تاحیات نااہلی کیس ، سپریم کورٹ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دے گی ؟

تاحیات نااہلی کیس ، سپریم کورٹ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دے گی ؟

تجزیہ:سعید چودھری 

چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ،مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعیداور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے 14فروری 2018ءکو "تاحیات نااہلی کیس "کی سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو تاحال نہیں سنایاگیا۔یہ کیس آئین کے آرٹیکل62(1)ایف کی تشریح سے متعلق ہے ۔اس کیس کا سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی نااہلی کے معاملہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے جو معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ہے وہ نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے سے پہلے کا ہے ،یہ کیس 2010ءمیں دائر کیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ 62(1)ایف پر عمل درآمد اور تشریح کی بابت جو فیصلہ بھی کرے گی اس کے اثرات میاں محمد نواز شریف پر بھی مرتب ہوں گے ۔سپریم کورٹ نے مذکورہ کیس میں میاں محمد نوازشریف کو بھی نوٹس جاری کئے تھے اور انہوں نے اپنے دستخطوں سے سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا تھاجس میںموقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس کیس میں فریق نہیں ہیں اور نہ ہی فریق بننا چاہتے ہیں ،اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم اس بنچ میں دو ایسے جج جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں جنہوں نے انہیں نااہل قراردیا تھا ،وہ اگر اس کیس میں فریق ہوتے تو ان دونوں ججوں کو بنچ میں شامل کرنے پر اعتراض کرتے، کیوں کہ وہ پہلے ہی نااہلی کیس میں اپنا نقطہ نظر دے چکے ہیں۔نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیس میں جو لو گ فریق ہیں میرے شامل ہونے سے ان کے کیس بھی تعصب کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اس کیس کا کیا فیصلہ سنایا جاسکتا ہے ؟کیا معاملہ پارلیمنٹ کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا سپریم کورٹ آرٹیکل 62(1)ایف کی تشریح کر کے نااہلی کی کوئی مدت مقرر کردے گی ؟ یاپھر اس آرٹیکل کے تحت نااہلی کو تاحیات نااہلی قرار دے کر اس کی تشریح کا باب بند کردیا جائے گا؟ شیخ رشید نااہلی کیس کی سماعت کے دوران جو ریمارکس سامنے آئے ہیں کیاان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کیاعدلیہ میںبھی نواز شریف نااہلی کیس کے فیصلے کو سخت گیر اصولوں کے تابع تصور کیا جارہا ہے ؟تاحیات نااہلی کیس میں نااہلی تاحیات قراردی گئی تو میاں محمدنوازشریف کے حوالے سے صورتحال تبدیل نہیں ہوگی تاہم سپریم کورٹ نے تشریح کرکے 62(1)ایف کے تحت نااہلی کو ایک الیکشن یا مخصوص مدت تک محدود کردیا تو اس کا فائدہ میاں محمد نواز شریف کو بھی ہوگا۔اثاثے چھپانے کے معاملات پر سپریم کورٹ کے دو قسم کے فیصلے موجود ہیں ،جن لوگوں کو آئین کے آرٹیکل62(1)ایف کے تحت نااہل قراردیا جاتا ہے انہیں تاحیات نااہل تصور کیا جاتا رہاہے ، کیوں کہ آئین کے آرٹیکل 62میں نااہلی کی کوئی معیاد مقرر نہیں ہے ،جس سے دائمی نااہل مراد لی جاتی ہے ۔سابق وزیراعظم کو آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف اور عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق جوشخص صادق اور امین نہ ہو وہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لئے اہل نہیں ہوگا۔18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس آرٹیکل میں اضافہ کیا گیا کہ اس بابت کسی عدالت کا ڈیکلریشن موجود ہونا چاہیے مطلب یہ کہ جب تک کوئی عدالت کسی شخص کے بارے میں یہ قرار نہ دے دے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہے اسے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کے بارے میں قرار دیا کہ انہوںنے یو اے ای کی فرم کیپٹل ایف زیڈ ای سے غیروصول شدہ لیکن قابل وصول اثاثوں کو ظاہر نہیں کیا، وہ صادق اور امین نہیں۔

