سعودی عرب ترقی پسندی کی راہ پر 

سعودی عرب ترقی پسندی کی راہ پر 
سعودی عرب ترقی پسندی کی راہ پر 

  

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عرب دُنیا میں ایک اہم سیاسی شخصیت کے طور پر اُبھرے ہیں۔ انہوں نے قلیل مدت میں نہایت تیزی کے ساتھ اوج اقتدار کی سیڑھیوں کو پار کیا ہے۔ اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ وُہ ترقی پسند ہیں اور اپنے مُلک کو وقت کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے کوشاں ہیں ،سعودی عرب جیسے قدامت پر ست مُلک کے لئے اتنی جلدی تمام منازل کو طے کرنا اتنا آسان نہیں لیکن انہوں نے حیرت انگیز طریقے سے معاشرے میں تبدیلیوں کو متعارف کر وایا ہے۔ عورتوں کو خاصی حد تک آزادی دلائی ہے۔عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت بھی اُن کی ہی کوششوں سے دی گئی ہے جبکہ سعود ی شیوخ اور علماء اِس بات کی شدت سے مخالفت کر رہے تھے۔ لیکن ولی عہد نے اپنے مخصوص اندازِ سیاست کو اپناتے ہوئے تمام مخالفین کو اپنے رائے سے متفق کرلیا ۔اس کے علاوہ انہوں نے سعودی نظام حکومت کو بہتر بنانے کے لئے حیران کن تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے سعودی معاشرے سے کرپشن کو ختم کرنے کے لئے شاہی خاندان کے طاقتور شہزادوں پر ہاتھ ڈالا اور ان کے مالی امور کی تفتیش کے لئے مقدمات قایم کئے۔ اُن کو دو ماہ تک فائیو سٹار ہوٹل میں رکھا گیا جس کو سرکاری طور پر جیل قرار دیا گیا تھا۔ یہ حیرتوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ کیونکہ اس سے قبل ایسی تبدیلیاں کسی دور حکومت میں بھی نہیں دیکھی گئیں۔ پھر خبر آئی کہ سعودی عرب کی بری اور ٖ فضائی سر براہوں کو اچانک بڑے پُر اسرار انداز میں بدل دیا گیا۔ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

وُہ لوگ جو سعودی انداز سیاست اور سعودی شاہی روایات سے واقفیت رکھتے ہیں اُن کے لئے یہ تبدیلیاں واقعی ہی معنی خیز ہیں۔ بعض حلقوں کے نزدیک ولی عہد محمد بن سلمان کی یہ پھرُ تیاں شاہی تخت پر قبضہ جمانے کے لئے ہیں۔ ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت ان کو استحقاق کے نہ ہونے کے باوجود جلدی میں و لی عہد مقرر کیا گیا ہے۔ جو کہ سیاسی حلقوں کے لئے حیرت کا باعث تھا۔ لیکن شاہی افراد کے با خبر ذرائع کے مُطابق مُلک کے فرمانروا دل سے چاہتے تھے کہ وُہ اپنے بیٹے کو ولی عہد کے عہدے پر اپنے زندگی ہی میں برا جمان کر وا دیں تاکہ شاہی خاندان کی حکمرانی سلمان بادشاہ کے خاندان تک ہی محدود رہے۔ اس کے علاوہ سعود خاندان کی حکومت پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے ضروری تھا کہ معاشرے میں اہم تبدیلیا ں لائی جائیں۔ تاکہ مملکت کو پس ماندہ اور قدامت پرست سمھنے والے لوگوں کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ سعودی حکومت وقت کے تقاضوں کے ساتھ بدلنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ وُہ ترقی پسند حلقوں کی تجاویز پر چلنے کے لئے تیار ہے۔ ولی عہد کی بر ق رفتاریوں پر تنقید کرنے والے لوگ بھول جاتے ہیں کہ سعودی عرب اپنی بقا کی جنگ لڑے میں مُصروف ہے۔ سعودی عرب کو اپنے سر زمین کے حفاظت کے لئے جری افواج کو ضرورت ہے۔ اُنکو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جدید ا سلحہ خریدا جائے۔ اپنی افوج کی تربیت پر توجہ دی جائے۔ ایسی پالیسی اپنائی جائے جس سے سعودی عرب خطے میں اپنا لوہا منوا سکے۔ جب تک سعودی افواج اپنی حفاظت خود نہیں کریں گی مملکت کو آزاد اور طاقتور نہیں سمجھا جا سکتا۔ سعودی عرب علاقے میں اپنی بر تری قایم کرنے کے لئے یمن سے کئی سالوں سے بر سرپیکار ہے۔ اس دفاعی جنگ کے موجد بھی ولی عہد محمد بن سلمان ہی ہیں۔ ایک ترقی پسند شخصیت کے مالک ہیں اور عصری تقاضوں کے مُطابق مملکت کو چلانے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ 

