واٹس ایپ پر بھیجے گئے شرمناک پیغامات نے درجنوں طالبعلموں کو نوکری سے محروم کردیا، ان میں کیا تھا اور لیک کیسے ہوئے؟ اگلی مرتبہ آپ بھی دوستوں کے گروپ میں میسج بھیجنے سے پہلے بار بار سوچیں گے

واٹس ایپ پر بھیجے گئے شرمناک پیغامات نے درجنوں طالبعلموں کو نوکری سے محروم ...

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی ممالک میں نسل پرستی پر مبنی واقعات بکثرت رونما ہوتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں برطانیہ میں درجنوں طالب علموں نے واٹس ایپ گروپ میں اسی نوعیت کے ایسے شرمناک پیغامات بھیجے کہ انہیں نوکری سے ہی نکال دیا گیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ان طلبہ کا تعلق یونیورسٹی آف ایکسیسٹر سے تھا اور وہ قانون کے طالبعلم تھے۔ انہیں ہل ڈکنسن ایل ایل پی نامی لاءفرم نے نوکریوں کی پیشکش کر رکھی تھی۔ تاہم ان طلبہ نے واٹس ایپ گروپ میں سیاہ فام باشندوں اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی نازیبا باتیں کہیں اور اپنے پیغامات کے ذریعے جنسی زیادتیوں ، حتیٰ کہ قتل تک کی حوصلہ افزائی کی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک پیغام میں لکھا گیا تھا کہ سیاہ فاموں کو ان کے ممالک میں واپس بھیجو، انہیں دیکھنا ہی انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ایک اور پیغام میں عرب باشندوں کو غلیظ کہا گیا۔ اس کے علاوہ کئی پیغامات میں ایشیائی مسلمانوں کا بھی تمسخر اڑایا گیا اور ان سے نفرت کا اظہار کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واٹس ایپ گروپ 2017ءمیں ارسلان موتاوالی نامی طالب علم نے بنایا تھا، بعد میں دیگر طلباءاس میں شامل ہو گئے اور انہوں نے ارسلان کو ’ایڈمن‘ سے ہٹا دیا اور خود ایڈمن بن گئے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ایڈمن سے ہٹائے جانے کے باوجود ارسلان ان کے پیغامات دیکھ سکتا تھا، وہ جو کچھ پیغامات بھیجتے رہے ارسلان پڑھتا رہا اور گزشتہ دنوں اس نے ان تمام نسل پرستانہ پیغاما ت کے سکرین شاٹ لے کر فیس بک پر پوسٹ کر دیئے، جس سے ان طلبہ کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔ یونیورسٹی نے طلبہ کے اس گروپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پولیس کو بھی اس معاملے کی رپورٹ کر دی گئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...