خطرناک بیماریوں سے بچنے کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا لازمی‘ طاہر القادری

خطرناک بیماریوں سے بچنے کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا لازمی‘ طاہر ...

  



ملتان (سٹی رپورٹر)منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کرونا وائرس کے حوالے سے علمی و تحقیقی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اسی لئے اسے عالمگیر وبا قراردیا گیا ہے۔اس سے(بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

بچاؤ کیلئے بین الاقوامی ہیلتھ آرگنائزیشن جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کررہی ہیں ان پر من وعن عملدرآمد کیا جائے۔ایسی آفات پر قرآن وسنت اورنبوی تعلیمات سے ہدایات اوررہنمائی ملتی ہے۔انسانی تاریخ میں کرونا وائرس سے قبل دس تباہ کن وبائیں پھوٹ چکی ہیں جن میں ایک وبا طاعون کی تھی جسے پلیگ کہتے ہیں۔ایسی عالمگیر وباؤں کے موقع پر کچھ اقدامات حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں اورکچھ کام معاشرتی ذمہ داری کے طور پر عوام الناس کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔معاشرے کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ ایسی آفات کی آمد پر وہ اپنا ذمہ دارانہ سماجی کردار ادا کریں۔وبا سے خوفزدہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔احتیاط اورتدابیر کو نظر انداز کرنے والا اللہ اوراسکے رسول کو پسند نہیں ہے۔بیماریوں سے بچنے کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا حکم اللہ اوراسکے رسول نے سختی سے دیا ہے۔بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ سب سے بڑی آگاہی اورہدایت کا سرچشمہ حضورنبی اکر م کی تعلیمات ہیں۔حضوراکرم نے فرمایا کہ اگر تم سنو کہ کسی ملک،کسی شہر یا کسی سرزمین میں وباء پھیل گئی ہے تو اس ملک اورخطے میں ہرگز داخل نہ ہوں،اوراگر کسی خطے میں کہ وبا ء پھیل جائے اورتم پہلے سے وہاں موجود ہوں تو وہاں سے باہر نہ جاؤ۔حضوراکرم نے آج سے چودہ سوسال قبل ایسی احتیاطی تدابیر بتا دیں جن کی توثیق آج کی ماڈرن سائنس کررہی ہے کہ متاثرہ ملک،علاقہ اورمعاشرہ کا سفر اورآمدورفت روک دی جائے تاکہ اس موذی وباء سے ان علاقوں،خطوں اورملکوں کو بچایا جاسکے۔یہ ہدایات تاجدارکائنات سے طاعون کی وباء پھوٹنے پر جاری فرمائیں۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ کم علمی کی وجہ سے تقدیر اورتدبیر کے موضوعات کو خلط ملط کرتے ہیں۔تدبیر اوراحتیاط کو نظر انداز کرنے کا نام توکل نہیں ہے اورنہ ہی اس کا تعلق تقدیر سے ہے۔کرونا وائرس آنکھ،ناک اورمنہ کے زریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اگر نزلہ فلو اوربخار ہے تو کسی دوسرے کو ٹچ نہ کریں،گھر میں ہی رہیں،اس دوران مصافحہ نہ کریں،کسی کو گلے بھی نہ ملیں،اجتماعات میں جانے سے گریز کریں،اس کا اطلاق نماز جمعہ کے اجتماعات،سیاسی،سماجی میٹنگز پر بھی ہوتا ہے۔یہاں تک کہ خاندان اورگھر کے اندر بھی اس پر عمل پیرارہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام مسلمان اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود پاک کے ورد کے ساتھ 100 بار سورۃ فاتحہ کا یومیہ ورد کریں،جن کے پاس وقت کم ہو وہ اسے چالیس مرتبہ بھی پڑھ سکتا ہے۔سورۃ فاتحہ کا ورد شفاء کا باعث ہے،موت کے سوا ہر عارضہ اس ورد سے رفع ہوجاتا ہے۔

طاہر القادری

مزید : ملتان صفحہ آخر