ملزم سے جیل میں نارواسلوک‘ عدالت کا نوٹس‘ انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنیکا حکم

ملزم سے جیل میں نارواسلوک‘ عدالت کا نوٹس‘ انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنیکا ...

  



ملتان (کورٹ رپورٹر) سول جج جہانیاں کی رخصت کے باعث گیارہویں امام ہونے کا دعویٰ کرنے کے مقدمہ کی (بقیہ نمبر21صفحہ12پر)

سماعت نہ ہوسکی۔یاد رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران ملزم نے اپنے ساتھ جیل میں ہونے والے ناروا رویے کی تحریری شکایت فاضل جج کو دی جس پر سول جج جہانیاں نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو کسی بھی غیر جانبدار افسر سے انکوائری کراکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا جو گزشتہ روز پیش نہ ہوسکی۔ ملزم فرحان نے کہا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کا ٹاپر ہے اس نے تصوف کے موضوع پر 26 کتب لکھی ہیں اس کے مخالفین اور دشمنوں نے اسے گیارہویں امام کے طور پر پیش کرکے اسے نا کردہ گناہ میں پھنسا دیا ہے۔فرحان احمد نے الزام عائد کیا کہ جیل کا عملہ اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کر رہا ہے کلوز سرکٹ کیمرے بند کرکے یا ان کا رخ موڑ کر ناقابل بیان حرکتیں کی جاتی ہیں۔ مزید کہا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ شخص ہے مگر جیل حکام اسے کاغذ، قلم اور اخبار فراہم نہیں کر رہے اسے جانوروں سے بھی بدتر کھانا دیا جاتا ہے اس کی اعصاب شکنی کی جارہی ہے۔ سپرنٹینڈنٹ جیل کی آمد کے وقت اسے شکایت بھی نہیں کرنے دی جاتی اور دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر شکایت کی تو مارینگے وہ پونے دو سال سے قید کاٹ رہا ہے اسے ایک کے تحت اسے منصوبہ بندی کے تحت ہلاک کرنے کی شعوری کوشش کی جارہی ہے۔ فاضل عدالت نے شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا اور آئی جی جیل خانہ جات کو درخواست سے متعلق انکوائری کراکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر