”راﺅ انوار کو سپریم کورٹ کے اس درواز ے سے اندر لایا گیا جو کہ پچھلے 9 سالوں میں صرف اس ایک شخصیت کیلئے کھولا گیا تھا “یہ کونسا دروازہ ہے ؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کر دے گا

”راﺅ انوار کو سپریم کورٹ کے اس درواز ے سے اندر لایا گیا جو کہ پچھلے 9 سالوں ...

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )نجی ٹی وی کے صحافی عدیل وڑائچ نے کہاہے کہ سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کو سپریم کورٹ میں پارکنگ کے پیچھے والے دروازے سے لایا گیا جو کہ میں نے گزشتہ 9 سالوں میں صرف سابق چیف جسٹس ناصر الملک کیلئے کھلتا ہو ا دیکھا ہے اور یہ دروازہ ججز کیلئے مخصوص ہے ۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام ’نقطہ نظر ‘ میں عدیل وڑائچ نے راﺅانوار کی پیشی کے لمحات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم معموم کی طرح سپریم کورٹ میں موجود تھے لیکن اچانک ہمارے ذرئع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی سیکیورٹی کسی وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے سخت کر دی گئی ہے جس کے بعد ہم باہر آئے اور محسوس ہوا کہ کوئی بڑی شخصیت آنے والی ہے ۔تھوڑی دیر کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ راﺅ انوار سپریم کورٹ کی پارکنگ میں موجود کسی ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں چونکہ پارکنگ میں سینکڑوں گاڑیاں موجود تھیں اس لیے یہ پتہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کونسی گاڑی میں ہیں تاہم جب ان کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا تو انہیں سپریم کورٹ کی پارکنگ کے پیچھے والے دروازے سے اندر لایا گیا جو کہ گزشتہ 9 سالوں میں میں نے صرف ایک مرتبہ سابق جسٹس ناصر الملک کیلئے کھلتا ہو ا دیکھا ہے اور اس وقت شاہراہ دستور دھرنے کے باعث بند تھی تو یہ دروازہ کھولا گیا تھا ۔

عدیل وڑائچ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ راﺅ انوار اپنی گاڑی میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کے اندر آئے ہیں اور جبکہ اس سے قبل میں نے صرف تین گاڑیاں ہی آج تک سپریم کورٹ کے احاطے کے اندرآتی ہوئی دیکھی ہیں ، ایک تب جب سید یوسف رضا گیلانی پیشی کیلئے آئے ، دوسری راجہ پرویز اشرف کی اور تیسری جے آئی ٹی ارکان کی گاڑی تھی ۔ لیکن قابل ذکر امر یہ ہے کہ گاڑیاں بھی مین گیٹ جو کہ شاہراہ دستور پر واقع ہے اس کے ذریعے سپریم کورٹ میں داخل ہو ئیں تھیں ۔

واضح رہے کہ راو انوار آج سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے حفاظتی ضمانت کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کیا اور اب وہ سندھ پولیس کی تحویل میں ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...