وہ کمپنی جو لڑکے لڑکیوں کو ملانے کے لئے 15 لاکھ روپے فیس لیتی ہے لیکن مقصد ان کے درمیان شادی کروانا نہیں بلکہ۔۔۔ پھر کیا وجہ ہے؟ جان کر مرد وخواتین سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے

وہ کمپنی جو لڑکے لڑکیوں کو ملانے کے لئے 15 لاکھ روپے فیس لیتی ہے لیکن مقصد ان ...
وہ کمپنی جو لڑکے لڑکیوں کو ملانے کے لئے 15 لاکھ روپے فیس لیتی ہے لیکن مقصد ان کے درمیان شادی کروانا نہیں بلکہ۔۔۔ پھر کیا وجہ ہے؟ جان کر مرد وخواتین سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) شادی دفاتر کے بارے میں تو آپ نے سن رکھا ہو گا لیکن برطانیہ میں ایک کمپنی ہے جو لڑکے لڑکیوں کو ملوانے کی 15لاکھ روپے فیس لیتی ہے اور انہیں ملوانے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ یہ جان کر آپ کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ جائے گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی فیونا تھامس نامی خاتون نے بنائی ہے اور اس کا مقصد اولاد کے خواہش مند مردوخواتین کو ملوانا ہوتا ہے۔ شادی اس معاہدے کی بنیادی شرائط میں شامل نہیں ہوتی۔

رپورٹ کے مطابق فیونا تھامس کی سٹارک نامی یہ کمپنی 15لاکھ فیس لے کر کسی جوڑے کو ملوا دیتی ہے جو باہم بچے پیدا کرتے ہیں اور پھر مل کر ان کی ماں باپ کی طرح پرورش بھی کرتے ہیں تاہم وہ دونوں اپنی زندگی الگ الگ گزارتے ہیں۔ فیونا تھامس کا کہنا ہے کہ ”اس کمپنی کا خیال مجھے اس وقت آیا جب میں کئی ایسے لوگوں سے ملی جو شادی نہیں کرنا چاہتے لیکن بچوں سے ان کی انسیت بہت زیادہ تھی اور وہ ماں یا باپ بننا چاہتے تھے۔ ہم جن جوڑوں کو ملواتے ہیں ان کے لیے شادی کی قید نہیں ہوتی تاہم وہ بعد میں شادی کر لیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔“رپورٹ کے مطابق اس کمپنی کے کلائنٹس امیر کبیر افراد ہیں۔ لوسی نامی ایک 42سالہ خاتون نے سٹاک کے ذریعے 55سالہ جیمز سے ملی اور اب ان کا ایک دو سالہ بیٹا ہے۔ وہ دونوں الگ الگ رہتے ہوئے اپنے بیٹے کو مل کر پال رہے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