دوسری نوعیت کے مقدمات کے حوالے سے افتخار چیمہ کیس کی مثال دی جاسکتی ہے ۔ اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم بنچ ،جس میں جسٹس عظمت سعید بھی شامل تھے ،نے آئین کے آرٹیکل62کے تحت نااہل قرار نہیں دیا تھا بلکہ انہیں عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 12کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔افتخار چیمہ نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہیں کئے تھے ۔ معاملہ سپریم کورٹ میں آیاتواس نے اثاثے چھپانے کے جرم میں عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت ان کی بطور ایم این اے کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم کیا اور پھروہ اسی حلقہ سے اپنی خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں حصہ لے کر دوبارہ کامیاب ہوگئے۔ نااہلی کی معیاد مقرر نہ ہونے کو دائمی نااہلی تصور کرنے کے حوالے سے اختررسول اورطارق عزیز سمیت سپریم کورٹ حملہ کیس میں سزا یافتہ ارکان اسمبلی کی مثال دی جاسکتی ہے۔18ویں آئینی ترمیم سے قبل توہین عدالت میں سزا یافتہ افراد کی نااہلی کی بابت کو معیاد مقرر نہیں تھی ،اس لئے 18ویں ترمیم کے نفاذ سے قبل تک ان سیاستدانوں کو دائمی نااہل تصور کیا گیا اور انہیں کسی بھی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم 2010ءمیںآئین کے آرٹیکل 63(1)جی میں ترمیم کردی گئی اور قرار دیا گیا کہ توہین عدالت کے جرم میں سزا پوری کرنے کے 5سال بعد متعلقہ شخص پارلیمنٹ کی رکنیت کا اہل ہوگا۔اس ترمیم کے نتیجہ میں ہی سپریم کورٹ حملہ کیس میں سز ایافتہ سیاستدانوں کی نااہلیت ختم ہوئی۔آئین کے آرٹیکل63میں مختلف جرائم میں سزا یافتہ لوگوں کے لئے نااہلی کی مختلف معیادیں مقرر ہیں جیسا کہ اخلاقی گراوٹ کے جرم میں سزا یافتہ شخص سزا پوری ہونے کے 2سال بعد الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔سرکاری ملازمت سے غلط روی کی بنا پر برطرف شخص اپنی برطرفی کے 3سال بعد پارلیمنٹ کی رکنیت کا اہل ہوگا۔

 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی شخص اگر غلطی سے اپنے اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام رہے تو اس کے صادق اور امین نہ ہونے کا ڈیکلریشن جاری کرکے اسے تاحیات نااہل قرار دینا کس حد تک قرین انصاف ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نواز شریف نے یو اے ای کی فرم کیپٹل ایف زیڈ ای سے غیروصول شدہ لیکن قابل وصول اثاثوں کو کاغذات نامزدگی میںظاہر نہیں کیااوراس بابت جھوٹا بیان حلفی دیا۔اس بنا پر انہیں عوامی نمائندگی ایکٹ اور آئین کے آرٹیکل62(1)ایف کے تحت نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ایساسہو اً بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے غیر اہم اثاثے ظاہر نہ کرسکے۔کیا کوئی ایسا شخص جو کسی ایک موقع پر صادق اور امین نہ رہا ہو اسے توبہ کا حق حاصل نہیں ؟کیا کوئی شخص اپنے گناہ سے تائب نہیں ہوسکتا۔یہ سوال تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کے دوران عدلیہ کی طرف سے بھی اٹھایا گیا تھا ،سپریم کورٹ خود فوجی آمروں کے حق میں اپنے فیصلوں سے تائب ہونے کا ڈیکلریشن دے چکی ہے ،اگر سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کے استعمال سے تائب ہوسکتی ہے تو یہ حق کسی عام شہری کو کیوں نہیں دیا جاسکتا؟سندھ بار ایسوسی ایشن کیس کے فیصلہ میںاس وقت کے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے ماضی میں نظریہ ضرورت کے استعمال کے حوالے سے قراردیا تھا کہ عدلیہ اب اس سے توبہ(Repent) کرتی ہے۔تائب ہونے کا فیصلہ 31جولائی 2009ءکو فل کورٹ نے جاری کیا تھا اور اس میں جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت ایسے جج شامل تھے جنہوں نے پرویز مشرف کے 12اکتوبر 1999ءکے مارشل لاءکو "عدالتی جواز "بخشا تھا یا پھر انہوں نے کسی وقت پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔

