فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر384

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر384
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر384

اس دوران میں حکیم صاحب سے خاصے گہرے تعلقّات ہوگئے۔ انہوں نے اپنے سہارنپور کے قصے سنائے۔ بچپن اور جوانی کی داستانیں بیان کیں۔ اپنے تجربات اور مشاہدات سے آگاہ کیا مگر ان کی تسبیح نے ہماری دوائی بدل کر نہ دی۔ مایوس ہوکر ہم نے ان کا علاج ترک کردیا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

بیڈن روڈ پر ہی، ان سے قدرے آگے بڑھ کر، ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر صاحب تھے۔ نام ان کا محمودالحسن تھا۔ لُدھیانے سے تعلق تھا جہاں ان کے والد خاندانی حکیم تھے۔ گویا محمودالحسن ہومیو پیتھ بھی تھے اور حکمت سے بھی ان کا دیرینہ تعلق تھا۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ روحانی قوّتوں کے بھی مالک ہیں۔ ایک خاتون مریضہ کی بیماری کا حال سن کر انہوں نے کہا ’’وہ جو چارپائی کے نیچے گاڑ رکھا ہے وہ تو باہر نکال۔ اس کے بغیر ٹھیک نہیں ہوگی۔‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر383 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

معلوم ہوا کہ اس خاتون نے اپنے شوہر کو قتل کرکے کمرے میں دفن کررکھا تھا۔ اس طرح کی اور بھی کئی داستانیں ان سے منسوب تھیں۔ ان کے علاج معالجوں کا بھی چرچا سنا تھا۔ ہمارے آفاق کے دو تین ساتھیوں کا بھی انہوں نے حیرت انگیز علاج کیا تھا حالانکہ وہ دوسرے علاج کراکے تھک چکے تھے۔ ہمیں اس وقت تک ہومیو پیتھک طریقہ علاج کے متعلق زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ بس معمولی شُدبُد تھی۔ ہمارے پیٹ میں کبھی کبھی سخت درد اور دُکھن ہوتی تھی۔ یہ دراصل گیس کا سبب تھا جو ہمیں بعد میں علم ہوا۔ 

ایک دن پیٹ میں زیادہ تکلیف ہوئی تو ہم ایک دوست کے مشورے پر ڈاکٹر محمودالحسن کے پاس چلے گئے۔ 

بیڈن روڈ پر کئی دکانوں کے درمیان ان کا مطب تھا۔ ایک اونچی سی سیڑھی چڑھنے کے بعد دکان میں داخل ہوتے تھے۔ بائیں جانب ایک بڑی سی میز کے سامنے ڈاکٹر صاحب تشریف فرما تھے۔ زیادہ سردی نہیں تھی مگر وہ لمبا سا اوورکوٹ پہنے بیٹھے تھے۔ سر پر قراقلی ٹوپی تھی۔ گہرا سانولا رنگ، وہ قد آور اور مضبوط کاٹھی کے بزرگ تھے مگر گھنی اور پھیلی ہوئی کھچڑی داڑھی کے علاوہ ان کی ضعیف العمری کا کوئی اور نشان موجود نہ تھا۔ 

ڈاکٹر صاحب کو ہم نے بعد میں موسم گرما میں بھی وہی لمبا سا اوور کوٹ زیب تن فرمائے دیکھا اور حیران ہوتے رہے کہ انہوں نے یہ گرم اوورکوٹ بطور یونی فارم کس لیے پسند فرمایا ہے۔ مگر کبھی ان سے دریافت کرنے کی جرأت نہ ہوسکی۔

ڈاکٹر صاحب کے سامنے بہت لمبی چوڑی میز تھی جس پر ایک قلم اور چند کاغذ کے پرزوں کے سوا کوئی اور چیز نہ تھی۔ وہ اپنی کرسی پر تشریف فرما خاموش بیٹھے تھے۔ شاید کسی سوچ میں گم تھے۔ ان کی عادت تھی کہ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے داڑھی کے اندرونی حصّے میں نیچے سے اوپر کی جانب انگلیاں پھیرتے رہتے تھے۔ اس وقت بھی وہ یہی کررہے تھے۔ ان کے سامنے ایک پرانی سی آرام دہ کرسی پر ایک اور صاحب تشریف فرما تھے۔ وہ تہبند اور کُرتہ پہنے ہوئے تھے۔ سر سے ننگے اور بالوں سے بھی قریب قریب محروم۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ حقّہ پی رہے تھے حالانکہ ہم نے یہ سُن رکھا تھا کہ ہومیو پیتھک ادویات کو تمباکو اور حقّے کے دھوئیں اورخوشبو سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ ہومیو پیتھک ڈاکٹرز سگریٹ پینے سے پہلے اور بعد کافی دیر تک دوائی کے استعمال سے منع کرتے ہیں مگر یہاں معاملہ یہ تھا کہ دوا خانے میں ڈاکٹر صاحب کے عین سامنے ایک صاحب حقّہ نوشی میں مصروف تھے۔ بعد میں پتا چلاکہ وہ ڈاکٹر صاحب کے پرانے اور بے تکلّف دوست تھے۔ ہم نے اکثر انہیں وہیں حقّہ پیتے ہوئے دیکھا لیکن دونوں حضرات کو عموماً خاموش اپنی اپنی سوچوں میں گم ہی پایا۔ یہ بھی عجیب و غریب قسم کی دوستی تھی۔ کہتے ہیں کہ گفتگو کی انتہا خاموشی ہے۔ بشرطیکہ دونوں فریق ذہنی اور روحانی طور پر ایک دوسرے سے قریب تر ہوں۔

ڈاکٹر صاحب نے ہمیں داخل ہوتے دیکھا تو ایک نگاہِ غلط انداز ہماری جانب ڈالی اور پھر داڑھی میں انگلیاں گھمانے میں مصروف ہوگئے۔

ہم ان کے نزدیک والی کرسی پر بیٹھ گئے اور عرضِ حال کیا ’’ڈاکٹر صاحب ہمارے پیٹ میں بہت سخت تکلیف ہے۔ ہاتھ لگانے سے دُکھتا ہے۔ بھوک بھی نہیں لگتی۔ یہ دیکھئے۔‘‘

ہم نے ان کی توجّہ اپنے پیٹ کی طرف مبذول کرانی چاہی مگر انہوں نے کاغذ کا ایک پرزہ اٹھا کر قلم سے اس پر کچھ لکھنا شروع کردیا۔ کسی دوائی کا نام لکھ کر پرزہ انہوں نے ہمارے حوالے کیا اور ہاتھ سے دکان کی اندرونی سمت میں اشارہ کیا جہاں ایک کاؤنٹر نما چیز کے پیچھے ان کا دواخانہ تھا۔

ہم نے کہا ’’مگر ڈاکٹر صاحب! آپ نے ہمارا حال تو سنا ہی نہیں۔‘‘

انہوں نے خاموشی سے ہاتھ ہلا دیا کہ ’’اُدھر جاؤ۔ میرا مغز نہ کھاؤ۔‘‘

مایوسی تو بہت ہوئی مگر قہر درویش بر جان درویش۔ مجبوراً یہ سوچتے ہوئے دوائی لینے چل پڑے کہ یہ کہاں آن پھنسے ہیں۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر385 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...