’میں کمپیوٹر کے ذریعے لندن میں بیٹھ کر شام کے ہسپتال میں مریضوں کی سرجری کررہا تھا کہ روس نے کمپیوٹر ہیک کرلیا اور پھر۔۔۔‘ پھر کیا ہوا؟ جان کر ہر مسلمان کانپ اُٹھے گا

’میں کمپیوٹر کے ذریعے لندن میں بیٹھ کر شام کے ہسپتال میں مریضوں کی سرجری ...
’میں کمپیوٹر کے ذریعے لندن میں بیٹھ کر شام کے ہسپتال میں مریضوں کی سرجری کررہا تھا کہ روس نے کمپیوٹر ہیک کرلیا اور پھر۔۔۔‘ پھر کیا ہوا؟ جان کر ہر مسلمان کانپ اُٹھے گا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کا ایک سرجن لندن میں بیٹھ کر اپنے کمپیوٹر کے ذریعے شام کے ایک زیرزمین ہسپتال میں مریضوں کی سرجری کر رہا تھا کہ روسی ہیکرز نے اس کا کمپیوٹر ہیک کر لیا، اور پھر ایسا کام ہو گیا کہ سن کر ہر مسلمان کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ نامی یہ سرجن کمپیوٹر کے ذریعے شام کے ہسپتال میں موجود اپنے سابق شاگردوں سے سکائپ اور دیگر کالنگ سروسز کے ذریعے رابطہ کرکے انہیں ہدایات دیتا، جن کے مطابق وہ مریضوں کے آپریشن کرتے تھے۔ ایک روز وہ ہدایات دے رہا تھا کہ اس کا کمپیوٹر روسی ہیکرز نے ہیک کر لیا اور شام کے شہر حلب میں واقع اس ہسپتال کی معلومات حاصل کر لیں جہاں ڈیوڈ کے شاگرد اس کی ہدایات کے مطابق جنگ میں زخمی ہونے والوں کے آپریشن کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ کے کمپیوٹر سے ویڈیو اور دیگر معلومات حاصل کرنے کے کچھ دن بعد ہی اس ہسپتال کو بمباری کرکے تباہ کر دیا گیا، اور یہ بمباری مبینہ طور پر روسی فوج کے جنگی طیاروں نے کی تھی۔رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ کا کمپیوٹر ہیک کرکے اس کی اپنے شاگردوں سے ہونے والی گفتگو کی ویڈیو حاصل کی گئی جو برطانوی نشریاتی ادارے تک بھی پہنچ گئی۔ بی بی سی نے چند روز بعد وہ فوٹیج نشر کی اور اس کے اگلے روز ایم 10نامی اس خفیہ ہسپتال پر بمباری ہو گئی۔ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ”یہ حلب کے باغیوں کے زیرتسلط علاقے کا سب سے بڑا ہسپتال تھا جہاں سینکڑوں مریض زیرعلاج تھے۔اس پر پہلے بھی 17بار بمباری کی گئی لیکن بمباری کرنے والوں کو اس کی درست لوکیشن معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال ہر بار محفوظ رہا۔ پھر انہوں نے میرے کمپیوٹر سے ہسپتال میں ہونے والے رابطے کے ذریعے اس کی درست لوکیشن حاصل کی اور اسے تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔“

مزید : برطانیہ