’اب میں سعودی عرب میں یہ کام کروں گا‘ امیر ترین سعودی شہزادہ ولید بن طلال نے بڑا انکشاف کردیا، انہیں کس چیز کے بدلے چھوڑا گیا؟ جان کر آپ کو بھی سمجھ آجائے گی

’اب میں سعودی عرب میں یہ کام کروں گا‘ امیر ترین سعودی شہزادہ ولید بن طلال نے ...

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)کرپشن کے الزام میں زیر حراست ارب پتی سعودی شہزادے پرنس الولید بن طلال کو تین ماہ سے زائد عرصے بعد بالآخر رہائی مل گئی۔ زیر حراست متعدد اہم شخصیات کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انہوں نے بھاری رقوم کے عوض رہائی پائی لیکن پرنس ولید کا معاملہ واضح نہیں تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ کرپشن کے الزامات کو رد کرتے ہوئے اپنی بے گناہی پر قائم رہے اور کسی نے کہا کہ وہ بھی اربوں ڈالر دے کر رہا ہوئے ہیں، لیکن اب انہوں نے خود ہی اصل بات سب کو بتا دی ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

’بلومبرگ ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے پرنس ولید نے بتایا کہ ان کی رہائی سعودی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیل بیان نہیں کی کیونکہ ان کے مطابق یہ رازداری کا معاملہ ہے، جس کی وہ تفصیل نہیں بتائیں گے، البتہ اس کی مکمل پاسداری ضرور کریں گے۔ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ وہ سعودی مملکت کے انفراسٹرکچر و دیگر پراجیکٹس کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔ ان کی بات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے عظیم الشان تفریحی و ترقیاتی منصوبے نیوم سٹی میں بڑی سرمایہ کاری کے لئے بھی تیار ہیں ۔اس سرمایہ کاری کا حجم کئی ارب ڈالر ہو سکتا ہے۔ اس انٹرویو میں پرنس الولید کا یہ بھی کہنا تھاکہ انہیں اپنے انکل کنگ سلمان یا کزن محمد بن سلمان سے کوئی شکوہ و شکایت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے درجنوں سعودی شہزادوں، وزراءاور امیر کبیر شخصیات کو تین ماہ تک دارالحکومت کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں زیر حراست رکھاگیا تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان شخصیات سے مجموعی طور پر 100 ارب ڈالر (تقریباً 100 کھرب پاکستانی روپے) حاصل کرلئے گئے ہیں۔

مزید : عرب دنیا

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...