیصلہ کریں گے۔

ساتھی ججز سے مشاورت کے بعد چیف جسٹس نے راﺅ انوار پر لگے الزامات کی تحقیقات کیلئے 5 رکنی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا، اس نئی جے آئی ٹی کی سربراہی بھی پہلے والی جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سندھ  آفتاب پٹھان ہی  کریں گے۔

خیال رہے کہ رانا ثنااللہ کی جانب سے یہ کہا گیا تھا ججز اپنے چیمبر میں مشاورت کرتے ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /جرم و انصاف /علاقائی /اسلام آباد