ایسے متعدد عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں مختلف آئینی آرٹیکلز کو باہم ملا کر پڑھنے کا حکم ہے ۔سابق وزیراعظم کو پارٹی صدارت کے لئے نااہل قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے 21فروری2018ءکے فیصلے میںالیکشن ایکٹ2017ءکے سیکشن203،232اورآئین کے آرٹیکلز62،63اور63(اے)کی تشریح کرتے ہوئے ان آرٹیکلز کو ملا کرپڑھنے اور ان کے مشترکہ اثرات کی بناءپر قرار دیا تھا کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لئے نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہوسکتا۔سپریم کورٹ ارکان پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کی نااہلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل63کو آئین کے آرٹیکل62سے ملا کر نااہلی کی مدت کے تعین کے لئے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرسکتی ہے تاہم دونوں آرٹیکلز میں مختلف معاملات ملوث ہیں ۔آرٹیکل62اصل میں ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت کی شرائط سے متعلق ہے جن پر پورا نہ اترنے والا رکن اسمبلی نہیں بن سکتا ۔بادی النظر میں دونوں آرٹیکلز ملا کر تشریح کرنے کے امکانات زیادہ روشن نہیں ہیں ،سپریم کورٹ کو خود آئین اور قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں ہے ،یہ خالصتاً پارلیمنٹ کا اختیار ہے ۔سپریم کورٹ تاحیات نااہلی کو غیر معمولی سزا سمجھتی ہے تو اس کا جائزہ لینے کے لئے معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوا سکتی ہے ۔پارلیمنٹ کو اپنے طورپر بھی آئین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے ۔

20فروری کو سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سعید ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بنچ کے روبروشیخ رشید نااہلی کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج صاحبان باالخصوص مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے جوریمارکس سامنے آئے ان سے محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ میں بھی نوازشریف نااہلی کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو سخت گیر اصولوں کے تابع تصور کیا جارہا ہے ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کیس میں ریمارکس دیئے کہ فلیٹس کی بجائے اقامہ پر نااہل کرکے طے کردیا گیا کہ غلطی کی سزا نااہلی ہوگی۔شیخ رشید بھی غلط ہوئے تو نااہل ہوجائیں گے ۔اس بنچ کے پاس اثاثے چھپانے پر نااہلی سے متعلق سخت گیر اصولوں کی بابت ایک آئینی راستہ موجود ہے ،اگرچہ اس راستے کو سپریم کورٹ نے کم کم بلکہ نہ ہونے کے برابراستعمال کیا ہے ،پھر بھی اس کے استعمال کی موہوم سی امید رکھی جاسکتی ہے ۔شیخ رشید کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے پاس بھی ازخود نوٹس کے اختیارات حاصل ہیں ،یہ بنچ شیخ رشید کے حوالے سے اپنی آبزرویشن اور فیصلے کا میاں نوازشریف نااہلی کیس کے عدالتی فیصلے کے تناظر میں جائزہ لے سکتا ہے ،یہ بنچ اپنے ممکنہ فیصلے اور نوازشریف کیس کے فیصلے کا تقابلی جائزہ لے کر معاملہ پرچیف جسٹس سے تصفیہ کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کی سفارش کرسکتا ہے ۔اب عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم فل کورٹ کو دونوں معاملات بھجوانے کا آئینی راستہ موجود ہے جو کہ فیصلے پر نظر ثانی کے عدالتی اختیار سے الگ معاملہ ہوگا

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...