ابتر معاشی صورتحال،پیپلزپارٹی نے حکومت کے خلاف چارج شیٹ  جاری کردی

ابتر معاشی صورتحال،پیپلزپارٹی نے حکومت کے خلاف چارج شیٹ  جاری کردی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی نے ملک کی ابتر معاشی صورتحال کے بارے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کر دی ہے، قرضوں کا ہدف جی ڈی پی کے 63.5فیصدکے دعوی کے برعکس غیرجانبدار ماہرین معاشیات کے مطابق یہ 70فیصد تک بڑھ چکا ہے، قرضے جی ڈی پی کے 70فیصد سے  بھی تجاوزکر گئے ہیں، قرضوں کی حد سے متعلق ایکٹ آف پارلیمینٹ کی سنگین خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔

میڈیا آفس اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے  میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا کہ   حکومت نے مصنوعی طور پر روپے کو ڈالر کے مقابلے میں استحکام دئیے رکھا جس کی وجہ سے آج پاکستانی روپیہ فری فال کی طرف گامزن ہے، نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشکول توڑ دیں گے لیکن اب ان کی حکومت کشکول لے کر پوری دنیا میں گھوم رہی ہے، پی ایم ایل(ن) کی حکومت کو پاکستانی عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 10فیصد گر گیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے قرضوں میں ساڑھے نو ارب ڈالر تقریباً ایک کھرب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے اور ہر پاکستانی اس وقت ایک لاکھ 30ہزار روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے جاری کی جانے والی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قیام سے لے کر 2013ء جون تک لئے گئے قرضوں کا حجم تقریباً ساڑھے سولہ کھرب روپے تھا جس میں گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں ساڑھے دس کھرب روپووں کا اضافہ ہو چکا ہے اور اب ہمارے اوپر دسمبر 2017 تک تقریباً 27کھرب روپے کا قرض چڑھ چکا ہے۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق قرضوں کا ہدف جی ڈی پی کے 63.5فیصد تھا جبکہ غیرجانبدار ماہرین معاشیات اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کے مطابق یہ 70فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2013ء تک غیرملکی قرضوں کا ہدف تقریباً 61 ارب ڈالرتھا جس میں گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں 25ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا اور دسمبر 2017ء تک یہ بڑھ کر تقریباً 89ارب ڈالر ہو چکا ہے اب جبکہ روپیہ گزشتہ 100 روز میں ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر 10فیصد کھو چکا ہے اس طرح راتوں  رات پاکستان کے قرضوں میں 9.5ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا ہے،اب ہمارے بیرونی قرضے 95ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔ چارج شیٹ کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ایکسپورٹ، سرمایہ کاری یا بچت کے ذریعے نہیں بڑھے تھے بلکہ یہ اضافہ قرضے کی رقم سے دکھایا گیا تھا، اسٹیٹ بنک کے مطابق ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 19.65 ارب ڈالر تھے جو مالی سال 2016-17ء  میں 3.89 ارب ڈالر کم ہو کر مالی سال 2017-18ء میں کم ہو کر زرمبادلہ 15.76 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اسی سال 14فروری کو یہ انکشاف کیا کہ حقیقت میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر منفی میں چلے گئے ہیں۔

چارج شیٹ کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ حکومت نے ٹیکس میں بے انتہااضافہ کرکے معیشت کا گلا کھونٹ دیا ہے اور پاکستان کی ایکسپورٹ اور امپورٹ کا تجارتی خسارہ مالی سال 2016-17ء میں 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ حکومت نے سی پیک سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اسے صنعتی ترقی کے لئے استعمال کرنے کی بجائے مہنگے بجلی گھر لگائے جس سے ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی نجکاری پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی ہے اور اب وہ جلد بازی میں پی آئی اے کو فروخت کرکے اسٹیل ملز مفت دینے کا اعلان کر رہی ہے۔ پاکستان کے عوام اور پاکستان پیپلزپارٹی حکومت کو ایسا کرنے کی قطعی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے 2013ء اور 2018ء کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کے دور میں پٹرول 120ڈالر فی بیرل تھا جبکہ اب تقریباً 50ڈالر فی بیرل ہے۔ جون 2013ء میں پبلک سیکٹر کا قرضہ 425ارب روپے تھا جو اب بڑھ کر ایک کھرب 20ارب روپے ہو چکا ہے۔ سرکلر ڈیٹ 500ارب روپے سے بڑھ کر 2018ء میں ایک کھرب روپے ہو گیا ہے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 2013ء میں تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر تھا جو گزشتہ سال بڑھ کر 12.4ارب ڈالر ہوگیا تھا اور 2017-18ء مالی سال میں 15ارب ڈالر متوقع ہے،مجموعی قرضہ جو 2013ء میں 16کھرب روپے تھاوہ اب بڑھ کر 26کھرب روپے ہو چکا ہے۔

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...