یاد رہے کہ شہزادہ ہی کی کوشوں سے امریکہ کے صدر اپنے پہلے خارجی دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے۔ ایسا اعزاز دوسرے مُسلم ممالک کے حصے میں نہیں آیا۔ صدر ٹرمپ کا والہانہ انداز میں استقبال کیا گیا۔ نادر اور نایاب تحفے دئے گئے۔ ایک فیقید المثال فوجی معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ تمام مُسلم ممالک کے سربراہان کو بطور خاص اُس پُر وقار تقریب میں مدعو کیا گیا۔ اِس عالیشان تقریب کو ساری دُنیا میں ٹیلی وژن کے تو سط سے دیکھا گیا۔یہ تقریب اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ دُنیا کے تمام ممالک نے سعودی عرب جیسے قدامت پرست مُلک کو نئی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہوتے دیکھا۔ یہ تقریب ایران جیسے مُلک کے لئے بھی ایک پیغام رکھتی تھی کہ سعودی عرب میں طویل جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے اور اُس کے حلیف دُنیا میں موجود ہیں۔ وُہ ایران کی ریشہ دوانیوں کا مُنہ توڑ جواب دینے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔ اس ساری کامیابی کا سہرا ولی عہد محمد بن سلمان کے سر ہی جاتا ہے کہ اُنکی ترقی پسند سوچ کی وجہ سے سعودی معاشرے میں نئی معاشرتی تبیدیلیوں کو متعارف کروایا گیا جن کا چند سال پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کس کو خبر تھی کہ سعود کے خاندان کے شہزادوں کو تفتیش کے لئے دو دماہ تک ہوٹل میں بند کر دیا جائگا۔ اور اُنکو اپنی دولت کو واپس لوٹانا پڑے گا۔ لیکن عوام نے دیکھا کہ ان شہزادوں کو بھی بھی احتساب کے عمل سے گُزرنا پڑا۔ حتیٰ کہ شہزادے طلال بن ولید کو بھی اپنی دولت کا حساب دینا پڑا۔ وُہ بھی ایک معاہدے کے تحت ہی جیل سے رہا ہو سکے۔

خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو قایم رکھنا اوراتحاد کو قایم رکھنا و لی عہد کا ہی کار نامہ ہے۔ قطر جیسے طاقتور مُلک کو خاک چٹوانا آسان نہ تھا۔ لیکن ولی عہد نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قطر کے حکمر انوں کو جتا دیا کہ اب سعودی عرب سے کھیلواڑ نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ سعودی عرب اپنی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ 

تازہ ا طالاعات کے مُطابق ولی عہد امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے منگل کے روز صدر سے ملاقات کی ہے۔ جو اس بات کا مظہر ہے کہ امریکہ او ر سعودی عرب کے درمیان آجکل مثالی قسم کے تعلقات پائے جاتے ہیں۔ دونوں مما لک خطیر رقوم کے معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں۔ جو کہ دونوں ممالک کے لئے اہم اور مفید ہیں۔ ولی عہد کے تازہ بیان کے مُطابق موت کے علاوہ اُن کو کوئی شخص تخت یا اقتدار سے دور نہیں رکھ سکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کو عصری تبدیلیوں سے روشناس کروانے کے ایسی متحرک شخصیت ضروری تھی۔ امید رکھتے ہیں کہ وُہ مذہبی ذمہ داریوں کے عصری تقاضوں کے ساتھ بھی انصاف کریں گے۔سعودی عرب میں خوشگوار تبدیلی کی ایک مدت سے امید کی جا رہی تھی۔ لیکن اُنکو محلاتی سازشوں سے بھی خبر دار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