عمر کوٹ کے گا ؤں نھٹو ڈور کے علاقے میں کھدائی، کیا کچھ برآمد ہوا؟ دیکھ کر ماہرین کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ۔۔۔

عمر کوٹ کے گا ؤں نھٹو ڈور کے علاقے میں کھدائی، کیا کچھ برآمد ہوا؟ دیکھ کر ...
عمر کوٹ کے گا ؤں نھٹو ڈور کے علاقے میں کھدائی، کیا کچھ برآمد ہوا؟ دیکھ کر ماہرین کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ۔۔۔

  

عمرکوٹ (سید ریحان شبیر) عمرکوٹ ضلع کی تحصیل کنری کی یونین کونسل مائی بختاور کے گاؤں نھٹو (NAHUTO)ڈرو میں کھدائی کے دوران زیر زمین مدفون موہنجودڑو طرز کے تہذیبی آثار ملنے کا انکشاف کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم برتن سیپ موتی اور مختلف کلر کی نقشوق والی پتھر کی ٹکریاں سمیت دیگر قدیمی اشیاء برآمد تفصیلات کےمطابق عمرکوٹ ضلع کی تحصیل کنری کے یوسی مائی بختاور کے گاؤں نھٹو ڈرو میں کھدائی کے دوران ملنے والے آثار قدیمہ کے قدیم نواردات اور قدیمی اشیاء کے ملنے اور حکومت سندھ کی ہدایات کے بعد نھٹو ڈرو پر کھدائی وغيرہ کے کام کو تیز کردیا گیا ہے اور حکومت سندھ کی ہدایت کےبعد سندھ یونیورسٹی حیدرآباد اور شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور کے شعبہ آرکیالوجی کی ایک اسپیشل ٹیم نے آرکیولوجی کے ماہر پروفیسر قاصد ملاح کی نگرانی کھدائی اور آثار قدیمہ کی دریافت کے حوالے سے زور شور کےساتھ کام جاری ہے ۔

میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر قاصد ملاح کا کہنا تھا کہ نھٹو ڈرو سے ملنے والی نشانات اور نو اردات سے اس اندازہ ہوتا ہے کہ ان نشانات اور موہنجودڑو کی پانچ ہزار سالہ تہذیب میں کافی مماثلت ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی طور پر اس نھٹو ڈرو کی کھدائی کا کام کم وبیش پندرہ دن جاری رہے گا اس دوران ملنے والے قدیمی نواردات قدیمی برتن ،مختلف رنگوں اور نقشوق والی پتھر کی ٹکریاں ،سیپ موتی ،ایک مورتی کا سر سمیت دیگر قدیمی اشیاء شامل ہیں ان قدیمہ آثار کا آثار قدیمہ کے ماہرین تحقیق اور تجزیہ کرینگے اس کےبعد کوئی نھٹو ڈرو حتمی فیصلہ کیا جائے گا سندھ میں ان آثار قدیمہ کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی مہران کی تاریخ و تہذیب پانچ ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ صوبے میں دریائے سندھ سے علیحدہ ہاکڑو دریا الگ سے بہتا تھا مشہور محق تاریخ دان ماہر عبدالحمید سندھی لکھتے ہیں کہ ہاکڑو دریا سندھ دریا سے بالکل علیحدہ بہتا تھا ہاکڑو دریا انبالہ سے اوپر ہمالیہ کی شاخیں سیوالک پہاڑوں سے نکل کر بہاولپور بیکانیر اور سندھ کے اوپری حصے کو اپنی شاخوں سے آباد کرتا تھا تاریخ میں ہے کہ ہاکڑو دریا کے کناروں پر بیس سے اکیس شہر آباد تھے اور ان بیس سے اکیس شہروں میں ہاکڑو تہذیب کے آثار دفن ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں نھٹو ڈرو بھی شامل ہے سندھ کے سماجی عوامی شہری حلقوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ دھرتی کی ہزاروں سال پر محیط تہذیب وتمدن کو یقینی محفوظ بنایا جائے اور نھٹو ڈرو سمیت سندھ کے دیگر آثار قدیمہ پر تحقیق کے کام کو جلد مکمل کرکے عوام کو آگاہ کیا جائے ۔

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